شہلا رشید کون ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں؟

کشمیر کی صورتحال: انڈیا میں انسانی حقوق کی کارکن شہلا رشید کے ٹویٹس پر ہنگامہ

انڈیا میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کی سابق نائب صدر شہلارشید ان دنوں سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہیں۔ وہ حال ہی میں تشکیل پانے والی کشمیر عوامی تحریک پارٹی کی رکن بھی ہیں۔

شہلا نے جب سے ایک دس نکاتی ٹویٹ کی ہے، تب سے سوشل میڈیا پر ناصرف ان سے منسلک مختلف ہیش ٹیگز ( ’شہلا رشید‘، ’اریسٹ شہلا رشید‘، ’آرمی ورسز شہلا‘) نظر آرہے ہیں بلکہ ایک انڈین نیوز چینلز کی جانب سے ایسا پول بھی چلایا گیا جس میں ان کو گرفتار کیا جانا چاہیے یا نہیں، کے بارے میں عوامی رائے لی جا رہی تھی۔

اپنی ٹویٹس میں شہلا نے انڈین سکیورٹی فورسز پر وادیِ کشمیر میں عام شہریوں کے خلاف تشدد کے الزامات عائد کیے تھے جسے انڈیا کی فوج نے ’بے بنیاد‘ اور ’غیر مصدقہ` کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک وکیل الکھ آلوک سریواستو نے شہلارشید کی گرفتاری کے لیے پولیس کمشنر کے دفتر میں ایک شکایت داخل کی ہے۔

شہلا رشید پر الزامات کیا ہیں؟

انڈین میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق الکھ آلوک سریواستو نے فوج اور انڈین حکومت کے خلاف جعلی خبریں پھیلانے کے جرم میں شہلارشید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی شکایت کو دہلی پولیس کے سپیشل سیل کو تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

الکھ آلوک سریواستو نے پیر کو جو فوجداری شکایت درج کروائی ہے، اس میں ایسے جرم کی بات کی گئی ہے جو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 124-اے کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رشید کا مزید جرم ’مختلف طبقات کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا‘ تعزیرات ہند کی دفعہ 53، 153- اے، 504 اور 505 کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2002 کے بھی منافی ہے۔

’میں اپنے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہی‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ شہلا رشید کو ٹوئٹر پر ٹرول کیا جا رہا ہو یا انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو لیکن پہلی مرتبہ ان کی ٹویٹس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا گیا ہے۔

کشمیر

شہلا کہتی ہیں 'جب بات فوج کی آئے تو یہاں قوانین کو منسوخ کرنے والے قوانین موجود ہیں۔ بات ثبوتوں کی نہیں، اگر میں ثبوت دے بھی دوں تو کیا ہو جائے گا؟ کچھ بھی نہیں ہو گا'

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہلا کا کہنا تھا ’ایسے وقت میں جب لاکھوں کشمیری خاندان آپس میں رابطہ نہیں کر پا رہے، جب کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جاری ہیں، عام لوگوں کے خلاف پیلٹ گن، پیپر گیس اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، وہاں کے لوگوں کو خبروں تک کسی قسم کی کوئی رسائی نہیں، ذرائع مواصلات منقطع ہیں، تو ایسے وقت میں، میرے خلاف کسی قانونی چارہ جوئی سے مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں اپنے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہی اور نا ہی خود کو لے کر پریشان ہوں۔‘

’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توجہ کشمیر پر اور جو کچھ وہاں ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے اس پر رکھیں۔ جس طرح سے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا اور ہمارے حقوق ہم سے چھینے گئے، ہماری ساری توجہ اس پر ہونی چاہیے۔‘

’کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو بھی کوئی قانونی حقوق حاصل نہیں‘

شہلا کہتی ہیں کہ پچھلے دو ہفتوں سے کشمیر کا ہائیکورٹ غیر فعال ہے اور وہاں کسی کیس کی سماعت نہیں ہوئی۔ ’اے ایف پی کی رپورٹ میں آیا ہے کہ کم از کم چار سے چھ ہزار افراد گرفتار کیے گئے ہیں، تو ایسے افراد کے خاندان والے ہائیکورٹ میں حبسِ بے جا کی رپورٹ تک نہیں لکھوا سکتے۔ کشمیر میں ہر قسم کا قانون معطل ہے، کوئی لا اینڈ آرڈر ہی نہیں۔‘

دہلی ائیر پورٹ سے شاہ فیصل کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’کوئی ایسا قانون نہیں جو شاہ فیصل کو ملک سے باہر جانے سے روک سکتا ہو، لیکن چونکہ وہ ایک کشمیری ہیں لہذا انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دہلی کے ائیر پورٹ پر تھے۔‘

’ایسا لگتا ہے جیسے ناصرف جموں و کشمیر بلکہ وہاں سے باہر رہنے والے کشمیریوں کے بھی کوئی قانونی حقوق ہی نہیں، جیسے انڈیا کے کوئی قوانین کشمیریوں پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔‘

وہ کہتی ہیں انڈین قوانین کے مطابق وہ نا تو شاہ فیصل کو گرفتار کر سکتے تھے، نا انھیں ان کی فلائٹ پکڑنے سے روک سکتے تھے اور نا ہی ان کی مرضی کے خلاف فلائٹ پر بٹھا کر کشمیر لے جا سکتے تھے۔

شہلا رشید

’ایسی صورتِ حال میں جب کھیل کے قوائد ہی بدل چکے ہوں، حکومت میڈیا کو کچھ دکھانے کی اجازت نہ دے رہا ہو، مجھ سے ثبوت مانگنا بے وقوفی ہے'

شہلا کہتی ہیں جب انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو ہمیں توجہ ان پر رکھنی چاہیے۔

’جب کھیل کے قواعد ہی بدل چکے ہوں تومجھ سے ثبوت مانگنا بے وقوفی ہے‘

ٹوئٹر پر انڈین فوج پر عائد کیے جانے والے الزامات کے بارے میں شہلا کہتی ہیں ’ میں نے جو کچھ بھی لکھا وہ کشمیر سے آنے والے لوگوں سے کی گئی گفتگو پر مشتمل ہے اور انسانی حقوق کی کارکن ہونے کے ناطے میرا کام ہے کہ میں کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر روشنی ڈالوں۔‘

وہ کہتی ہیں میں نے انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اچھے کاموں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ’میں نے یہ بھی ٹویٹ کیا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل موجود ہے، دوائیں مل رہی ہیں اور مختلف علاقوں میں انتظامیہ صحت کی سہولیات کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

’لیکن یہ حقیقت خاصی حیران کن ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک نے یہ ضروری سمجھا کہ وہ میرے بیان پر ردِعمل ظاہر کریں۔‘

شہلا انڈین فوج سے غیر جانب دارآنہ تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے کہتی ہیں ’اگر ایسی کوئی تحقیقتات ہو تو میں بخوشی انھیں ان تمام واقعات کی تفصیلات فراہم کروں گی جو میں نے شئیر کیے۔‘

’ابھی میرے سے ثبوت مانگے جا رہے ہیں جبکہ حکومت نے خود ہر قسم کی معلومات پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لوگوں کے لیے مواصلات کے تمام ذارئع بند ہیں، اگر کوئی کشمیر میں کیے جانے والے جرائم کی ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو مختلف جگہوں پر انڈین فوج یا سی آر پیز (نیم فوجی دستوں) یا پپیرا ملٹری یا پولیس انھیں ڈاکیومنٹ کرنے سے روک رہے ہیں، کشمیر میں صحافیوں سے ان کے موبائل چھینے جا رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’یہ کوئی سنی سنائی یا قیاس آرائیاں نہیں، میں نے جو کچھ بھی لکھا اور جو کہہ رہی ہوں وہ سب حقیقت پر مبنی ہے۔‘

کشمیر

’ایسا لگتا ہے جیسے ناصرف جموں و کشمیر بلکہ وہاں سے باہر رہنے والے کشمیریوں کے بھی کوئی قانونی حقوق ہی نہیں‘

شہلا کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں جب کھیل کے قوائد ہی بدل چکے ہوں، حکومت میڈیا کو کچھ دکھانے کی اجازت نہ دے رہا ہو، مجھ سے ثبوت مانگنا بے وقوفی ہے۔‘

’بات فوج کی آئے تو یہاں قوانین کو منسوخ کرنے والے قوانین موجود ہیں‘

شہلا کا کہنا تھا ’ذرائع مواصلات پر سے پابندیاں ہٹا کر دیکھیں، پریس اور رپورٹروں کو کشمیر جانے کی اجازت دیں تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں جھوٹ بول رہی تھی یا نہیں۔‘

’بات ثبوتوں کی نہیں، ماضی میں بھی ایسے جعلی مقابلے ہوتے رہے ہیں جیسے کہ پتھریبل کا واقعہ (جس کا ذکر میں نے اپنی ٹویٹ میں کیا) جس کے بارے میں کافی تعداد میں شواہد موجود تھے کہ یہ بہیمانہ قتل تھا لیکن فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے قوانین کے باعث سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ ہاں جی قتل ہوئے ہیں لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہم تفتیش کی اجازت تک نہیں دے سکتے۔‘

وہ کہتی ہیں ’جب بات فوج کی آئے تو یہاں قوانین کو منسوخ کرنے والے قوانین موجود ہیں۔ بات ثبوتوں کی نہیں، اگر میں ثبوت دے بھی دوں تو کیا ہو جائے گا؟ کچھ بھی نہیں ہو گا۔‘

’فوج اگر اس وعدے کے ساتھ غیر جانب دارآنہ تحقیقات کا آغاز کرے کہ جنھیں الزامات کا سامنا ہے ، اگر وہ ثابت ہو گئے تو ان افراد کا کورٹ مارشل کیا جائے گا تو میں باخوشی فوج کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں۔‘

میجر گوگوئی والے واقعے (میجر لیٹول گوگوئی نے مبینہ طور پر اپنے کارواں کو سنگ باروں سے بچانے کے لیے ایک مقامی کشمیری کو جیپ سے باندھا تھا) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’تب ثبوت ساری دنیا کے سامنے موجود تھے لیکن حکومت نے کیا کر لیا؟ میجر گوگوئی کو کوئی سزا دینے کے بجائے انھیں ملک کے فوجی سربراہ کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا۔‘

کشمیر

’فوج اگر غیر جانب دارآنہ تحقیقات کا آغاز کرے تو میں باخوشی فوج کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں‘

شہلا کہتی ہیں بات ثبوتوں کی نہیں، بات کشمیر کے بارے میں رویے کی ہے۔ ’کشمیر کے بارے میں مرکزی حکومت کا رویہ کیا ہے؟ ان کی اپروچ یہ ہے کہ کشمیریوں کے کوئی حقوق نہیں۔ تو ایسے میں، میں ثبوت لے کر آؤں یا نہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

’ہاں کشمیریوں کو لے کر عام خیال یہی ہے کہ کشمیری کچھ بھی کہیں، وہی مجرم ہیں، ان کا اعتبار نہیں کیا جانا چاہیے اور انڈیا کی فوج تو بہترین ہے وہ کچھ غلط کر ہی نہیں سکتی۔ کشمیری ہی برے ہیں، وہی دہشت گردوں اور شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ جیسوں کے ہمدرد ہیں۔`

وہ کہتی ہیں ثبوتوں کی عدم موجودگی مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ کشمیریوں کے بارے میں یہی عام رویہ ہے۔‘

شہلا کے دس نکاتی ٹویٹس کیا ہیں؟

شہلا رشید اپنے دس نکاتی ٹویٹ کے بعد سے ٹرول کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی مختلف معاملوں میں انھیں ٹرول کیا جاتا رہا ہے۔ اکثر اوقات وہ ٹرولنگ کا شدومد کے ساتھ جواب دیتی ہیں اور اس بار بھی وہ بعض ٹویٹس کا جواب دے رہی ہیں۔

ٹویٹ

انھوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ کشمیر سے آنے والے بعض لوگوں نے حالات کے بارے میں چند چیزیں بتائی ہیں:

1۔ سرینگر اور پڑوسی اضلاع میں نقل و حمل کی بہت حد تک اجازت ہے۔ مقامی پریس پر پابندیاں عائد ہیں۔

2۔ کھانا پکانے والی گیس کی کمی شروع ہو گئی ہے اور گيس ایجنسیاں بند ہیں۔

3۔ گیس سٹیشن شام سات بجے کے بعد کھل رہے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل شہری علاقوں میں دستیاب ہے اور شاہراہوں پر بعض مقامات پر پیٹرول سٹیشن کھلے ہوئے ہیں۔

4۔ رسد ابھی تک دستیاب ہے۔ بچوں کی خوراک کمیاب ہے۔ لوگوں کے پاس دوائیں ختم ہونے لگی ہیں۔

ٹویٹ

5۔ رابطوں کے مکمل منقطع ہونے کے سبب لوگوں کو انٹرویوز کے نوٹیفیکیشن نہیں مل پا رہے ہیں۔ میں نے بذات خود ان امیدواروں کے گھر لوگوں کے ذریعے انٹرویو نوٹسز بھجوائے ہیں جن کے نوٹسز آ چکے تھے۔ ان کے دوست ان کے لیے اسے ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے تھے کیونکہ اس کے لیے او ٹی پی (خفیہ کوڈ) کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے آتے ہیں۔

6۔ جن کے پاس سیٹلائٹ ٹی وی ہے وہ اب تک خبریں دیکھ سکتے ہیں۔ ڈی 2 ايچ سبسکرپشن کی میعاد ختم ہو رہی ہے اور اسے صرف ریاست کے باہر سے ریچارج کیا جا سکتا ہے۔ میں نے خود بھی کئی لوگوں کے لیے ریچارج کروایا ہے۔

7۔ حکام مختلف اضلاع میں جا کر طبی سہولیات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ٹویٹ

8۔ لوگوں کا کہنا ہے جموں و کمشیر پولیس کا امن و امان کی صورتحال پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ ان کو بے اختیار کر دیا گیا ہے۔ تمام معاملات نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ ایک ایس ایچ او کا ایک سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکار کی شکایت پر تبادلہ کر دیا گيا۔ ایس ایچ اوز کے ہاتھوں میں ڈنڈے ہیں اور ان کے پاس سرکاری ریوالورز نہیں دیکھے جا رہے۔

9۔ مسلح فوجی راتوں کو گھروں میں گھس رہے ہیں، لڑکوں کو اٹھا رہے ہیں، گھروں میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں، دانستہ طور پر راشن کو زمین پر بکھیر رہے ہیں، تیل کے ساتھ چاول کو ملا رہے ہیں وغیرہ۔

10۔ شوپیاں میں چار افراد کو آرمی کیمپ میں بلایا گیا اور ’پوچھ گچھ (تشدد) کی گئی۔ ان کے قریب ایک مائیک رکھا گیا تاکہ سارا علاقہ ان کی چیخیں سنے اور دہشت زدہ ہو۔ اس چیز نے تمام علاقے میں خوف کا ماحول پیدا کردیا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

شہلا کی ان ٹویٹس کو تقریباً تین ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے جبکہ اس پر ڈھائی ہزار کمنٹس بھی ہیں اور چھ ہزار سے زائد لوگوں نے انھیں لائیک کیا ہے۔

کشمیر

شہلا کی ٹویٹس کے آخری تین نکات بعض لوگوں کے لیے زیادہ پریشان کن ہیں۔

ایک صحافی بھوپیندر چوبے نے شہلا رشید سے پوچھا کہ ’لوگ کہاں مارے جا رہے ہیں؟ شواہد دکھائیں؟ یہ ایسی خبریں نہیں ہیں جن پر پارٹی کی سیاست کھیلی جائے۔ یہ خبریں انڈیا کی حکومت کو موقع دینے والی ہیں۔ ہاں، لوگوں کے لیے پریشانی ہے لیکن ریاستی دہشت گردی؟‘

شہلا نے اس کے جواب میں لکھا ’براہ کرم خبریں پڑھیں۔ میں آپ کے لیے صبح کا اخبار نہیں لا سکتی۔ اچھا تو یہ ہے کہ اپنے رپورٹروں سے کہیں کہ کشمیر جائیں اور مودی حکومت کی پی آر ایجنسی کے طور پر کام کرنے کے بجائے کچھ حقیقی گراؤنڈ رپورٹنگ کریں۔ اپنے رپورٹروں سے کہیں کہ شوپیاں یا صفا کدل جائیں اور رپورٹ کریں۔‘

اپنی گرفتاری کے مطالبے والی ایک ٹویٹ کے جواب انھوں نےلکھا ’میں ایک عام کشمیری ہوں۔ ایسے حالات میں صرف گرفتار ہونا بڑی رعایت ہے۔ سری نگر میں ایک 65 سالہ شخص پولیس کے ذریعے چھوڑے جانے والے پیپر گیس کی وجہ سے دم گھٹنے سے مر جاتا ہے۔ ایک 17 سالہ لڑکا اس بحران کا پہلا مرنے والا بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں گرفتاری کیا ہے؟‘

اپنی ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’کیا یہ مزے دار نہیں کہ دائیں بازو والے آپ کو مقدمات کی دھمکی دیں جبکہ کشمیر میں اس وقت ہر قانون اور قانون کی بالا دستی کی آخری ڈور بھی معطل ہے؟ فی الحال کشمیر روئے زمین پر واحد جگہ ہے جہاں قانون کا کوئی وجود نہیں! صرف جنگل کا قانون ہے۔‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *