شہرت، منشیات اور ذہنی دباؤ، جسٹن بیبر کا اعتراف

جسٹن بیبر کا اعتراف: شہرت، منشیات اور ڈیپرشن نے ’مجھے دنیا کا سب سے قابل نفرت شخص‘ بنا دیا

مشہور میوزک سٹار جسٹن بیبر نے ایک جذباتی مضمون میں بتایا ہے کہ انھوں نے جو ’برے فیصلے‘ 20 برس کی عمر میں کیے تھے ان کی وجہ سے وہ کس طرح ’دنیا کے سب سے زیادہ قابل نفرت‘ انسان بن گئے۔

انہوں نے اس مضمون میں پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے وہ گذشتہ برسوں میں انتہائی نشہ آور منشیات کا بے دریغ استعمال کرتے رہے اور اپنے قریبی رشتوں کے لیے وبال جان بنے رہے۔

جسٹن بیبر کے جوہر کو میوزک مینیجر سکوٹر بران نے اس وقت دریافت کیا تھا جب جسٹن صرف 13 برس کے تھے۔

جسٹن بیبر کے بقول وہ اس عرصے میں خواتین سے حسد اور غصے کا اظہار کرتے رہے اور خواتین کی عزت بھی نہیں کرتے تھے۔

’میں ہر اس شخص سے دور ہو گیا جو مجھے سے محبت کرتا تھا۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اس صورت حال کو کبھی تبدیل نہیں کر سکوں گا۔‘

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے اس میوزک سٹار نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ کیسے کم عمری میں ملنے والی بے پناہ تعریف نے زندگی کے بارے میں ان کی سوچ کو خراب کر دیا اور پھر انہیں اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

’ایک چھوٹے قصبے کے 13 سالہ لڑکے سے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں ہر کوئی میری تعریف کے پل باندھنے لگا، اور لاکھوں لوگوں کہنے لگے کہ میں کتنا عظیم ہوں اور وہ مجھ سے کس قدر پیار کرتے ہیں۔‘

’جب آپ لڑکے ہوتے ہیں، تو آپ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

انسٹاگرم پر اپنے مضمون میں جسٹسن بیبر کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے سب کچھ دوسرے لوگ کر رہے تھے، اسی لیے میں نے یہ بالکل نہیں سیکھا کہ ذمہ داری کیا چیز ہوتی ہے۔‘

ایک کے بعد ایک مصیبت

جسٹن ابھی 18 سال کے ہی تھے جب ان کے اکاؤنٹ میں ’لاکھوں‘ ڈالر آ چکے تھے اور مجھے ’ہر وہ چیز میسر ہوجاتی جس کی میں خواہش کرتا‘ لیکن میرے پاس ’حقیقی دنیا میں رہنے کا کوئی ہنر نہیں تھا۔‘ ان کے بقول اس عرصے میں وہ ’خاصی زیادہ نشہ آور منشیات‘ استعمال کر رہے تھے اور ہر رشتے کا ’ناجائز فائدہ‘ اٹھا رہے تھے۔

’میں نے ہر وہ غلط فیصلہ کیا جس کا آپ سوچ سکتے ہیں اور میں دنیا میں سب سے زیادہ چاہے اور پیار کیے جانے والے شخص کی بجائے ایک ایسا شخص بن گیا جس کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ بے عزتی کی جانے لگی، نفرت کی جانے لگی اور اس کی (ہر حرکت) پر تبصرہ کیا جانے لگا۔‘

جسٹن بیبر

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں جسٹن بیبر کو کئی مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ کبھی ان پر توڑ پھوڑ کرنے کا الزام لگا، کبھی نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کا۔

’صبح سویرے بستر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب آپ پر ایک کے بعد ایک مصیبت ٹوٹ رہی ہو۔‘

بعض اوقات بات ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں آپ زندہ نہیں رہنا چاہتے۔ آپ کو لگتا ہے کہ صورت حال کبھی ٹھیک نہیں ہو گی۔‘

جسٹن بیبر راسخ العقیدہ مسیحی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اُن مشکل دنوں میں یہ ان کا ایمان، دوستوں اور خاندان والوں کی مدد ہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کا رخ موڑنے میں کامیاب ہوئے۔ اس حوالے سے انھوں نے اپنی اہلیہ ہیلی بالڈوِن کی تعریف کی ہے۔

’مجھے اپنے تباہ کن فیصلوں کے (اثرات) سے نکلنے، اور پھر ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے اور اپنی عادات کو بدلنے میں برسوں لگ گئے۔‘

جسٹن بیبر کا مزید کہنا تھا کہ ’خوش قسمتی سے خدا نے مجھے ایسے لوگوں سے نوازا ہے جو مجھ سے ہر حال میں پیار کرتے ہیں اور اِن دنوں میں اپنی زندگی کے بہترین موسم سے گزر رہا ہوں، یعنی میری شادی۔

انسٹاگرام پر اس پیغام کے شائع ہونے کے بعد جسٹن بیبر کے مداحوں کی طرف سے محبت کے پیغامات کا ایک سیلاب امڈ آیا ہے۔

ایک مداح نے لکھا کہ آپ سے ’غلطیاں سرزد ہوئیں، لیکن سچ یہ ہے کہ آپ نے واپسی کا راستہ تلاش کر لیا۔ مجھے بلیبر (بیبر کا چاہنے والا) ہونے پر فحر ہے۔‘

ایک دوسرے مداح کا کہنا تھا ’جسٹن، میں نے ہمیشہ آپ سے پیار کیا ہے اور مجھے ہمیشہ سے معلوم تھا کہ آپ کے اندر اچھائی موجود ہے۔‘

جسٹن بیبر کے سابق ذاتی محافظ نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’مجھے آپ کے اس سفر پر فحر ہے۔ ہم سب آپ کی مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

دیگر لوگوں کے علاوہ، ڈزنی ٹی وی کے ایک شو کی بدولت کم عمری میں ہی شہرت پانے والے کائل میسی نے بھی جسٹن بیبر کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے کم عمری میں شہرت سے منسلک مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر لوگ اور میڈیا والے ایک کم عمر فنکار کے نقطہ نظر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرا دماغ ٹھکانے رہنے کی واحد وجہ میرے خاندان والے اور میرے دوست ہیں۔‘

یاد رہے کہ 2017 میں جسٹن بیبر ایک طویل عرصے کے لیے میوزک کی دنیا سے دور ہو گئے تھے اور انھوں نے اپنے 14 شو منسوخ کر دیے تھے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتا تھا کہ میرا دل اور میری روح زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *