پانچویں درجے کا خوفناک طوفان ’ڈوریئن‘ بہاماس سے ٹکرا گیا، چار امریکی ریاستوں میں ایمرجنسی کا اعلان

بہاماس کے کیریبین جزیروں پر آنے والا اب تک کا سب سے خطرناک سمندری طوفان ’ڈورین‘ چھتیں اڑانے اور شدید سیلاب کا باعث بنا ہے۔

طوفان ڈورین، پانچویں درجے کا خطرناک سمندری طوفان ہے۔ اس طوفان سے آنے والی ہواؤوں کی رفتار 285 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈورین طوفان کی موجیں 23 فٹ اونچی اور جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

bahamas dorian winds

 تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے بہاماس جزیرے کو متاثر کیا ہے

تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش نے بہاماس جزیرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اتوار کے روز دوپہر کے وقت (16:00 GMT) طوفان ٹکرانے کے بعد بہاماس کے جزیروں میں کئی علاقوں کے پانی میں ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی رہائشیوں نے سیلاب کے پانی کو گھروں کا گھیراؤ کرتے اور ان کی چھتیں اڑنے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔

ڈورین آہستہ آہستہ مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے اور مشرقی امریکی سمندری حدود والے علاقے اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

مشرقی فلوریڈا میں سمندری طوفان سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی تیاریوں میں خواتین قیدیوں نے بھی حصہ لیا

امریکی ریاستوں فلوریڈا، جارجیا، جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ان ریاستوں کے رہائشی علاقوں کو خالی کر رہے ہیں۔

فلوریڈا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمندی طوفان ڈوریئن کا معائنہ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے اس طوفان کے پیش نظر اپنا دورہ پولینڈ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں انھوں نے اس طوفان کے راستے میں آنے والے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

طوفان

امریکہ کے قومی طوفان مرکز(این ایچ سی) کا کہنا ہے کہ جدید ریکارڈ کے مطابق یہ ’انتہائی خطرناک‘ طوفان اس علاقے میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان ہے۔

فلوریڈا

امریکی ریاست فلوریڈا، جارجیا، جنوبی کیرولینا اور شمالی کیرولینا میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے

مقامی وقت کے مطابق پیر کے روز یا منگل کی رات سمندری طوفان ڈوریئن امریکی ریاست فلوریڈا کے مشرقی ساحل کے قریب تر پہنچ جائے گا۔

میامی

اورلینڈو میں ڈزنی ورلڈ سمیت مشہور مقامات کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ طوفان کی ’قریب سے نگرانی کر رہے ہیں۔‘ ساحلی شہر میامی میں بھی حکام نے بجلی سے چلنے والے کرایے کے سکوٹروں کو سڑکوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *