سمارٹ پارکنگ

" سعدیہ اسلم "

پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ہر تیسرے افراد کے پاس اپنی ذاتی گاڑی یا موٹرسائیکل موجود ہے. پاکستان میں گاڑیوں کے بڑھنے سے پارکنگ کے ناقص انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ یہ صورت حال چھوٹے بڑے شہروں میں عام ہوتی جا رہی ہے. پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں 1.5 لاکھ تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ 2030 تک ان گاڑیوں کی تعداد میں 18 لاکھ تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے. اگر ان بڑھتی ہوئی گاڑیوں کو منظم نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ پاکستان میں حادثات کی تعداد میں اور تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جائے گا. حالیہ عرصے میں وفاق میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی وجوہات متعارف کروائی جانے والی وہ مختلف اسکیمیں اور پیکجز ہیں جس کے ذریعے آسان اقساط پر گاڑی و موٹرسائیکل با آسانی مل جاتی ہے. ایسائز آفس کے مطابق اسلام آباد میں ہر روز 50 سے 60 موٹرسائیکل، 90 سے 100 گاڑیاں، 4 سے 5 کمرشل گاڑیاں جبکہ 10 سے 15 سرکاری گاڑیاں رجسٹر ہوتی ہیں جو ٹریفک میں مزید اضافہ کر رہی ہیں. جبکہ تقریباً ہر مہینے 6000 گاڑیاں ہر مہینے رجسٹر ہوتی ہیں اس کے علاوہ ٹیکس آفس میں 200 گاڑیاں کچھ وجوہات کی بنا پر موجود رہتی ہیں.

گاڑیاں ماحول میں زہریلے مادے کے اخراج کا سبب بن رہی ہیں جس سے انسانی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں. شاپنگ سینڑز، پلازہ، شو رومز اور دیگر تجارتی ایریا میں اضافہ تو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ان جگہوں میں پارکنگ کے انتظامات بہت بے ہنگم اور ناقص نظر آتے ہیں. ان مصروف کمرشل علاقوں میں سڑکوں کے کنارے غیر قانونی پارکنگ کے موجود ہونے سڑکیں تنگ ہوجاتی ہیں  جسکا جہاں دل کرتا ہے وہاں گاڑی کھڑی کر دیتا ہے. پارکنگ سے بھیڑ تو بڑھتی ہے اسکے ساتھ غیر قانونی پارکنگ حادثات کا سبب بھی بنتی ہیں. جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ پر کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی قسم کی کاروائی کرتا نظر نہیں آتا اور کیوں وہ موجود ہی نہیں ہوتے. حالانکہ کہ غیر قانونی پارکنگ پر قوانین تو موجود ہیں لیکن پاکستان میں ان قوانین کی کوئی پاسداری نہیں کرتا، جہاں پر نو پارکنگ کا بورڈ لگا ہو وہاں پر بھی گاڑیوں و موٹرسائیکل کھڑے نظر آتے ہیں.

اگر دیکھا جائے تو ترقی یافتہ ممالک میں سمارٹ پارکنگ کا استعمال ہوتا ہے جہاں پر ٹریفک کا منظم نظام ہے، جہاں پر جگہ جگہ گاڑیاں کھڑی نہیں ہوتی بلکہ ٹیکنالوجی اور وسائل کی بدولت پارکنگ کے نظام کو بہترین بنایا گیا جبکہ پاکستان چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں پارکنگ کے انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں تو پارکنگ کا نظام سمارٹ پارکنگ میں کیسے بدلے گا. حالیہ ہی کچھ عرصہ پہلے پشاور میں سمارٹ پارکنگ کا نظام متعارف کروایا جو کہ اچھا عمل ہے. کچھ موجودہ پارکنگ پلازہ کی صورت حال یہ ہے کہ  جو موجودہ فیس سے زیادہ وصول کرتے ہیں، ایسی طرح پرانے وقت کی ایک کہانی یاد آ گئ جو میں نے کچھ دن پہلے ایک جگہ پڑھی تھی جو کہ موصول کردہ پارکنگ مالکان کی جانب سے وصول کردہ ٹیکس سے مشابہت رکھتی ہے. کسی ملک میں ایک نیک صالح بادشاہ حکومت کرتا تھا ایک دفعہ دور سے آئے لوگوں نے بادشاہ سے گزارش کی کہ وہ دو بستیوں کے درمیان ایک پل تعمیر کروا دیں، بادشاہ نے حکم دیا اور کام مکمل ہوگیا. ابھی پل کی تعمیر کو چند ماہ ہی گزرے تھے کے مشیروں کے ایک ٹولے نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ پل کر دونوں اطراف پر ٹیکس عائد کر دے. بادشاہ اس مشورہ کے حق میں تو نہیں تھا لیکن مشیروں کے زور پر پل پر ٹیکس عائد کر دیا گیا، بادشاہ کو تھا کہ عوام چیخ و پکار کرے گی لیکن بادشاہ بہت متعجب ہوا جب کسی نے کوئی کہرام نہ مچایا. اسکے بعد مشیروں نے دوبارہ مشورہ دیا کہ اس ٹیکس کو زیادہ کر دیا جائے بادشاہ نے فیصلہ کیا اور اسکا خیال تھا کہ اس بار تو عوام ضرور کچھ کرے گی لیکن اس بار بھی کچھ نہ ہوا تو بادشاہ کو بہت غصہ آیا اس نے حکم دیا پل کے دونوں اطراف ہر آنے جانے والے کو جوتے مارے جائیں گے. ایک دن کچھ لوگوں نے بادشاہ کے دربار میں حاضری دی بادشاہ کا خیال تھا کہ ٹیکس کی بابت اور جوتوں کی بابت معافی کی بات کریں گے تو معافی دے دوں گا لیکن انہوں نے گزارش کی کہ پل پر تعینات سپاہیوں کی تعداد میں اضافے کر دیا جائے تا کہ جوتے جلدی پڑے اور وقت ضائع نہ ہو.

آج بھی وہی بادشاہ ہے، وہی پل ہے اور وہی ٹیکس میں اضافہ، جوتے مارنے کا سلسلہ تب سے آج تک قائم ہے اور مناسب طریقے سے مارے جاتے ہیں. ہوتا یہ ہے کہ پاکستان کے شہروں میں پارکنگ کے ٹھیکیدار مقررہ فیس سے زیادہ کی وصولی کرتے ہوئے ٹیکس کے ساتھ عوام کو جوتے مارتے ہیں. موجودہ پارکنگ پلازہ میں ایسی مافیا موجود ہے جو زیادہ وصول کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام یہاں جانے کی بجائے ایسی جگہوں پر گاڑی کھڑی کر دینے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں. پارکنگ مافیا جو زیادہ ٹیکس وصول کرتی ہے انکو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا.

اس کالم میں پاکستان میں پارکنگ کی کچھ تجاویز بتائی جارہی ہیں. جس سے جگہ جگہ بے ہنگم پارکنگ منظم ہو سکتی ہے اور پارکنگ سے پیدا ہونے والے مسائل جیسے پیدل چلنے والوں کو پریشانی، سڑکوں کا تنگ ہونا اور حادثات میں کمی ہوگی. حکومت کے پاس پیسہ اور جگہ کی کمی ہوتی ہے جسکی وجہ سے اس نے کوئی بھی پارکنگ کے حوالے سے کام سر انجام نہیں دیا. پارکنگ ہماری اشد ضرورت ہے جس پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتا لیکن اگر یہ کام کیا جائے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے. جیسے کہ سی-ڈی-اے کے پاس پلین تو موجود ہے لیکن عرصے سے اس حکمت عملی پر کام نہیں کیا گیا.

سب سے پہلے بی-ٹی-او ایک ایسا ماڈل ہے جو پاکستان میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے جس میں کوئی بھی نجی بلڈرز کمپنی کے مالکان اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پاتا ہے جس میں 10 سے 15 سال کا پروجیکٹ ان نجی کمپنیوں کو سونپ دیا جاتا ہے، اس دوران منصوبے میں طے یہ پایا جاتا ہے کہ صارفین سے مناسب ٹیرف، ٹولس، فیس، کرایہ یا لوبی شامل ہوگی اور یہ طے پایا جائے گا کہ معاہدے کے مطابق صارفین سے زیادہ  ٹیکس وصولی نہیں کی جائے گی. اس طے شدہ معاہدے کے بعد نجی کمپنی گورنمنٹ کو معاہدہ واپس کر دے گی. نجی کمپنی حکومت سے باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے اس معاہدے پر سبسڈی لیتی ہے جو کہ معاہدے کے عین مطابق طے پاتی ہے. اس سارے معاہدے میں فن تعمیر کے ماہر بلڈنگ کا خاکہ تیار کریں گے اور حساب لگائے گے کہ اس منصوبے کی پر کتنا خرچہ ہوگا. سول انجینئر، بلڈرز اور سوفٹویر انجینئر اپنا اپنا کام شروع کر دیں گے اور ایک سمارٹ منصوبہ متعارف کروائے گے. اگر فرض کیا جائے تو ایک ملٹی سٹوری پارکنگ پلازہ کے لیے 3307 سے 4200 رقبہ زمین چاہیے ہوگی، اس کی تعمیر پر 389 سے 440 لاکھ رقم درکار ہوگی، جبکہ ایک پارکنگ پلازہ میں بآسانی فرض کریں تو 300 سے 350 گاڑیاں آ سکتی ہیں، اگر پارکنگ کے مالکان ایک گاڑی کے حساب سے 300 روپے لیں تو ایک دن میں 90,000 ہزار کما لیں گے جبکہ اگر سال کا حساب لگائیں تو تین کروڑ کما سکتی ہے.

اسی طرح یہی پارکنگ کے مالکان پارکنگ کو سمارٹ پارکنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں. جس سے مالکان کو ایسا ایپ متعارف کروانا ہوگا اور ایپ میں موجود معلومات کے ذریعے وہ آن لائن بکنگ بھی کروا سکے گے.. جس سے پارکنگ کا استعمال کرنے والوں کی وقت کی بچت بھی ہوگی. اسکے علاوہ ان پارکنگ پلازہ میں سکینر اور کیمرہ لگانے چاہیے اور ایسا سیکورٹی کا نظام لگانا ہوگا جس سے گاڑی کے چوری ہونے کے کوئی بھی مواقع نہ بن سکیں. اسی طرح اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے کیو-آر کورڈ متعارف کروایا گیا ہے جو کہ جے-ایس بنک کی زیر نگرانی اتوار بازار اور ایچ-نائن کے سیکڑ میں استعمال ہو رہا ہے اور انکی کوشش ہے کہ اسلام آباد کے باقی علاقوں میں بھی یہ سسٹم متعارف کروانے کے لیے کوشاں ہیں.

سمارٹ پارکنگ کا ایسا نظام پارکنگ کے نظام کو بہتر کر سکتا ہے، حادثات میں کمی تو ممکن ہوگی اور ٹریفک میں کمی بھی ہوگی. اس طرح غیر قانونی پارکنگ کی خلاف ورزی بھی نہیں ہو سکے گی. اگر یہ پارکنگ پلازہ کے مالکان معقول فیس موصول کریں تو بہتر چل سکیں گے اور ساتھ ہی حکومت کو دوران معاہدہ ان نجی بلڈرز کمپنی پر نظر بھی رکھنی چاہیئے.

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *