عوام اور حکمران، کیا دو طبقات ہیں؟

مسلم دنیا میں، کیا حکمران اور عوام ایک دوسرے سے بے نیاز ہیں؟ کیا دونوں کی دنیا الگ الگ ہے؟ آدرش، نصب العین، جذبات، مراد، کسی معاملے میں دونوں ایک پیج پر نہیں ہیں؟
ہمارے ہاں یہی سمجھا جاتا ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان جیسے بین الاقوامی معاملات ہوں یا غربت و افلاس جیسے مقامی مسائل، عام خیال یہی ہے کہ حکمران طبقہ عوامی جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ اسے عوام کے خیالات سے کوئی غرض نہیں۔ اسے امتِ مسلمہ کا مفاد عزیز نہیں۔ یہ مسلم معاشروں سے متعلق ہوتے ہوئے بھی، اپنی سرزمین پر اجنبی ہوتے ہیں۔
یہی خیال جب مذہبی طبقے میں پہنچا تو اس نے ان معاملات کی مذہبی تعبیر کرتے ہوئے، حکمرانوں کو طاغوت قرار دیا۔ طاغوت قرآن مجید کی اصطلاح ہے جو شیطان کے لیے مستعمل ہے۔ مراد وہ قوت ہے جو خدا کے مقابلے میں کھڑی ہو جائے۔ طاغوت قرار دیے جانے کے بعد، حکمرانوں کا کوئی تعلق حزب اللہ یا اہلِ اسلام سے باقی نہیں رہا۔ حکمران طبقے کو طاغوت سمجھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی تکفیر کی جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ مذہب کی یہ تعبیر جب اگلے مرحلے میں داخل ہوئی تو مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہوئے، انہیں واجب القتل قرار دے دیا گیا۔ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں اسی تعبیر کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔ انورالسادات کو اسی کی وجہ سے قتل کیا گیا۔
حکمرانوں کی اجنبیت کے بارے میں یہ سوچ صرف مسلم معاشروں تک محدود نہیں۔ یہ دیگر معاشروں میں بھی پائی جاتی ہے مگر اس کی اساس معاشی اور سماجی ہے۔ ماضی میں جب یہ سوچ غیر مذہبی بنیادوں پر آگے بڑھی تو اس نے سرخ انقلاب کا ایک تصور دیا۔ اسی سوچ نے پاپولسٹ سیاست دانوں کو جنم دیا۔ اس نے کہیں غیر مذہبی اور کہیں مذہبی بنیادوں پر معاشروں کو دو طبقات میں تقسیم کیا۔ 
کیا یہ سوچ درست ہے؟ کیا فی الواقعہ عوام اور حکمران طبقہ دو مختلف دنیاؤں کے رہنے والے ہیں؟ میں ان سوالات کو مسلم دنیا تک محدود کرنا چاہتا ہوں۔ کشمیر کے تناظر میں یہ سوالات ہمارے لیے ایک بار پھر اہم ہو گئے ہیں اور مسلم دنیا میں اضطراب کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی کہا جا رہا ہے کہ حکمران کشمیر کے معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ اس لیے زیادہ ضروری ہے کہ یہ سوالات بطورِ خاص عوامی فورمز کا موضوع بنیں۔
میں فی الجملہ ایسا نہیں سمجھتا۔ مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کشمیر کے باب میں عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری اور ایک عام پاکستانی کے جذبات، آدرش اور نصب العین ایک ہیں۔ سب یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو آزادی ملے اور ظلم کا یہ کاروبار بند ہو۔ افغانستان اور فلسطین کے بارے میں بھی ان کے جذبات ایک جیسے ہیں۔
اگر یہ مقدمہ درست ہے تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بطور حکمران، یہ ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتے جو کشمیر یا فلسطین کی آزادی کے لیے ضروری ہیں؟ ظلم کے خاتمے کے لیے آخر یہ کیوں برسرِ پیکار نہیں ہوتے؟ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ افواجِ پاکستان کا شمار دنیا کی چند بڑی عسکری قوتوں میں ہوتا ہے۔ اس قوت کے ہوتے ہوئے، ہم کیوں مقبوضہ کشمیر پر حملہ آور نہیں ہوتے اور کشمیریوں کو ظلم سے آزادی نہیں دلواتے؟
واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی قوت کے لیے قانونِ قدرت سے کوئی مفر نہیں۔ عمل پر تو اس کا بس چلتا ہے، ردِ عمل پر نہیں۔ اسی لیے کوئی اقدام کرتے وقت اسے ردِ عمل کو بھی ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ یہی نہیں، یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں کیا کھونا پڑے گا۔ یوں سود و زیاں کا اندازہ لگانے کے بعد، اقدام کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے، ذرا سوچیے کہ پاکستان کیا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی فوج مقبوضہ کشمیر میں اتار دے تو اس کے چند نتائج سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ پہلا نتیجہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لائن آف کنٹرول کی حیثیت بین الاقوامی سرحد جیسی ہوتی ہے۔ جیسے ہی اس کی خلاف ورزی ہو گی، بین الاقوامی دنیا متحرک ہو جائے گی۔
دوسرا نتیجہ بھارت کا جوابی حملہ ہے۔ ظاہر ہے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تو نہیں بیٹھے گا۔ یہ ردِ عمل کس طرح کا ہو سکتا ہے، وہ ماضی میں اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ جنگ اگر روایتی ہو، تو بھی اسے جاری رکھنے کے لیے وسائل کی غیر معمولی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوم کے معاشی بوجھ میں بے پناہ اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اگر بین الاقوامی دنیا بھی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر ہمارے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دیتی ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک عام پاکستانی کے لیے مشکلات کی نوعیت کیا ہو گی۔
یہ جنگ کے چند ایسے نتائج ہیں جن کو سمجھنا ایک عامی کے لیے بھی مشکل نہیں۔ پھر یہ کہ جنگ اگر شروع ہو جائے تو اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ روایتی ہی رہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ ایٹمی جنگ میں بدل جائے۔ جب کشمیر میدانِ جنگ بنے گا تو کیا ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے جان و مال محفوظ رہیں گے؟ ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے، کیا پاکستان کا کوئی حکمران یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر دے؟ اگر عمران خان کی جگہ کوئی انتہا پسندانہ ذہن والا اس ملک کا وزیر اعظم ہو تو کیا وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے؟
اس صورتِ حال کا سامنا ہمیں ہی نہیں، بھارت کو بھی ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر بھی اس کا حصہ ہے۔ اس کے باوجود، کوئی بھارتی حکمران یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ پاکستان پر حملہ کر کے اس خطے کو آزاد کرا سکتا ہے۔ یہ جرأت مودی جیسا حکمران بھی نہیں کر سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ خود بھارت پر اس کے کیا نتائج و اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اتنے بڑے فیصلے کوئی وزیر اعظم تنہا نہیں کر سکتا۔ اس میں ریاستی ادارے شریک ہوتے ہیں۔ وہ فوج سے اس کی تیاری پر بریفنگ لے گا۔ وزارتِ خزانہ سے پوچھے گا کہ کیا ملک کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ جنگ کا سامنا کر سکے؟
رہی اتنی بڑی فوج تو یہ جنگ کرنے کے لیے نہیں، اصلاً جنگ روکنے کے لیے ہے۔ فوج کی نوعیت بھی وہی ہے جو ایٹم بم کی ہے۔ ایٹم بم چلانے کے لیے نہیں، اس لیے ہوتا ہے کہ دشمن جوابی حملے کے خوف سے کوئی جارحیت نہ کرے۔ مضبوط فوج بھارت کو پاکستان پر حملے سے روکنے کے لیے ہے۔ بھارتی فوج ، جارحانہ عزائم کے باوجود اپنی حدود سے باہر نہیں جا سکتی۔ اس کو حد میں رکھنے کا کام پاک فوج سرانجام دیتی ہے۔
اسی پر قیاس کرتے ہوئے، فلسطین اور افغانستان سمیت سب مسائل کا جائزہ لیں تو یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ جذبات پر زمینی حقائق کو مقدم رکھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض حوالوں سے حکمران طبقہ عوام سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ طبقہ صرف اہلِ اقتدار پر مشتمل نہیں ہوتا۔ اس میں حزبِ اختلاف کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ وہ بھی جو ممکن ہے سیاست میں نہ ہوں لیکن اقتدار کے کھیل کا بالواسطہ حصہ ہوں۔ یہ ریاستی ادارے سے وابستہ لوگ ہو سکتے ہیں اور کسی اور گروہ سے بھی۔
عوام اور خواص کی تقسیم ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ دنیا کا کوئی معاشرہ اس سے خالی نہیں۔ کیا ایک عام امریکی اور صدر ٹرمپ کے مفادات، نصب العین اور معیارِ زندگی ایک ہیں؟ ایک جمہوری معاشرے میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اس طبقاتی تقسیم کو ممکن حد تک کم کرتا ہے، اگرچہ ختم وہ بھی نہیں کر سکتا۔ جمہوریت میں حکومتوں کی پالیسیاں عوامی جذبات سے قریب تر ہوتی ہیں۔ جہاں بادشاہت ہو یا آمریت وہاں حکمران طبقے اور عوام میں فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔
ہمارا حکمران طبقہ عوام سے مختلف ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل پر اس کے جذبات بھی عوام سے مختلف ہیں۔ فرق یہ ہے کہ حکومت میں رہتے ہوئے، اس پر وہ حقائق آشکار ہیں جو عام آدمی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *