یوم آزادی ۲۰۱۹

آج ۱۴ اگست ۲۰۱۹ ہے۔ پاکستان کو برطانوی راج سے آزادی ملے ۷۲ برس گزر گئے۔ ہم اور ہمارا ہمسایہ ملک بھارت یوم آزادی بہت جوش و ولولہ سے مناتے ہیں۔ میں بھی اپنے سکول اور گھر میں بتائی اور سکھائی جانے والی رویات کے مطابق یہ دن مناتی ہوں۔ غلامی انفرادی ہو یا قومی اس سے چھٹکارا یقینا" ایک خوشی ہے اور اسے منایا جانا چاہئے۔ خوشی کے اظہار کے طریقے الگ ہو سکتے ہیں لیکن یہ امر یقینی ہے کہ جشن آزادی منانے والا ہر بچہ جوان اور بوڑھا جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوتا ہے۔ میں نے سڑکوں گلیوں اور بازاروں میں ہر عمر کے افراد کو اس دن کی خوشی مناتے دیکھا ہے۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کیا سچ میں یہ سب لوگ غلامی اور آزادی کے فرق کو جانتے ہیں۔ وہ غلامی جس کا ہمیں آج احساس بھی نہیں لیکن ہم اب بھی کسی نہ کسی صورت اس میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ غلامی ہے جس میں اکثریت کسی اقلیت کو، طاقتورکسی کمزور کو ، امیر غریب کو، سیانا بے وقوف کو، اعلی ادنی کو، عالم جاہل کو اور بہتر کمتر کو جکڑتا ہے۔ ہم اپنے معاشرے کو برطانوی راج سے تو آزاد کروا چکے لیکن زہنی غلامی ۷۲ سالوں میں بھی کم نہ ہوئی۔
آئیے آج ایک کوشش کرتے ہیں کہ ہم نے جس جس کو غلام بنا رکھا ہے اسے آزاد کر دیتے ہیں۔ اگر آپ ایک محبوب ہیں تو آپ نے کسی محبت کرنے والے کواپنا غلام بنا رکھا ہو گا۔ یقینا" آپ کو اس میں بہت مزہ بھی آتا ہو گا لیکن زرا سوچئے کہ وہ شخص اگر آزادی سے آپ سے محبت کرے تو اس کا مزہ ہی کچھ اور ہو گا۔ اگر آپ بیوی یا شاہر ہیں تو اپنے جیون ساتھی کو اس غلامی سے آزاد کیجئے۔ اسے اس کی زندگی جینے کا اس قدر حق دیجئے کہ وہ آپ سے آزادی کی کبھی خواہش نہ کرے۔ اگرقدرت نے آپ کو فرمانبردار اولاد دی ہے تواس اولاد کو اپنے احکامات کی غلامی سے آزاد کیجئے اور ان کے ارادے اور خواہش میں اپنے ارادے اور خواہش کو پورا ہوتا دیکھئے۔ اگر آپ استاد ہیں تو شاگرد کو اپنے محدود علم کی قید سے آزاد کیجئے۔ اسے علم اور فن کے سمندر میں آزادی سے تیرنے دیجئے، اسے وہ گوہر نایاب ڈھونڈنے کے قابل بنائیے جو غلام ذہن کبھی نہیں ڈھونڈ پاتے۔ اگر آج آپ ایک افسر ہیں تو اپنے ماتحت کو اس خوف سے آزاد کیجئے کہ وہ آپ کے قلم کی نوک تلے ہے۔ اسے سیکھنے سوچنے سمجھنے اور پنپنے کا موقع دیجئے وہ آپ کی امید سے بھی بہتر کارکردگی دکھائے گا۔
میرے نزدیک ہمارے آباء نے کمال کاوش اور بے مثال قربانی دی تا کہ ہمیں غلامی اور غلامانہ سوچ سے آزادی دلوائیں۔ ہم نے اس پیغام کو سمجھا ہی نہیں۔ وہی افسر شاہی اور وہی جاگیرداری آج بھی ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔ ہم نے ترقی تو کی ہے لیکن غلامی کی زنجیروں کو نہیں توڑ پائے۔ ہم نے تعلیم تو حاصل کی لیکن لکیر کی فقیریسے زائد اپنے طالب علم کو سکھا ہی نہیں پائے۔ آدھے ادھورے سچ اور نامکمل علم کی بنا پر ڈگریاں پانے والے طلبہ کسی شعبہ میں اعلی کارکردگی نہیں دکھا پائے۔ دنیا کہیں سے کہیں پہینچ گئی ہے، اب یہ بہانہ کافی نہ ہو گا کہ ہمیں تو ابھی سو سال بھی نہیں ہوئے۔ یہ اکیسویں صدی ہے۔ دنیا میں علم و فن کیسی کیسی معراج کو پہنچ چکا ہے۔ یہ معراج تنگ نظری اور ذاتیات سے باہر نکل کر حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک آزاد فضا قائم کرنا ہو گی۔ اپنے گھر ۔ گلی محلے اور ادارے سے ہی آگاز کیا جا سکتا ہے۔ خود کو بہتر اور دوسروں کو کمتر سمجھنا ہی وہ سوچ تھی جس کے خلاف ہمارے قائد اور ان کے ساتھی کھڑے رہے۔ اعلی اور ادنی کی تفریق نے معاشروں کو کبھی پروان نہیں چڑھنے دیا۔ اگر ہمیں اصل معنی میں ترقی کرنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم گھٹن اور منافرت کا خاتمہ کریں۔ تمام رنگ نسل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھائی اور بہنوں کو محفوظ اور آزاد ماحول میں جینے کی آزادی دیں۔ اپنے بچوں کو سوال پوچھنے کی آزادی دیں، نوجوانوں کو علم و فنون میں تجربات کرنے کی آزادی دیں، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی زندگی بہ خوشی گزارنے کی آزادی دیں۔ اپنے ارد گرد موجود غلامی کی زنجیروں کو پہچانئے اور توڑ ڈالیے۔

آئیے یوم آزادی منائیں اس وعدے کے ساتھ کہ ہم کسی کی آزادی صلب نہیں کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *