عید کے دوسرے روز بھی سنت ابراہیمیؑ کی پیروی میں جانوروں کی قربانی

عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے فرزندان اسلام جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں آج بھی سنت ابراہیمیؑ کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے اور کہیں لوگ جانور قربان کر رہے ہیں تو کہیں لوگ سستے جانوروں کی خریداری کے لیے آج بھی منڈیاں جارہے ہیں۔

رواں سال عید الاضحیٰ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کا شکار کشمیریوں سے منسوب ہونے کے باعث مذہبی عقیدت اور سادگی سے منائی جارہی ہے۔

قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام سست روی سے جاری ہے جس کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر آلائشوں کے انبار لگے ہیں۔

بارش کے پانی اور آلائشوں سے اٹھتے تعفن نے شہریوں کے لیے سانس لینا محال کردیا ہے اور اس صورتحال سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اسی خدشے کا اظہار وزیر بحری امور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زیدی نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعے کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے اسی بات کا ڈر تھا، قربانی کے جانوروں کا خون پانی میں شامل ہونے سے ڈائریا، ٹائیفائیڈ اور ملیریا جیسے وبائی امراض پھیل سکتے ہیں اور اسی وجہ سے تمام مکاتب فکر کے علما نے اہل کراچی سے قربانی میں چند روز کی تاخیر کی درخواست کی تھی۔'

شہری انتظامیہ دعوے کرتی نظر آتی ہے کہ گلی محلوں سے آلائشیں اٹھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ جہاں بھی صفائی کی جائے وہاں چونا اور اینٹی بیکٹریا کیمیکل ضرور ڈالا جائے اور جہاں اب بھی پانی کھڑا ہے وہاں نکاسی کا کام جاری رکھا جائے۔

بیماریوں سے بچنے کے لیے مچھر مار اسپرے کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عیدالاضحیٰ کے پہلے روز کہا تھا کہ وفاقی حکومت کراچی کے عوام کی مشکلات دور کرنے اور دہائیوں سے جاری غفلت سے نجات پانے کے لیے ’جامع پیکج‘ تیار کررہی ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے شہر قائد کے تمام اراکین اسمبلی کو عید، جشن آزادی اور تعطیلات کے دوران عوام کو مدد کی فراہمی کے لیے اپنے اپنے حلقوں میں رہنے کی ہدایت کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *