معروف قانون داں بابا صاحب امبیڈکر

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں نچلی ذات کے لوگوں کی پہچان بطور دلت اگر کسی نے دیا ہے تو وہ بابا صاحب امبیڈکر ہیں۔ بابا صاحب امبیڈ کر ایک ایسا معتبر نام ہے جس نے ہندوستان کی آزادی میں نمایاں رول نبھایا تھا۔ بطور قانون داں ہوتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے آئین کو لکھا اور ڈرافٹ بنایا تھا۔ بابا صاحب ایک منفرد اور بے مثال صلاحیت کے مالک تھے۔ بابا صاحب کا تعلق نچلی ذات (جسے اب دلت کہتے ہیں) سے تھا۔
بابا صاحب کی پیدائش 14اپریل 1891کو مہر کمیونیٹی میں ہوئی تھی۔ جو کہ ہندو مذہب میں ایک اچھوت ذات مانی جاتی ہے۔معروف ہندوستانی مورخ رام چندر گوہا کا کہنا ہے کہ 1920میں انگریزی دورِ حکومت میں بابا صاحب سیاست میں داخل ہوئے۔ بابا صاحب نے ہندو دھرم کو اس لئے مسترد کر دیا کہ اس میں نچلی ذات کو الگ تھلگ مانا جاتا ہے۔آخر کار 1956میں بابا صاحب نے دلت بودھ تحریک کا آغاز کیا۔
باباصاحب پہلے دلت تھے جنہیں بمبئی یونورسٹی کی معروف(Elphinstone College) ایلفنسٹون کالج میں داخلہ ملا۔انڈر گریجویشن مکمل کر نے کے بعد نیو یارک کی کولمبیا یونورسیٹی سے انہیں گریجویٹ مکمل کرنے کے لئے اسکالر شپ ملا۔جہاں انہوں نے اکنامکس میں پی ایچ ڈی بھی مکمل کی۔اس کے ایک سال بعد بابا صاحب نے لندن اسکول آف اکنامکس سے بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیا۔
1947میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو باباصاحب کو ملک کا پہلا قانون وزیر بنایا گیا اور انہیں آزاد ہندوستان کا نیا آئین لکھنے کا کام سونپاگیا۔ انہوں نے حکومت سے عورتوں کے معاشی و سماجی حقوق، چھوت چھات کو ختم کرنے کی مانگ کی، اور نچلی ذات کے لوگوں کے لئے اسکول، اور سول سروس میں نوکری کا کوٹہ مقرر کرنے کے لئے کام کیا۔
بابا صاحب کا لندن سے اوروں کی طرح ایک خاص رشتہ رہا ہے۔ وہ بھی دنیا کے مشہور لیڈروں کی طرح لندن تشریف لائے اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ لندن کے معروف (Camden)کامڈین علاقے کے (Primrose Hill)کے ایک گھر1921-22) (میں بابا صاحب قیام پزیر رہے۔ لندن اور برطانیہ میں یہ بات بہت اہم ہے کہ جب کوئی معروف شخصیت کسی مکان میں رہتی ہے تو وہاں یاد گار کے طور پر برٹش ہیریٹیج ایک گول نیلی تختی پر اس شخص کانام اور تاریخ لکھ کر دیوار پر چسپاں کر دیتی ہے۔جس سے اس مکان کی تاریخی طور پر کافی اہمیت ہوتی ہے۔اس مکان کے اندر بابا صاحب کا ایک مجسمہ لگایا گیا ہے جس کے گلے میں پھول پڑے ہوئے ہیں۔ ڈائننگ ہال میں میز پر کچھ قانونی دستاویز ات پڑے ہوئے ہیں۔ قریب ہی ایک ٹیبل پر کتابوں کے ساتھ بابا صاحب کا پسندیدہ گول عینک بھی موجودہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ ایک مسئلہ مقامی کونسل کے پاس پہنچا ہے جس سے کونسل پریشان ہے۔ بابا صاحب کے اس مکان کے دو پڑوسیوں نے کونسل میں اس بات کی شکایت کی ہے کہ جب سے اس مکان کو میوزیم بنایا گیا ہے ان لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے۔ روزانہ بسوں میں بھر کر سیاح میوزیم کو دیکھنے آتے ہیں اور ان پڑوسیوں کو بھیڑ بھاڑ سے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اب اس مکان کی قسمت کا فیصلہ اگلے مہینے کونسل کے اجلاس پر منحصر ہے جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا باباصاحب کے مکان کا دروازہ سیاحوں کے لئے بند کر دیا جائے گا اور اس کو محض ایک مکان کے طور پر رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔
دراصل اس مکان کی کہانی یہ ہے کہ 2015میں اس مکان کو بیچنے کے لئے مارکیٹ میں اشتہار دیا گیا۔ تبھی باباصاحب کے مداحوں نے ہندوستانی حکومت سے رابطہ کیا اور اس مکان کو خریدنے کی درخواست کی۔ اس وقت اس مکان کی قیمت (£3 million)تین ملین پونڈ تھی۔ مہاراشٹر حکومت نے اس مکان کو خرید لیا اور 2015میں بھارتی وزیر اعظم نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ تب سے اس مکان کو میوزیم کے طور پر زائرین اور سیاحوں کے لئے فری کھول دیا گیا کہ وہ اس مکان کی سیر کریں اور بابا صاحب کے متعلق اہم باتوں کو دریافت کریں۔

کہا جارہا ہے کہ باباصاحب کے مکان میں ہزاروں لوگ روز آتے ہیں اور سڑک پر بسوں کی موجودگی سے راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔ایک پڑوسی نے یہ بھی کہا کہ اسے تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس کے بغل میں جو مکان ہے وہ بابا صاحب کا میوزیم ہے۔ کئی اور پڑوسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ زائرین آتے ہیں اور بنا کسی شور و غل کے واپس چلے جاتے ہیں۔
لیکن جنوری 2018 میں (Camden Council) کامیڈین کونسل کو پلاننگ کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ جس میں لکھا گیا ہے کہ باباصاحب کے مکان کو بطور میوزیم استعمال کرنے کی اجازت نہیں لی گئی ہے۔تاہم فروری2018میں بابا صاحب کے مکان مالک نے بابا صاحب کے مکان کو میوزیم کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔کامڈین کونسل نے کہا کہ بابا صاحب کے مکان کو میوزیم کا درجہ دینے سے رہائشی جگہ کا استحقاق ختم ہو جائے گا۔تاہم مہاراشٹر حکومت نے کامڈین کونسل کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیا ہے جس کی سماعت 24ستمبر کو طئے پائی ہے۔ لندن میں مقیم ہندوستانی ہائی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باباصاحب کا یہ مکان بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس سے کروڑوں ہندوستانیوں کے جزبات جڑے ہیں۔ ہندوستانی ہائی کمیشن نے یہ بھی کہا کہ کامڈین کونسل کو ایک پلاننگ درخواست دی گئی ہے جس میں مکان کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی گزارش ہے۔
(FABO-Federation of Ambedkarite and Buddhist Organisations)فیڈیریشن آف امبیڈ
کارائٹ اینڈ بدھسٹ آرگنائزیشنس نے ہی حکومتِ مہاراشٹر کو مشورہ دیا تھا کہ باباصاحب کی رہاش والی مکان کو خریدنا بہت اہم ہے۔ جس وقت اس مکان کو بیچنے کا اشتہار مقامی رہائشی اوربرطانیہ کی سابق سول سرونٹ سنتوش داس کی نظروں سے گزرا تو انہوں نے فوراً مہاراشٹر حکومت سے رجوع کیا۔مِس سنتوش کا کہنا ہے کہ جس وقت اس مکان کو خریدا گیا اس وقت یہ خستہ حالت میں تھا۔ اس کے بعد اس کی تعمیر کروائی گئی اور اب یہ ایک عمدہ حالت میں ہے جس سے کمیونٹی کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔(FABO)فابو کی صدرمس سنتوش داس کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں نے پڑوسیوں کو ایک عمدہ تحفہ دیا ہے۔مس داس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم لوگ کامڈین کونسل سے اس بات کی درخواست کر رہے کہ بابا صاحب کے مکان کو میوزیم کا درجہ دے دیا جائے جس سے بہت سارے لوگ جو یہاں آنا چاہتے ہوں اور بابا صاحب کا درشن کرنا چاہتے ہوں ان کے لئے یہ خوشی کی بات ہوگی۔
سابق آکسفورڈ بشپ لارڈ ہیریس نے بھی بابا صاحب کے مکان کو میوزیم کا درجہ دینے کی حمایت کی ہے۔اس کے علاوہ بابا صاحب کے حامیوں نے بھی کامڈین کونسل کو خط لکھ کر میوزیم کا درجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ تاہم برطانیہ میں پڑوسیوں کی بات کو اہم مانا جاتا ہے اور کامڈین کونسل مقامی رہائشوں کی شکایت پر ہی غور کرے گی کیونکہ کونسل مقامی رہائشوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
باباصاحب بذاتِ خود ایک معروف قانون داں اور دلتوں کے کارکن تھے۔ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں میں بابا صاحب کا مقام ایک اعلیٰ انسان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن قانون جتنا آسان ہے اس سے زیادہ پیچیدہ بھی ہے۔جس مکان میں معروف قانون داں بابا صاحب نے رہائش رکھی تھی، اب اسی مکان کو میوزیم بنانے کے لئے بابا صاحب کے حامیوں کو کونسل کی پلاننگ اور طریقہ کار کو ماننے کے لئے مشکلات کا سامناہے۔ ہماری نیک تمنائیں باباصاحب کے حامیوں کے ساتھ ہے اور دعا کرتے ہیں کہ باباصاحب کے مکان کا مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *