ایک اور ایٹمی جنگ، ایک اور جاپان

پانچ اگست 1945کا دن جاپانی تاریخ کا اس لئے یاد گار دن تھا کہ اس وقت تک جاپان پر ایٹمی حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس دن ہیروشیما پوری آب و تاب کے ساتھ جاپان کے جدید ترین اور ترقی یافتہ شہروں میں سے ایک تھا جہاں تعمیر کی گئی خوبصورت عمارتیں، جدید ترین بندر گاہ، بڑے صنعتی کارخانیں اور شہر کے اندر اور باہر خوبصورت اور جدید ریلوے نظام جاپان کی ترقی کی بہترین مثال تھا لیکن صرف ایک دن بعد پھر نہ وہ ہیروشیما اور نہ وہ جاپان رہا جس پر یہاں کے مکین فخر کیا کرتے تھے، ہیروشیما چھ اگست کو آگ کے شعلے میں تبدیل ہو چکا تھا جس نے ہر چیز کو جلا کر راکھ کردیا، نہ خوبصورت سڑکیں بچیں نہ عمارتیں، نہ ہشاش بشاش لوگ تھے اور نہ اس شہر کے اسلحہ بناتے ہوئے کارخانے، ہیروشیما پر امریکہ کے ایٹمی حملے کے چوبیس گھنٹے بعد تک جاپان کی مرکزی حکومت اور فوجی قیادت کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ ساحلی شہر ہیروشیما پر کیا قیامت ڈھائی جا چکی ہے کیونکہ تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے تھے۔ امریکہ نے ہی جاپان کو اطلاع دی کہ ہیروشیما پر ایٹم بم حملہ کیا جا چکا ہے، جاپان فوری طور پر بغیر کسی شرائط کے ہتھیار ڈال دے ورنہ جاپان کے تمام شہروں کو ایٹمی حملے سے تباہ کردیا جائے گا۔ اس اطلاع کے بعد جاپانی حکومت نے ہوائی جہاز ہیروشیما روانہ کیا تاکہ حقائق جان سکیں اور پھر ایٹمی حملے کی خبر درست ثابت ہوئی لیکن اگلے دو دن تک جاپانی حکومت ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کرسکی اور پھر نو اگست کو امریکہ نے جاپان کے ایک اور اہم شہر ناگا ساکی پر بھی ایٹمی حملہ کردیا۔ جس نے ناگا ساکی کے پچاس ہزار سے زائد افراد کو چند منٹوں میں جلا کر راکھ کردیا۔ جس کے بعد جاپان کو ایٹم بم کی تباہ کاری کا اندازہ ہوا، امریکہ کا اگلا ہدف ٹوکیو تھا لہٰذا جاپانی حکومت نے اپنے ملک اور شہریوں کی زندگی بچانے کے لئے فوری طور پر ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی اور یوں لاکھوں جانوں کے ضیاع کے بعد ایک نئے جاپان کی شروعات ہوئی۔ امریکی جنرل میک آرتھر کی نگرانی میں جاپان کا نیا آئین تیار ہوا اس آئین میں جاپانی قیادت کے مشورے کے بعد یہ طے کیا گیا کہ جاپان نہ تو ایٹمی ہتھیار تیار کر سکے گا اور نہ ہی جاپان کی سرزمین پر ایٹمی ہتھیار رکھے جائیں گے۔ جاپانی آئین کی اس شق کے بعد جاپانی حکومت نے پالیسی کے طور پر یہ طے کیا کہ جاپان دنیا بھر سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھے گا اور کسی بھی ایسے ملک سے ایٹمی تعاون نہیں کرے گا جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں اور مذکورہ ملک نے این پی ٹی پر دستخط نہ کیے ہوں لیکن شاید اب جاپان کی اس پالیسی میں تبدیلی آتی جا رہی ہے اس کی وجہ ایٹمی حملے سے تباہ ہونے والے جاپانی شہر ہیروشیما کے میئر کا وہ خطاب ہے جو انھوں نے چھ اگست کو ہیروشیما میں ہزاروں شہریوں، سفارتکاروں اور خود جاپانی وزیراعظم کی موجودگی میں کیا۔ ہیروشیما کے میئر نے شکایت کی کہ جاپان دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے اس سرگرمی سے کام نہیں کررہا جس کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ جاپان بھارت کے ساتھ سول ایٹمی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا معاہدہ کرچکا ہے باوجود اس کے کہ بھارت نے تاحال این پی ٹی پردستخط نہیں کیے ہیں اور وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے، بھارت اور پاکستان ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں، جاپان نے تاحال وہ کردار ادا نہیں کیا ہے جس کا وہ متقاضی ہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ ہر ملک کے اپنے معاشی مفادات ہوتے ہیں اور جاپان کے بھارت کے ساتھ گہرے معاشی مفادات وابستہ ہیں، جاپان بھارت میں بڑے بڑے ہائی ویز تعمیر کررہا ہے، بلٹ ٹرینوں کے منصوبے مکمل کررہا ہے، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے، ہزاروں کی تعداد میں بھارتی آئی ٹی ماہرین جاپان میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پوری عالمی برادری کو آواز بلند کرنا چاہئے، کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عالمی مسئلہ ہے جسے عالمی برادری نے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق رائے شماری سے حل کرانا ہے۔ اس وقت بھارت نے اسی لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے کشمیر کو جیل بنادیا گیا ہے، تین ہفتوں سے زائد کرفیو کے باعث کھانے پینے اور دوائوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے، شاید دنیا کو ابھی تک حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ کہیں ایسا نہ ہو کو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ ہو۔ جس کے بعد بھارت یا پاکستان کا کوئی شہر ہیروشیما اور ناگاساکی کا منظر پیش کرے۔ وزیراعظم عمران خان کی حالیہ تقریر کی حدت کو عالمی برادری کو محسوس کرنا چاہئے ورنہ خدانخواستہ ایسی صورتحال نہ پیدا ہو جائے کہ جن معاشی مفادات کی خاطر عالمی برادری اور اسلامی ممالک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں وہ معیشت ان معاشی مفادات کے ساتھ ہی ڈھیر نہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خطے کو ایٹمی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے اور جاپان جیسے ایٹمی حملے کا شکار ہونے والے واحد ملک کو حالات سمجھنے کی توفیق دے تاکہ وہ اس موقع پر اپنا کردار بہترین طریقے سے ادا کرسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *