ضیا ء الحق اور حمید گل سے جاوید ہاشمی کا مکالمہ

جاوید ہاشمی لاہور میں ہیں اور ظاہر ہے‘ وہ یہاں ہوں تو لاہوریوں کے مہمان ہوتے ہیں‘ لیکن گزشتہ شب عشائیے کی میزبانی انہوں نے اُچک لی تھی۔ ایم ایم عالم روڈ سے متصل گلی کے ایک ریستوران میں کوئی درجن بھر احباب ٹیبل پر موجود تھے۔ نیو یارک والے میاں مشتاق جاوید ان دنوں لاہور میں ہیں۔ اپنے برادرِ بزرگ سینیٹر طارق چودھری کے ساتھ وہ بھی یہاںموجود تھے۔ اسلام آباراولپنڈی کے بزرگ اخبار نویس(بلکہ اخبار نویسوں کے لیڈر) سید سعود ساحر بھی تھے۔ شامی صاحب کے بغیر ایسی کسی تقریب کا خیال بھی محال ہے۔''نقطۂ نظر‘‘ سے فارغ ہو کر وہ بھی چلے آئے۔ صادق آباد کے چودھری محمد شفیق 2002ئمیں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ مشرف دور میں‘ قیادت جلا وطن تھی‘چودھری محمد شفیق ''کیرٹ اینڈ سٹک‘‘ کے تمام تر حربوں کے باوجود وفا داری بشرطِ استواری کی مثال بنے رہے۔ اہلِ علاقہ نے اس کا صلہ یوں دیا کہ2008‘2013اور2018کے الیکشن میں بھی ناقابلِ شکست رہے۔ شہباز صاحب کی گزشتہ حکومت میں صنعت اور خصوصی تعلیم کے وزیر تھے۔ ہاشمی صاحب کے عشائیے میں چودھری شفیق بھی موجود تھے۔ حفیظ اللہ نیازی محفل کو ''یرغمال‘‘ بنانے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں (احباب ان کی اس ''کمزوری ‘‘ سے پہلے درگزرکرتے تھے ‘اب اس سے لطف اٹھاتے ہیں)لیکن یہاں قدرت نے مہربانی کی‘ وہ سب سے پہلے آئے اور کرسی پر اپنا کوٹ لٹکاکر‘ واش روم چلے گئے۔ کوئی آدھ پون گھنٹے بعد واپسی ہوئی۔ دوستوں کا قیاس درست تھا‘ نیازی صاحب قریبی مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے چلے گئے تھے۔
نمازِ فجر اور قرآن پاک کی تلاوت کے بعد ‘ آٹھ دس اخبار ات کا مطالعہ ہاشمی صاحب کا معمول ہے ‘ سفر میں بھی جس میں فرق نہیں آتا۔ ایک دن کہنے لگے‘ میں تمہارا بھی مستقل قاری ہوں۔ جواباً عرض کیا‘ حیرت ہے‘ آپ کے پاس ضائع کرنے کے لیے اتنا وقت ہوتا ہے۔ انہیں کسی نکتے سے اختلاف ہویا کوئی وضاحت درکا رہو‘ تو فون بھی کردیتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے میرے حالیہ دونوں کالم (ضیاء الحق کی حقیقی سیاسی طاقت کیا تھی؟ اور جونیجو صاحب کو اگر ایک دن اور مل جاتا) بھی ان کی نظر سے گزرچکے تھے۔ اس ڈنر میں انہوں نے آغاز ہی ان کالموں کے ذکر سے کیا۔ 1985ء کے (غیر جماعتی) انتخابات کا کچھ ذکر وہ ''ہاں! میں باغی ہوں‘‘ میں بھی کرچکے ہیں ''ضیاء الحق 1985ء کے انتخا بات کے نتائج کی پیش بندی کررہے تھے۔ ملتان کے ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل حمید گل نے ہمیں بلایا اور کہا: گجرات میں ہم نے روایتی حریفوں میں معاہدہ کرا دیا ہے اور تمام نشستوں پر مقابلے کے بغیر اتفاق رائے سے فیصلہ ہوجائے گا۔ ہم نے نواب زادہ گروپ اور چودھری شجاعت حسین گروپ میں یہ سیٹیں تقسیم کردی ہیں۔ آپ بھی قومی اسمبلی کی پانچ پانچ نشستیں لے لیں۔ ان کے ملٹری سیکرٹری کرنل ٹیپو نے کہا: اس طرح نہ جیپیں ٹوٹیں گی۔ نہ مٹی پھانکنا پڑے گی۔
ہم نے بلا مقابلہ ایم این اے بننے کی پیش کش قبول نہ کی اور لڑنے کا فیصلہ کیا۔ میرا مقابلہ برکلے یونیورسٹی امریکہ کے فارغ التحصیل چودھری عبدالرحمن واہلہ سے تھا‘ جن کا خاندان35سال سے یہ نشست جیت رہاتھا۔ ان کے والد کی180مربعوں کی جاگیر تھی اور میرے والد کے صرف پانچ مربعے تھے۔ صوبائی سیٹ پر میرا مقابلہ شاہ محمود قریشی سے تھا۔ ان کے پاس بھی انگریز کی عطا کردہ جاگیر یں تھیں‘ علاقے کے تمام بڑے سیاسی خاندان ان کی مہم چلا رہے تھے۔ یہ میری زندگی کا سخت ترین معرکہ تھا۔ قومی اسمبلی کا الیکشن بمشکل1200ووٹوں سے جیتا۔ الیکشن کے آخری دنوں میں جنرل حمید گل نے مجھے دوبارہ بلایا اور ناصحانہ انداز میں کہا کہ میں صوبائی انتخابات میں دستبردار ہوجائوں۔ مخدوم سجاد حسین قریشی صاحب بھی وہاں تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا: جنرل صاحب! دونوں میرے بیٹے ہیں۔ جو بھی ہارے گا‘ میرا گھر برباد ہوگا۔ میں نے کہا: جنرل صاحب! اپنے والد محترم کی وجہ سے میں نے ہمیشہ مخدوم صاحب کا احترام کیا ہے۔ یہ اگر گھر کا معاملہ ہے تو ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے دفتر تک کیسے پہنچا؟ میں نے حکم ماننے سے انکار کردیا اور الیکشن ہار گیا۔
میرے تازہ کالم کا ذکر کرتے ہوئے ہاشمی صاحب نے کہا : غیر جماعتی الیکشن کے بعد‘ اب وزیر اعظم کے ''انتخاب‘‘ کا معاملہ تھا۔ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت وزیر اعظم کی ''نامزدگی‘‘ صدر کا صوابدیدی اختیار تھا۔ ارکانِ اسمبلی کی رائے لینے کے لیے ان میں پرچیاں تقسیم کردی گئیں‘ پرچی پر تین نام تھے۔ محمد خان جونیجو‘ الٰہی بخش سومرو اور میر ظفر اللہ جمالی(اول الذکر دو کا تعلق سندھ سے اور جمالی صاحب کا بلوچستان سے تھا) عمومی فضا الٰہی بخش سومرو کے حق میں محسوس ہوتی تھی (وہ اس پر پیشگی مبارکباد یں بھی وصول کررہے تھے)‘ لیکن اچانک جونیجو صاحب کااعلان ہوگیا۔ صدر ضیاء الحق نے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب میں یہ اعلان کرتے ہوئے جونیجو صاحب کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے ''بہترین انتخاب‘‘ قرار دیاتھا۔ 
''اس میں پیر صاحب پگارا کا ''اثر ورسوخ‘‘ بھی بروئے کار آیا ہوگا‘‘؟
''اس میں شک نہیں کہ جونیجو صاحب کا شمار پیر صاحب کے اطاعت شعار اور وفادار مریدوں میں ہوتا تھا۔ وہ پیر صاحب کی خدمت میں ننگے پائوں حاضر ہوتے۔ وزارتِ عظمیٰ کے حوالے سے پیر صاحب کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی ''امیدوار‘‘ نہیں۔ لیکن اگر یہ منصب سندھ میں کسی کو ملنا ہے تو وہ جونیجو صاحب ہونے چاہئیں۔ 24 مارچ کو جونیجو صاحب‘ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے کر بلا مقابلہ وزیر اعظم ''منتخب‘‘ ہوگئے۔ اس سے 2 دن پہلے ایک حیرت انگیز واقعہ ہوچکا تھا جب صدر صاحب کے امید وار خواجہ صفدر ‘ سید فخر امام کے مقابلے میں سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے؛ اگرچہ یہ مقابلہ خاصا سخت رہاتھا‘ فخر امام صرف8ووٹوں سے جیتے تھے‘ (خواجہ صاحب111اور فخرامام 119ووٹ) ۔
ہاشمی صاحب بتا رہے تھے: غیر جماعتی اسمبلی میں سرکارکے حامی ارکان کا آفیشل پارلیمانی گروپ(OPG)تھا‘ جبکہ ہم نے انڈی پینڈنٹ پارلیمانی گروپ(IPG) بنالیا تھا۔ایک دن صدر صاحب نے مجھے بلایا ‘بڑے تپاک سے ملے اور خیر‘ خیریت دریافت کرنے کے بعد گویا ہوئے‘ یہ تم کدھر چل پڑے ہو۔ تمہیں تو میں نے وزیر بنانا تھا۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا؛ اپوزیشن پارلیمانی نظام کا لازمی حصہ ہے‘ یہ وہ دوسرا پہیہ ہے‘ جس کے بغیر گاڑی نہیں چل سکتی۔ صدر مملکت کی حیثیت سے آپ پارلیمانی پالیٹکس سے بالا تر رہیں۔ الیکشن کے بعد آپ یہ ریاستی نظام لائے ہیں تو اسے آگے بڑھانے کے لیے آپ کا کردار سبھی کے لیے بزرگانہ اور سرپرستانہ ہونا چاہیے۔
پھر اس غیر جماعتی ایوان میں سرکاری مسلم لیگ نے جنم لیا۔ محمد خاں جونیجو وزیر اعظم کی حیثیت سے مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر تھے‘ جسے ایوان میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوگئی تھی ۔پارلیمان کے باہر پیر صاحب پگاڑا مسلم لیگ کے صدر تھے اور اس دو عملی کے اپنے مسائل تھے۔ پیر صاحب پرمسلم لیگ کی صدارت سے دستبرداری کے لیے دبائو بڑھتا جارہاتھا۔ آخر29دسمبر کو پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک طویل اجلاس میں‘پیر صاحب پراپنے مریدِ سادہ کے حق میں صدارت سے دستبردار ہوگئے۔ صدر ضیاء الحق بھی دوگھنٹے تک اس اجلاس میں موجود رہے تھے۔ان کا کہناتھا؛ میں نے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات جو نیجو صاحب کو سونپ دیئے ہیں تو پیر صاحب بھی مہربانی فرمائیں اور مسلم لیگ کی صدارت جونیجو صاحب کی جھولی میں ڈال دیں ۔
جاوید ہاشمی کا کہناتھا؛ صدر ضیاء الحق کو پارلیمنٹ میں مسلم لیگ بننے پر اعتراض نہیں تھا‘ لیکن ان کی یہ خواہش ضرور تھی کہ ایوان یک جماعتی رہے۔ صدر ضیاء الحق ڈویژنل ہیڈ کوارٹر تک گئے اور ارکان اسمبلی کو مسلم لیگ میں شمولیت کیلئے کہا۔
30دسمبر قومی سیاست کا ایک اور اہم دن تھا‘ جب مارشل لاء اٹھالیا گیا‘ فوجی عدالتیں ختم ہوئیں ۔ جمہوریت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیاتھا۔ اگرچہ اس سے قبل صدر نے8ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سروس چیفس اور گورنروں کی نامزدگی اور حکومت کی برطرفی اور اسمبلی کی تحلیل کے صوابدیدی اختیارات بھی حاصل کرلیے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *