ٹرمپ، مودی اور خان صاحب

اکیسویں صدی میں، سیاست کے افق پر نئی طرز کے سیاست دانوں کا ظہور ہوا ہے۔ سیاسیات کی زبان میں انہیں ''مقبول‘‘ (Populist) کہا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ، نریندر مودی اور عمران خان اس طرزِ سیاست کے نمائندے ہیں۔ 
اہل سیاست کے اس طبقے کی چندخصوصیات ہیں۔مثال کے طور پر یہ عوامی سطح پر ایک قابلِ ذکر طبقے، بالخصوص نوجوانوں میں مقبول ہوتے ہیں۔ یہ غیر روایتی ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق اہل سیاست کے اس گروہ سے نہیں ہوتا جو پہلے سے جاری سیاسی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ پہلے سے موجود سیاسی گروہوں میں اجنبی ہوتے ہیں۔ موروثی سیاست سے بھی ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ معاشرے کے اس طبقے کو اپنا مخاطب بناتے ہیں جو روایتی اہل سیاست سے ناراض اور انہیں اپنے مسائل کا اصل سبب سمجھتا ہے۔ 
اہل سیاست کا یہ طبقہ مسائل کا جو حل تجویز کرتا ہے، وہ بہت سادہ ہوتا ہے اور سیاست و ریاست کی پیچیدگیوں سے ناواقف بہت جلد ان کی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں۔ نوجوان طبقہ بطورِ خاص انہیں اپنا ہیرو سمجھتا اور یہ خیال کرتا ہے کہ وہ انہیں مایوسی کے اندھیروں سے نکال سکتے ہیں۔ یہ سیاست دان بظاہر جمہوری طریقے ہی کو اختیار کرتے ہیں‘ لیکن ان کے خیالات اور حکمتِ عملی، تمام تر انقلابی ہوتی ہے۔ انقلابی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ رائج نظام کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ ان کے نعرے عام آدمی کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے مسائل کا حل یہی ہے۔ ان کے نعروں میں ایک خاص طرح کی قوم پرستی بھی شامل ہوتی جو ان کے حق میں ایک رومانوی فضا پیدا کر دیتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں انسانی قامت سے کہیں بڑا دکھایا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر صدر ٹرمپ ہیں۔ وہ ایک غیر روایتی سیاست دان ہیں۔ ساری عمر کاروبار اور کھیل تماشے میں گزاری۔ سوشل میڈیا کی مدد سے اپنے حق میں ایک خاص فضا پیدا کی۔ سفید فام آبادی کو اپنے گرد جمع کیا اور خود کو ان کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ اس طبقے کے مسائل کا سادہ حل پیش کیا۔ انہیں قائل کیا کہ اگر تمہیں روزگار نہیںمل رہا تو اس کی وجہ میکسیکو کے لوگوں کا بڑی تعداد میں امریکہ میں داخلہ ہے۔ وہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دیں گے اور کوئی میکسیکن امریکہ میں داخل نہیں ہو سکے گا‘ یوں ساری ملازمتیں امریکیوں کو مل جائیں گی۔
نریندر مودی نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے ہندو انتہا پسندوںکو قائل کیا کہ وہ بھارت کو ہندو برتری کا حامل ملک بنا دیں گے۔ مسلمانوں کو ان کے چھوٹے(صاغرین) بن کر رہنا پڑے گا۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے مسلمانوں کے قتلِ عام سے عملی شہادت فراہم کر دی کہ وہ اس معاملے میں آخری حد تک جا سکتے ہیں۔ انتہا پسند ہندو نے ان پر یقین کر لیا اور ہندو بالا دستی کا جو خواب اس نے دیکھا تھا، اس کو محسوس ہوا کہ مودی اس کی تعبیر دے سکتے ہیں۔
پچھلے سالوں میں یورپ میں بھی یہ لہر چل نکلی تھی۔ برطانیہ، یونان، سپین اور فرانس سمیت کئی اور ممالک اس کی گرفت میں آ گئے؛ تاہم میرا خیال ہے کہ یورپ میں اس طرز کی سیاست کی پیش قدمی رک گئی ہے۔ لوگ مسائل کے روایتی حل اور روایتی اہلِ سیاست کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ کیا رجوع کا یہ عمل بھارت، پاکستان اور امریکہ میں بھی ہو گا؟ سرِ دست اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں۔ آثار یہ ہیں کہ ٹرمپ اگلے انتخابات میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ اس وقت تک ان کو کسی بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے۔ ابھی تک ان کا کوئی مخالف امیدوار سامنے نہیں آیا۔ بھارت میں بھی بی جے پی کا کوئی قابلِ ذکر حریف موجود نہیں۔ پاکستان میں بھی دکھائی یہ دیتا ہے کہ ملک کو یک جماعتی نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ایک پاپولسٹ چہرہ اور قوم پرستی کی سیاست، جس میں حب الوطنی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 
پاپولر سیاست کے سنجیدہ تجزیے سے دانستہ صرفِ نظر کرتے ہوئے، میں اسے ایک امرِ واقعہ کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ یہ طرزِ سیاست، کیا کسی ملک یا علاقے کے روایتی اور بڑے مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؟ ہم جن مسائل کا کوئی روایتی حل تلاش نہیں کر سکے، کیا اب وہ غیر روایتی طریقوں سے حل کیے جا سکیں گے؟
مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ اس وقت یہ معاملہ جن تین شخصیات کے گرد گھوم رہا ہے، وہ تینوں غیر روایتی سیاست دان ہیں۔ ٹرمپ، مودی اور جناب عمران خان۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ مودی اور عمران خان میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ عمران خان بھی ان کے بارے میں اچھے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر روایتی سیاست دان، مسئلہ کشمیر کا کوئی غیر روایتی حل تلاش کر پائیں گے؟
مسئلہ کشمیر کے تمام روایتی حل ناکام ہو چکے ہیں۔ سیاسی جدوجہد، مسلح اقدام اور سفارت کاری، کسی کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس کا دائرہ صرف اہلِ کشمیر کو محیط نہیں۔ اس نے پاکستان اور بھارت کو بھی اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ یہ باقی خطے تک بھی پھیل سکتی ہے۔ کیا آج اس مسئلے کا کوئی غیر روایتی حل موجود ہے اور وہ قابلِ عمل بھی ہے؟ 
نریندر مودی نے ایک غیر روایتی اقدام کیا؛ اگرچہ انہوں نے آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا‘ لیکن یہ امکان کم تھا کہ وہ عملاً ایسا کر گزریں گے۔ انہوں نے ایک پاپولسٹ سیاست دان کے طور پر بھارت کی داخلی سیاست کو پیشِ نظر رکھا۔ کیا یہ مسئلہ کشمیر کے کسی غیر روایتی حل کی طرف پہلا قدم ہے؟ کیا اس کے بعد پاکستان کی طرف سے بھی کوئی غیر روایتی قدم اٹھایا جا سکتا ہے؟ کیا صدر ٹرمپ بطور ثالث ان اقدامات کی بنیاد پر مسئلے کے دائمی حل کا اعلان کر سکتے ہیں؟ وزیر اعظم مودی نے اگر بنیاد پرست ہندوئوں کو خوش کیا ہے تو اہلِ ہندوستان کی ایک بڑی تعداد کو پریشان اور ناراض بھی کیا ہے جس کا تعلق اقلیتوں سے ہے یا جو سیکولر بھارت پر یقین رکھتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مسلمان ہیں جن کی تعداد بیس کروڑ ہے۔
اب یہ ممکن ہے کہ جواباً عمران خان کوئی ایسا قدم اٹھائیں جو روایتی نہ ہو۔ ایک طبقہ یقیناً اس کا مخالف ہو گا لیکن ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں موجود ہے جو ان کے ہر اقدام کی تحسین کے لیے ہمیشہ آمادہ رہتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ مودی کی ہی طرح کا کوئی اقدام کر دیں۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ پیشِ قدمی کریں اور ان کی ثالثی سے لائن آف کنٹرول مستقل سرحد بن جائے۔
اِس وقت یہ بات محض قیاس آرائی ہو سکتی ہے لیکن اس کا تعلق میرے اس سوال سے ہے کہ ایک پاپولسٹ سیاسی قیادت کیا دیرینہ مسائل کا کو ئی غیر روایتی حل تلاش کر سکتی ہے؟ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے مسائل کو تو ہمیشہ کے لیے حل کرنے جا رہے ہیں۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ کشمیر کے بارے میں بھی وہ کوئی ایسا ہی حل سوچ رہے ہیں؛ اگرچہ کشمیر اس وقت امریکی مفادات کے لیے براہ راست کوئی خطرہ پیدا نہیں کر رہا۔
مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو جو اقدام کیا‘ وہ پسِ منظر میں جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ مودی اور عمران خان کی جو گفتگو ہوئی، اس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کا ذکر ہے، دفعہ 370 کے خاتمے کا نہیں۔ میڈیا میں بھی اب بحث مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ تو کیا معاملات اب پیچھے جانے کے بجائے آگے بڑھیں گے؟ شاید چند مہینوں میں ہمیں اس سوال کا جواب مل جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *