پی سی بی کے نئے آئین کو باقاعدہ طور پر نافذ کردیا گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے بورڈ کے نئے آئین کی منظوری کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کے بعد 19اگست 2019 سے اس کو نافذ العمل کرنے کا اعلان کردیا۔

رواں ماہ وفاقی کابینہ نے پی سی بی کے نئے آئین کی منظوری دی تھی جس کے بعد وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے بھی اس کی باقاعدہ منظوری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے رواں سال جون میں بورڈ کے نئے آئین کا مسودہ منظوری کے لیے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو بھیجا تھا جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی گئی تھی۔و آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق اب نئے آئین کے تحت ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈپارٹمنٹل نظام ختم کردیا گیا ہے اور اب ٹیمیں صوبائی بنیاد پر ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ ہوں گی۔

نئے آئین کے تحت پنجاب، جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کیپیٹل ایریاز کے نام سے 6 ٹیمیں فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلیں گی۔

پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق نئے آئین کی شق نمبر 49(1) کے مطابق موجودہ بورڈ آف گورنرز ایک مخصوص مدت تک کام جاری رکھیں گے جب تک کہ دیگر سات اراکین میں سے چار کو شامل نہیں کر لیا جاتا۔

نئے آئین کے مطابق بورڈ آف گورنرز میں تین کرکٹ ایسوسی ایشنز کے صدور، پیٹرن کی جانب سے نامزد کردہ دو اراکین، پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ساتھ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے وفاقی سیکریٹری بطور غیرفعال رکن کے طور پر شامل ہوں گے جبکہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے رکن کو ووٹنگ کا حق بھی نہیں ہو گا۔

پی سی بی کے اس نئے آئین کے تحت 16 ریجنل ایسوسی ایشنز کو 6 کرکٹ ایسوسی ایشنز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جن کے نام یہ ہیں۔

1-بلوچستان کرکٹ ایسوسی ایشن

2-سینٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن

3-خیبر پختونخوا کرکٹ ایسوسی ایشن

4-ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن

5-سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن

6-جنوبی پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن

بورڈ کے اس نئے آئین کے تحت ڈسٹرکٹ ایسوسی ایشنز کو سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

پی سی بی کی جنرل باڈی 11 اراکین پر مشتمل ہو گی جس میں چیئرمین پی سی بی، تمام کرکٹ ایسوسی ایشنز کے صدور، صدر بلائنڈ کرکٹ ایسوسی ایشن، صدر ڈیف اینڈ ڈمب کرکٹ ایسوسی ایشن شامل ہیں جبکہ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو اور چیف آپریٹنگ افسر غیر فعال اراکین ہوں گے۔

نئے آئین کے تحت پی سی بی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارات الگ کر دیے گئے ہیں اور ایم ڈی پی سی بی ہی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرے گا۔

انتظامی امور کو مضبوط کرنے کے لیے آئین میں ایک شق 12(سی) کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت بورڈ کو بہترین کارپوریٹ گورننس پرعمل کرنا ہوگا جو بورڈ کے اندر بہتر ماحول کو فروغ دے گا۔

بورڈ میں ایچ آر اور رسک منیجمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے شق 12 (ایچ) متعارف کروائی گئی اور پرانے نظام کی نئے آئین میں تبدیلی کو شق 49 کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *