آرٹیکل 370 : فرانس ویٹو کر سکتا ہے

’’ہم ہوئے ،تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے‘‘ تابعدار قسم کے لوگ ہیں۔ حاکموں کے اشاروں کو حکم کا درجہ دیتے ہیں اور ’’جھٹ پٹ اپنے بچنے‘‘ کی فکر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

عید سے تین روز قبل قومی اسمبلی کے حالیہ سیشن کا آخری اجلاس جمعہ کی صبح ہوا تھا۔آرٹیکل370کے یک طرفہ خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ابھرتی ایک نئی صورت حال کا اس اجلاس میں سرسری ذکر ہوا۔ ساری توجہ شہباز شریف صاحب کی تقریر اور وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب کی جانب سے آئی جوابی تقریر پر مرکوز رہی۔ مریم نواز شریف کی گرفتاری گرما گرم بحث کا باعث تھی۔شفقت محمود نرم گو شخص ہیں۔ جمعہ کے روز مگر اپنی تقریر کے ذریعے بہت درشتی سے یہ پیغام دینے کومجبور ہوئے کہ کشمیر پر لائن آف کنٹرول کے اس پار صورتحال جو بھی رہی ہو تحریک انصاف کی حکومت ’’سیاست دانوں کا بھیس بنائے مجرموں‘‘ کو عبرت کا نشان بنانے کی مہم کو بھلانہیں پائے گی۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو پاکستان اور بیرون ملک محلات کے حصول کے لئے استعمال ہوئی دولت کا حساب دینا ہوگا۔ کسی بھی ’’مجرم‘‘ کا قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوجانا اسے ’’مقدس‘‘ نہیں بنادیتا۔ ’’پروڈکشن آرڈر‘‘ کی روایت اب برقرار نہیں رہے گی۔سیاست دان کا ’’لبادہ‘‘ اوڑھے مجرموں کی گرفتاریوں پر پریشان ہوئے ’’صحافیوں‘‘ کو بھی شفقت صاحب نے بے نقاب کردیا۔بہت اعتماد سے دعویٰ کیا کہ اپنے دورِ اقتدار میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے میڈیا کو قابو میں رکھنے کے لئے قومی خزانے سے آٹھ ارب روپے کی خطیر رقم کا استعمال کیا تھا۔ اس کی بدولت صحافی اب اس ملک میں صحافی نہ رہے۔ ’’لفافے‘‘ بن گئے۔ ’’لفافوں‘‘ کو ’’مجرم‘‘ سیاست دانوں کے ’’حقوق‘‘ وغیرہ کی پائمالی پرٹسوے بہانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔شفقت صاحب کی تقریر بہت غور سے سنتے ہوئے میں نے خوب جان لیا کہ آنے والے دنوں میں کیا نہیں لکھنا۔ میرے اندر موجود کالم لکھ کر رزق کمانے والے فدوی نے اپنی محدودات کو پہچان لیا۔یقین مانیں شفقت صاحب کی تقریر کے بعد میں نہایت تابعداری سے تحریک انصاف کی جانب سے ’’انسدادِ کرپشن‘‘ کے لئے چلائی مہم پر توجہ دینے کو دل وجان سے تیار تھا۔ تحریک انصاف کے چند وزراء مگر کراچی کا کچرا صاف کرنے کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ اتوار کی شب اس شہر میں ایک دن میں ریکارڈ بارش ہوئی۔ صرف ایک دن میں ہوئی بارش گزشتہ تین مہینوں میں ہوئی اجتماعی بارشوں سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ اس نے ’’روشنیوں کے شہر‘‘ میں زندگی کو جس انداز میں اجیرن بنایا اس کا تذکرہ ضروری ہوگیا۔ اخبار والوں سے کہیں زیادہ توجہ اس ضمن میں 24/7چینل والوں کو دینا ضروری تھا۔ Ratingsکا تعین کرنے والے بیشترٹیلی میٹرز اسی شہر میں نصب ہیں۔Ratingsکے بغیر اشتہار نہیں ملتے۔ اشتہار کے بغیر چینل چلانا ناممکن ہے۔ بارش کے باعث پھیلی ذلت واذیت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے ’’حقیقی ذمہ داروں‘‘ کا تعین بھی ضروری تھا۔کشمیر پر قائم لائن آف کنٹرول کے اس پار جو ہورہا ہے فی الوقت نظرانداز کرنا پڑا۔مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات مگر محاورے والا وہ ’’کمبل‘‘ ہوچکے ہیںجسے چھوڑنا بھی چاہیں تو چھوڑ نہیں پائیں گے۔مودی کے بھارتی دیوانے سوشل میڈیا کے ذریعے ہم پاکستانیوں کو مسلسل طعنے دے رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے ’’تازہ ترین‘‘ حالات کو رپورٹ کرنے جو بھارتی صحافی خاص طورپر سری نگر بھیجے گئے ہیں ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ بی بی سی جیسے ادارے ٹھوس شواہد کے ذریعے ان کے دعویٰ کو جھٹلارہے ہیں۔5اگست کے آرٹیکل 370کے خاتمے والے فیصلے کے اعلان کے بعد مودی کا مشیر برائے قومی سلامتی -اجیت دوول- مستقل مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔ وہ ’’عوام میں گھل مل کر‘‘ امن وامان کو ’’یقینی بناتا‘‘ دکھایا جارہا ہے۔برطانوی دور کے ’’صاحب بہادر‘‘ اسی انداز میں ’’گڈگورننس‘‘ دکھایا کرتے تھے۔سوشل میڈیا پر مودی کے پروانے جو فضا بنارہے ہیں وہ مجھ جیسے پاکستانیوں ہی کو نہیں بے تحاشہ غیر ملکی صحافیوں اور مبصرین کو بھی سوالات اٹھانے کو مجبور کررہی ہے۔ شفقت صاحب نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے ذریعے ہمارے لئے ’’ذمہ دار صحافت‘‘ کی جو راہ طے کی تھی صرف اس تک محدود رہنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے خاتمے کے اعلان کے بعد ابھرتی صورت حال پر توجہ دینا اس لئے بھی لازمی ہوگیا کیونکہ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے اپنے آبائی شہر ملتان کے بجائے مظفر آباد میں عید کا دن گزارنے کو ترجیح دی۔ بلاول بھٹو زرداری اور نواز لیگ کی جانب سے منتخب ہوئے آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر مخدوم صاحب کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر نمازِ عید ادا کرتے نظر آئے۔ پیغام ملاکہ تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود ہماری سیاسی قیادت تاریخ کے ایک انتہائی کڑے وقت میں مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں یکسوئی سے فکر مند ہے۔دل کو تھوڑی تسلی نصیب ہوگئی۔ شاہ محمود قریشی صاحب نے بعدازاں مگر آزادکشمیر کے صدر کو دائیں ہاتھ بٹھاکر ایک پریس کانفرنس کردی۔دل کو مزید تسلی دینے کی بجائے ادا س کردیا۔

جدی پشتی مخدوموں والی رعونت کے ساتھ شاہ محمود قریشی صاحب نے مجھ جیسے جاہلوں کو حکم دیا کہ ’’احمقوں کی جنت‘‘ میں نہ رہا جائے۔ ’’اُمہ‘‘ ہمارے دُکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے بھارت میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائے گا تو اس کونسل کے اراکین ’’ہارلئے‘‘ ہمارے منتظر نہیں ہوں گے ۔ہماری جانب سے اٹھائے مسئلہ کو ’’ویٹو‘‘ کے استعمال کے ذریعے ردی کی ٹوکری میں بھی ڈالا جاسکتا ہے۔شاہ محمود قریشی صاحب کی زبان اور لہجے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر انہوں نے کافی حد تک سچ بیان کیا۔جان کی امان پاتے ہوئے مگر یہ سوال اٹھاناہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے ’’اُمہ‘‘ کا دل جیتنے کے ڈھول کون بجارہا تھا۔ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو عمران خان صاحب کی صورت ’’اُمہ‘‘ کا ایک نیا قائد مل گیا ہے۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے رجوع کرنے کے امکان کا ذکر بھی مجھ جیسے دوٹکے کے رپورٹروں نے نہیں کیا تھا۔ہمارے وزیر خارجہ عوامی جمہوریہ چین تشریف لے گئے تھے۔وہاں سے واپسی کے بعد انہوں نے خود ارشاد فرمایا تھا کہ ہم سے ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی رکھنے والا چین پاکستان کی جانب سے آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد نمودار ہوئی صور تحال کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے روبرو رکھنے کا حامی ہے۔ ان کے اس بیان ہی سے یہ امید بندھی کہ ہم شاید جلد ہی سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے۔یہ جاننے کے لئے آ پ کوامریکہ کے فلیچر سکول جیسے کسی ادارے سے پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں کہ اگر پاکستان نے آرٹیکل 370کی بابت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا تو ممکنہ ویٹو کس ملک کی جانب سے آئے گا۔ تاریخی طورپر ایسا ویٹو سردجنگ کی دہائیوں کے دوران سوویت یونین کی جانب سے استعمال ہوتا تھا۔سوویت یونین مگر اب روس ہوچکا ہے۔ شاید ماسکو تاریخی روایت برقرار نہ رکھ پائے۔ اس بار میری ناقص رائے میں ویٹو کا استعمال فرانس کی جانب سے ہوگا۔ جی ہاں یہ یورپ کا وہی ملک ہے جس کے صدر نے عمران خان صاحب کو پاکستان کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد فون پر مبارک باد دینے کی کوشش کی تھی۔ ہمارے وزیر اعظم اس وقت ہمارے سینئر ترین صحافیوں کے ایک گروہ سے گفتگو میں مصروف تھے۔ عمران خان صاحب نے اپنے سٹاف کو کہا کہ فرانس کے صدر کو ان کی مصروفیت کا بتاکر ’’بعد میں فون کرنے‘‘ کی بات کی جائے۔فرانس کے صدر کو جس ’’حمیت‘‘ کے ساتھ ہمارے وزیر اعظم نے گویا Snubکیا اسے ہم نے ’’بریکنگ نیوز‘‘ بناکر اچھالا۔ کئی روز تک اس کے بارے میں تعریفی کالم لکھے گئے۔ فرانس نے مسعود اظہر کو اقوامِ متحدہ کی ’’دہشت گردوں‘‘ والی فہرست میں ڈلوانے کے لئے اپنا سفارتی اثرورسوخ بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ ممکنہ ویٹو بھی اب اس کی جانب سے آئے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *