امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دوبارہ پیشکش

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بطور ثالث کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

انھوں نے یہ بات دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے ٹیلیفونک گفتگو کے ایک دن بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہیں اور یہ ایک 'خطرناک صورتحال ہے۔'

واضح رہے کہ پانچ اگست کو انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئینی شق کے خاتمے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'کشمیر ایک بہت پیچیدہ جگہ ہے، وہاں ہندو ہیں اور مسلمان ہیں لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ ایک ساتھ اچھے طریقے سے رہ رہے ہیں'۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم اس وقت ایک گھمبیر مسئلے سے دوچار ہیں۔

'دونوں وزرائے اعظم میرے دوست ہیں، اور دونوں بہت زبردست انسان ہیں، دونوں اپنے اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں لیکن وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، کشمیر ایک گھمبیر معاملہ ہے جو کہ بہت لمبے عرصے سے جاری ہے۔'

انھوں نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے اس معاملے بر بات کریں گے۔ امریکی صدر اور انڈین وزیراعظم آئندہ ہفتے فرانس میں ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔

'ہم معاملے کے حل کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں اور میں اپنی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ میرے ان دونوں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ان دونوں کی آپس میں دوستی نہیں ہے۔ یہ پیچیدہ معاملہ ہے اور اس کی پیچھے مذہب ہے۔ مذہب پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔'

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران بھی ان کی جانب سے یہ پیشکش سامنے آئی تھی تاہم اس وقت جہاں پاکستان نے اس کا خیرمقدم کیا تھا وہیں انڈیا نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے کو حل کرنے کے لیے بطور ثالث کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے

انڈیا نے کشمیر کے معاملے پر بیرونی ثالثی کی پیشکش کو کبھی قبول نہیں کیا اور اس کا موقف ہے کہ اس سلسلے میں صرف دو طرفہ بات چیت ہو سکتی ہے۔

انڈیا کو چند روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی کشمیر کے مسئلے کے زیر بحث آنے پر اعتراض تھا اور اس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انڈیا 'یہ قطعی طور پر قبول نہیں کرے گا کہ بین الاقوامی طاقتیں اسے بتائیں کہ اسے کیسے جینا ہے۔'

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے انڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیادی آزادی بحال کرے اور گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔

محکمۂ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ 'ہمیں اس علاقے کے رہائشیوں پر مستقل پابندیوں اور حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر مسلسل تشویش ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم انفرادی حقوق کے احترام، قانونی طریقۂ کار کی تعمیل اور جامع مذاکرات پر زور دیتے ہیں'۔

خیال رہے کہ پانچ اگست کو انڈیا کی جانب سے کشمیر کو دی گئی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے وادی میں سکیورٹی لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔

انڈین حکام نے اس فیصلے کے تناظر میں کشمیر کے باقی دنیا سے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے تھے جو دو ہفتے بعد بھی جزوی طور پر ہی بحال ہوئے ہیں۔

کشمیر

ایک اندازے کے مطابق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے چار ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور مقامی جیلوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں وادی سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جاری

ادھر اس فیصلے کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور پاکستان نے منگل کو مزید چھ انڈین فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس سلسلے میں ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج نے انڈین فائرنگ کا موثر جواب دیا جس کے نتیجے میں چھ انڈین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا کہ انڈیا کی جانب سے ایل او سی پر تتہ پانی سیکٹر میں انڈین فائرنگ سے ایک سات سالہ بچے سمیت تین شہری ہلاک ہوئے تھے جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے یہ کارروائی کی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہہلاک کیے جانے والے انڈین فوجیوں میں ایک افسر بھی شامل ہے جبکہ دو بنکرز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کے دوران لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے کم از کم پانچ پاکستانی شہری اور چار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستانی فوج نے 11 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بھی دعوے کیے ہیں۔

پاکستان نے منگل کو اپنے شہریوں کی ہلاکت پر انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آہلووالیہ کو بھی دفترخارجہ طلب کر کے احتجاج کیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق 18 اگست کو لائن آف کنٹرول کے تتہ پانی اور چڑی کوٹ سیکٹرز میں انڈین فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا سات سالہ بچہ صدام ولد نور ہلاک ہو گیا جس پر انڈین سفارتکار کو طلب کیا گیا اور جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی۔

اس سے قبل پیر کو دو شہریوں کی ہلاکت پر بھی انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر سے احتجاج کیا گیا تھا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق انڈین افواج ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل 2003 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور شہری آبادی کو توپخانے، مارٹر گولوں اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہی ہیں۔

ان کے مطابق جان بوجھ کر شہری آبادی والے علاقوں کو نشانا بنانا قابل مذمت اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *