بیکار کی باتیں

کچھ عید کی چھٹیوں کا کرشمہ ہے۔ کوئی اور بات ذہن میں آئی نہیں، پچھلے زمانے کی طرف ذہن لوٹ گیا۔ جوانی کنفیوزڈ ہی گزری۔ نوکریوں پہ ہاتھ آیا لیکن وہ دل کو نہ لگیں۔ فوج میں جانا تو ایک حادثہ تھا۔ ہم خوابوں میں رہنے والے تھے۔ ہم کہاں اور فوج کی عملی زندگی کہاں۔ اس لئے ناکام ہی گزری۔ فوج میں سالانہ رپورٹ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ انہی رپورٹوں سے آگے کا راستہ استوار ہوتا ہے۔ ہمارے نصیب میں ہر سال بُری سے بُری رپورٹ آئی۔ صرف ایک رپورٹ اچھی تھی اور وہ تھی 1971ء کی جنگ کی ۔ ایک مرتبہ جب جنرل حمید گل سے اپنی فوجی زندگی کے بارے میں گفتگو ہوئی تو انہیں یہ احوال بتائے۔ انہوں نے تسلی دی کہ جنگ کی رپورٹ ہی اصل رپورٹ ہوتی ہے ۔ وہ اگر ٹھیک تھی تو پھر سمجھو کہ سب ٹھیک تھا۔
فوج کے دن البتہ مشکل سے گزرے کیونکہ دل نہیں لگتا تھا تو اور مشاغل میں وقت صَرف ہوا۔ نجات فارن سروس کی نوکری سے ملی ۔ بھٹو صاحب بھی عجیب آدمی تھے۔ بڑے کامیاب اور دبنگ وزیر خارجہ رہے لیکن وزیر اعظم بنے تو انہوں نے فارن سروس میں ایک ٹارپیڈو داغ دیا۔ اس پلان کی منظوری دی کہ فارن سروس میں ڈائریکٹ بھرتی ہو گی ۔ شرط صرف یہ تھی کہ بی اے پاس ہونا چاہیے۔ والد صاحب تب پی پی پی کے ٹکٹ پہ ایم این اے منتخب ہوئے تھے اور ہم سب‘ جن کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے پی پی پی سے تھا‘ نے فارن سروس کی نوکری کیلئے درخواستیں دے ڈالیں۔ بنیادی معیار مضبوط سفارش کا تھا۔ ایم این اے ہونے کے حوالے سے ہماری سفارش تگڑی ہی تھی۔ لہٰذا فارن سروس کی بھرتی مشکل مرحلہ ثابت نہ ہوا۔ 
لیکن وہاں بھی دل نہ لگا۔ اُس زمانے میں فارن سروس کی نوکری بہت پرکشش سمجھی جاتی تھی۔ باہر کا سفر اُس وقت کے پاکستان میں اتنا عام نہ تھا اور فارن سروس میں تو پوسٹنگ ہی باہر ہوتی ہے۔ لیکن بات مزاج کی ہے ۔ 1977ء کے ہنگامہ خیز دن شروع ہوئے، بھٹو صاحب کے خلاف تحریک اُٹھی اور دور افتادہ ماسکو میں بیٹھے ہمارا دل بھی مچلا کہ اگر کوئی پاکستان میں انقلاب کی اُمید ہے تو اس میں شامل ہونا ضروری ہے۔ بہت سارے کنفیوزڈ نوجوانوں کی طرح ہم بھی اس زمانے میں مارکسزم کی طرف مائل تھے۔ مارکسزم کے بارے میں زیادہ پڑھا نہ تھا لیکن ایک جذباتی لگاؤ تھا۔ ویسے بھی وہ زمانہ مارکسسٹ نعروں کا تھا ۔ ویت نام کی جنگ ابھی ابھی ختم ہوئی تھی اور یہ نعرہ مقبول عام تھا ''مشرق سرخ ہے‘‘ (The East is Red)۔ بھٹو صاحب بھی کبھی کبھی ماؤ ٹوپی پہن لیتے تھے ۔ سوشلزم کے الفاظ پاکستانی سیاسی گفتگو کا تب حصہ تھے ۔ بھٹو مخالف تحریک تو اُن کے خلاف تھی لیکن ایک ہم تھے جنہوں نے سمجھا کہ پاکستان میں جو شورش چل رہی ہے اُس میں سے انقلاب کا کرشمہ بھڑک سکتا ہے۔ ایسے جذبات کا اب خیال آتا ہے تو حیرانی ہوتی ہے، کچھ اپنے پہ کچھ حالات کی ستم ظریفی پہ ۔ انقلاب نے کیا آنا تھا جنرل ضیاء الحق آ گئے۔ اور پھر پاکستان ایک اور ڈگر پہ چل نکلا۔ اب بھی سوچا جائے تو یہ کسی اور کا پاکستان نہیں ضیاء الحق کا ہی پاکستان ہے، اتنے گہرے نقوش اُن کی حکمرانی چھوڑ گئی۔ 
ضیاء الحق کے ہی دور میں ہماری صحافت شروع ہوئی۔ اُس صحافت کے دو نمایاں پہلو تھے۔ عظیم خیالات اور بے پناہ غربت۔ مظہر علی خان مرحوم کے ویو پوائنٹ رسالہ سے مضمون نویسی شروع کی ۔ ہفتہ وار مضامین میں کیا محنت کی جاتی تھی ۔ بار بارکا لکھنا اور بار بار کا صحیح کرنا۔ پھر کہیں لاہور دفتر میں مضمون بھیجا جاتا اور عجیب تجسس میں اس کے چھپنے کا انتظار ہوتا۔ ٹیڑھا میڑھا مضمون صفحے پہ آتا اور ہم سمجھتے کہ کیا تیر مارا ہے ۔ لیکن ضیاء دور کی ایک بات اچھی تھی۔ اُس اندھیرے نے ہم جیسوں کی زندگیوں کو ایک معانی دیا۔ دن اِس اُمید سے گزرتے تھے کہ شب اتنی اندھیری نہیں رہ سکتی اور روشنیاں ضرور آئیں گی۔ یہ ایسا ویسا خیال بھی نہ تھا بلکہ دل میں ایک پختہ حیثیت رکھتا تھا۔ اسی لیے جب بینظیر بھٹو کی شکل میں امید کی کرن اُٹھی تو ہم جیسے سمجھے کہ یہی وہ موقع اور لمحہ ہے جس کا انتظار تھا۔ 
بینظیر بھٹو نے لاہور میں قدم رکھا تو لاکھوں کے مجمع میں ہم بھی تھے۔ وہ پنڈی آئیں تو ہم بھی قافلے کے ساتھ ساتھ تھے۔ کراچی گئیں تو ہمارا بھی کراچی جانا ضروری ٹھہرا۔ مرحوم سلمان تاثیر کی اُن دنوں صحبت رہتی۔ وہ بھی زندگی میں کسی مقصد کی تلاش میں تھے اور بینظیر بھٹو کی صورت میں ہی اُنہیں وہ مقصد نظر آیا۔ 
بہرحال اُس زمانے کی عجیب سی کیفیت تھی ۔ آج کے دور سے مقابلہ کریں تو وہ بہت بھلا لگتا ہے ۔ کم از کم کچھ خیالات اور تصورات تو تھے جن کے گرد زندگی گھومتی تھی۔ پیسوں کے بارے میں اُس زمانے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ بس خرچہ چلانے کیلئے کچھ ہوتا اور اِدھر اُدھر جانے کیلئے ٹکٹ کی استطاعت ہوتی تو اپنے آپ کو کسی سہگل یا آدم جی سے کم نہ سمجھتے۔ ویو پوائنٹ میں مضمون کیا لکھتے تھے اُس کے تھوڑے سے سکے ہی ملتے۔ پھر ڈان میں لکھنا شروع کیا اور وہ پیسے بھی بس خرچے کیلئے کافی تھے۔ آج کی صحافت یکسر مختلف ہے ۔ اب تو اِس میں خاطر خواہ پیسہ ہے۔ جن کی ٹھیک نوکریاں لگی ہیں اُن کی دیکھنے والی ٹھاٹ ہے۔ لیکن بس ٹھاٹ ہی ہے ۔ اُس زمانے کی نسبت آج کی صحافت خالی اور کھوکھلی نظر آتی ہے۔ مقصد اس صحافت کا کیا ہے، کچھ معلوم نہیں۔ بس سکوں کی دوڑ ہے کہ کہاں سے پیسے زیادہ مل رہے ہیں۔
تب اہمیت لکھے ہوئے لفظ کی تھی۔ آج وہ تقریباً بے وقعت ہو گیا ہے ۔ اخبارات کی حالت پتلی ہے اور مضمون نگاری تو کافی حدتک مر چکی ہے ۔ کون آج کل پڑھتا ہے اور کس چیز کو اہمیت دی جاتی ہے؟ اہمیت ہے تو ٹیلی ویژن سکرین کی اور وہاں پہ زیادہ تر جو چیز چلتی ہے وہ بے معنی شور شرابہ ہے۔ ہم بھی انہی پانیوں میں تیر رہے ہیں۔ اب سوچ یہ نہیں کہ ضیاء دور کے بعد کیا آئے گا اور کون سا نظریہ زور پکڑے گا‘ بلکہ یہ کہ سال کے آخر تک کتنے پیسے جمع ہو جائیں گے۔ وہ والا پلاٹ تو لے لیا لیکن وہ جو اگلے والا پلاٹ ہے وہ بھی تو قریب آنا چاہیے۔ صحافت ہماری آج کل بس یہی رہ گئی ہے۔
جن کی لگی ہوئی ہے اُن کے حال آسودہ ہیں۔ لیکن مجموعی طور پہ میڈیا یا صحافت کا ستارہ نیچے کو جا رہا ہے۔ آمدنیاں وہ نہیں رہیں اور انڈسٹری سے بہتوں کی چھٹی ہوگئی ہے۔ جن کی لگی ہوئی ہے اُن کی حالت تو ٹھیک ہے لیکن بہتوں کی اتنی ٹھیک نہیں۔ بہرحال یہ زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔ جب ہم نے اپنی صحافت شروع کی تو کون سوچ سکتا تھا کہ انٹرنیٹ نامی چیز بھی آ جائے گی۔ سوشل میڈیا کا تصور نہ تھا۔ آج سوشل میڈیا کی اہمیت اخبارات سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اور ہم گزرے ہوئے زمانے کے لوگ ان نئے رجحانات سے پوری طرح آشنا نہیں۔ ہمارے کئی ہم عصر ہیں جو نئی چیزوں میں بہت تیز ہیں لیکن اپنی بات کروں تو Twitter کا کبھی استعمال نہیں کیا‘ گو اپنے نام سے فیک اکاؤنٹ بنتے رہتے ہیں۔ Facebook پہ شاذ و نادر ہی جاتے ہیں اور Instagram کا پتہ بھی نہیں کہ یہ کیا بلا ہے۔ 
یہ بھی عجیب بات ہے کہ ماڈرن پاکستانی میڈیا کا گارڈ فادر ایک ڈکٹیٹر تھا، جنرل پرویز مشرف۔ ہمارے جمہوریت پسندوں میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ نجی چینلوں کی اجازت دی جائے۔ مشرف میں یہ ہمت تھی کہ انہوں نے نجی چینلوں کو آنے دیا۔ میری اس بات کو کئی ساتھی اچھا نہیں سمجھتے کہ کم از کم سال میں ایک مرتبہ ٹی وی اینکروں کو با جماعت مشرف کی فوٹو کے سامنے کھڑا ہو کر تعظیماً جھکنا چاہیے۔ ہماری صحافتی برادری میں اگر برانڈڈ کپڑوں کی روایت پیدا ہوئی ہے تو زیادہ انہی کی وجہ سے۔ بہرحال یہ ایک اور بحث ہے۔ 
ہمارے زمانے کی صحافت ایک خاص ماحول کی پیداوار تھی۔ وہ ماحول اب رہا نہیں۔ ہم اوکھے سوکھے نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن وہ تقاضے کیا ہیں ہم پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *