سلیمان پوپلزئی

اُس کا نام تو سلیمان تھا اور وہ خٹک تھا مگر میں اسے سلیمان پوپلزئی کہتا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ مجھے پوپلزئی کی سائونڈ اچھی لگتی ہے اور دوسرے اس لئے کہ اگر اسے کسی فنکشن میں جمعرات کو جانا ہوتا تو وہ حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ایک دن پہلے یعنی بدھ کو پہنچ جاتا، جس پر مجھے پشاور کے مولانا پوپلزئی یاد آجاتے جو مجھے بہت پیارے لگتے ہیں کہ وہ بھی عید ایک دن پہلے کرا دیتے ہیں۔ سلیمان میرا کالج فیلو تھا مگر اس سے آہستہ آہستہ اس قدر یگانگت بڑھی کہ ہم ایک دوسرے کو بچپن کا لنگوٹیا یار سمجھنے لگے۔ وہ نوشہرہ کا تھا، لاہور میں وہ اپنے شادی شدہ بھائی کے پاس رہتا تھا۔ لاہور اسے اتنا پسند تھا جتنا مجھے، بہرحال ہم جتنا عرصہ گھر سے باہر رہتے ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے، پتا نہیں ہماری باتیں ختم ہونے ہی میں نہیں آتی تھیں۔ ہم ایک دوسرے کی شکل، جو ایک سے دوسری دفعہ دیکھنا جان جوکھوں کا کام ہے، دیکھ دیکھ کر اکتاتے بھی نہ تھے۔ وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں لاہور سے باہر جاتا تو میں اس کے ساتھ ہوتا اور یہی صورتحال ادھر بھی تھی۔ میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مشاعروں میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا بلکہ وہ زبردستی ساتھ چل پڑتا۔ میں نے ایک مشاعرے میں احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل اسے پڑھنے کو دی، اس کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ یہ غزل کس کی ہے، میرے ساتھ رہتے رہتے وہ مشاعروں کے آداب سے واقف ہو گیا تھا اور داد دینے اور وصول کرنے کے ڈھب سے بھی واقف تھا۔ وہ شعر بھی وزن میں پڑھتا تھا، چنانچہ جب اس نے ندیم صاحب کی غزل کے مطلع کا پہلا مصرع پڑھا تو بہت داد ملی، مگر دوسرا حصہ پڑھنے پر ہال میں خاموشی چھا گئی، وہ صورتحال سے بےخبر پوری غزل پڑھنے کی ’’کوشش‘‘ کرتا رہا مگر ہوٹنگ نما داد کی وجہ سے کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، بالآخر ہال میں موجود ایک پہلوان نما سامع اسٹیج پر آیا اور اسے اٹھا کر ہال سے باہر لے گیا۔ اس کے بعد سلیمان پوپلزئی دو تین دن تک نہ میری طرف آیا، نہ میرے کسی فون کا جواب دیا۔ اس کو ٹھنڈ اس وقت پڑی جب اس نے میری اس حرکت کا بدلہ انتہائی گھٹیا طریقے سے لیا، کاش میں آپ کو بتا سکتا کہ وہ گھٹیا طریقہ کیا تھا۔ میں نے اور سلیمان نے بیسیوں راتیں ایک ہی کمرے میں ایک ہی ڈبل بیڈ پر گزاریں۔ اس کے سونے کا انداز بہت عجیب تھا، وہ اپنا دایاں بازو اپنے سرہانے رکھتا اور اسی بازو کے ہاتھوں کی انگلیاں کبھی اپنے ناک کے ایک نتھنے اور کبھی دوسرے نتھنے میں ڈالے رکھتا، شکر ہے وہ نتھنا بدل لیتا تھا، ورنہ ایک نتھنا چوڑا اور ایک تنگ کتنا عجیب لگتا۔ اس کی ایک اور عادت بھی بہت عجیب تھی، وہ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لے لیتا اور مختلف چینلز کی تلاش میں ’’نکل کھڑا‘‘ ہوتا، اگر تو ہم یورپ کے کسی ملک میں ہوتے تو وہ بالآخر کسی ایک چینل پر رک جاتا، میں سونے کی پوری کوشش کرتا مگر عجیب و غریب آوازوں میں نیند کیسے آ سکتی تھی، ان آوازوں میں سلیمان کی اپنی آواز بھی شامل ہوتی، اس آواز میں ’’پوپلزئی‘‘ سائونڈ سنائی دیتی۔ بعض اوقات وہ ٹی وی اس وقت آف کرتا جب فجر کا وقت ہوتا، میں نے پہلے ہی ساری رات سوتے جاگتے گزاری ہوتی تھی اوپر سے وہ فجر کی نماز کی تیاری میں مصروف ہوتا، وہ پہلے غسل کرتا، پھر وضو کرتا اور نماز کے آخر میں بآواز بلند امت مسلمہ کی سربلندی دعا مانگتا۔

سلیمان بہت خوش لباس انسان تھا، میں نے اسے کبھی میڈ اِن پاکستان لباس میں ملبوس نہیں دیکھا، وہ ہمیشہ نہایت قیمتی امپورٹڈ سوٹ پہنتا۔ ایک دن میں نے اسے رومان کے سوٹ میں دیکھا تو مجھے اپنی کم لباسی نے احساس کمتری میں مبتلا کر دیا، پتا چلا کہ اس کی قیمت ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ وہ میری للچائی ہوئی نظریں پہچان گیا، اس کی محبت نے جوش مارا اور اگلے دن اس سے بھی اچھا سوٹ وہ میرے لئے لے آیا۔ میں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، میں کسی دوست کا ایسا احسان کبھی نہیں لیتا جو میں اتار نہ سکوں۔ جب اس کا اصرار اور میرا انکار بڑھا تو اس نے کہا میرے ساتھ آئو، ہم ایک دوسرے سے کبھی نہیں پوچھتے تھے کہ کہاں جانا ہے، بس چل پڑے۔ وہ مجھے اسٹیشن کے قریب ایک سوٹنگ کی دکان میں لے گیا۔ دکاندار نے اسے دیکھتے ہی کہا ’’سلیمان صاحب، میں آپ کو فون کرنے ہی والا تھا، آج ایک نئی گٹھڑی کھولی تھی، آپ کے لئے جو ’’پیس‘‘ نکالا ہے۔ بس آپ دیکھتے ہی رہ جائیں گے‘‘۔ واقعی وہ ’’پیس‘‘ بہت اعلیٰ تھا، لگتا تھا کہ کوئی بہت مالدار انگریز حال ہی میں فوت ہوا ہے، میں اس روز سارا دن سلیمان کو ’’پوپلزئی‘‘ کہہ کر پکارتا رہا اور وہ ہر بار ہنس ہنس کر بے حال ہو جاتا۔

آج مجھے اس کی یاد یوں آئی کہ میں نے اسے اپنے ساتھ نوشہرہ لے جاتا تھا، بغیر کسی وجہ کے، مجھے وہاں کوئی کام نہیں تھا، ایک دفعہ پشاور جاتے ہوئے بس نوشہرہ رکی تو بنچ پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی اور مجھے اس سے شدید خوف محسوس ہوا۔ اس کی آنکھیں بالکل کوبرے سانپ جیسی تھیں۔ میں نے فوراً اپنی آنکھیں اس کی طرف سے پھیر لیں، مگر ایک بار اچانک اس کی طرف نظر پڑی تو وہ ’’سانپ‘‘ مسلسل میری تاک میں تھا۔ میں خوفزدہ ہو کر بس میں جا کر بیٹھ گیا۔ بس اس دن سے نوشہرہ میرے ذہن کے کسی گوشے میں جاگزیں ہو گیا تھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ میرا جی چاہتا تھا کہ میں نوشہرہ جائوں اور وہاں چائے پینے کے لئے اتروں تو وہ سانپ جیسی آنکھوں والا شخص دوسرے بنچ پر بیٹھا ہو، بہرحال سلیمان سے میرا صبح دس بجے کا وقت مقرر ہوا تھا، ٹھیک دس بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا تو سلیمان کا بھائی تھا۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ’’رات کو سلیمان کی ڈیتھ ہو گئی ہے اور میت نوشہرہ لے کر جانا ہے۔ آپ ہمیشہ اکٹھے سفر کیا کرتے تھے۔ وہ بتا رہا تھا کہ آج آپ لوگوں نے نوشہرہ جانا ہے، آپ آجائیں اپنے دوست کو خود لحد میں اتاریں‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *