کشمیر کیلئے ہمدردی کے ساتھ امریکا کا عسکریت پسندی کے خاتمے کا مطالبہ

واشنگٹن: مزید امریکی قانون سازوں نے بھارت پر مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر محاصرہ ختم کرنے پر زور دیا ہے جس سے امریکی کانگریس میں کشمیری عوام کے لیے دو طرفہ حمایت ظاہر ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جہاں امریکی اراکین کانگریس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا وہیں امریکی حکومت نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرنے میں جھجک سے کام نہیں لیا اور بھارت پر زور دیا کہ مواصلاتی رابطوں کو بحال کرے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتے ہوئے انہیں اکٹھا ہونے اور احتجاج کرنے کی اجازت دے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بار بار ثالثی کی پیشکش کی۔

اس ضمن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ جی 7 ممالک کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے وقت ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی پیشکش سے اندازہ ہوتا ہے کہ واشنگٹن کو تشویش ہے کہ اگر صورتحال قابو نہ کی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان ایک اور جنگ ہوسکتی ہے۔

امریکا کو یہ بھی خوف ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو فوری طور پر جوہری تنازع میں تبدیل ہوجائے گی جس کا نتیجہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہوگا تاہم بھارتی وزیراعظم نے پھر بھی کشمیر کے تنازع پر ثالثی قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اس ضمن میں امریکا میں مقیم ایک کشمیری رہنما غلام نبی فائے کا کہنا تھا کہ ’اگر 2 فریقین، جو براہِ راست ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کررہے، انہیں منسلک کرنا ثالثی نہیں تو پھر کیا ہے‘؟

دوسری جانب امریکی حکام، تھنک ٹینک ماہرین اور میڈیا نمائندوں نے بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سیاسی سفارتی حمایت فراہم کرنے پر پاکستان کو سراہا۔

تاہم جنوبی ایشیا کے میڈیا کے لیے واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ بریفنگز کے دوران سینئر امریکی حکام نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال تشدد کی طرف گئی تو یہ حمایت فوری طور پر غائب ہوجائے گی۔

اسی قسم کی ایک بریفنگ میں سینئر امریکی عہدیدار نے پاکستان پر زور دیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت ختم کرنے کے لیے اپنے اہداف کو ترجیح دے۔

امریکی اسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے بارے میں عہدیدار کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں خدشات پاکستانی حکام تک پہنچا دیے ہیں اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عسکری گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ امریکا اس حوالے سے پائیدار، ناقابل واپسی اور مصدقہ اقدامات مثلاً دہشت گرد تنظیموں کے اراکین اور قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’سب سے اہم یہ کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کرے، ظاہر ہے کہ ہم نے دیکھا کہ کشمیری عوام اور پاکستان کے لیے 1989 پلے بک ناکام رہی‘۔

امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکا نہیں چاہتا کہ خطے میں عسکریت پسندی کی لہر دوبارہ اٹھے‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *