بحریہ ٹاؤن و دیگر کی بے لگام لالچ

اس اسٹوری کی وجہ سے دیہاتی خوف زدہ اور ڈرے ہوئے تھے کہ ان کی شناخت ظاہر ہوجائے گی لیکن کئی ہفتوں کی کوششوں کے بعد انہیں قائل کیا گیا کہ وہ اعتماد  کے ساتھ ان تجربات کو شیئر کریں جس میں ان پر دباؤ ڈالا جارہا کہ وہ ضلع جامشورو میں اپنی زمین کو سپرہائی وے سے دور تک پھیلی ہوئیں ہاؤسنگ کمیونٹیز کے سپرد کردیں۔

انور برفت کہتے ہیں کہ 'اگر ہمارے سردار کو پتہ چلا کہ ہم نے اس حوالے سے کسی سے بات کی ہے تو پولیس ہم پر تشدد کرے گی اور لاک اپ میں ڈال دے گی'۔

مذکورہ شخص گوٹھ کے رہائشیوں کے اس گروپ میں شامل تھے جو صفورا گوٹھ چورنگی کے قریب ایک ریسٹورنٹ پر معلومات شیئر کرنے پر راضی ہوئے تھے۔

جیسا کہ اس سے قبل کی تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ کچھ برسوں سے ضلع ملیر میں مقامی سندھی اور بلوچ برادری بحریہ ٹاؤن کراچی (بی ٹی کے) کے لیے ان کی زمینیں 'بیچنے' میں مضبوط ہاتھ رکھتی تھیں، انہیں دو مختلف انداز کے حملوں کے ذریعے سختی سے پریشان کیا گیا۔

ایک جانب اُس وقت ایس ایس پی راؤ انوار کی سرپرستی میں ملیر پولیس گوٹھوں پر چھاپے مارتی تھی اور مقامی لوگوں کو جھوٹے دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کرلیا جاتا تھا جبکہ دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کے افسر، جو ایک ریٹائر کرنل بھی ہیں، مسلسل انہیں دھمکیاں دیتے اور ڈراتے تھے۔

علاوہ ازیں کراچی کے توحید کمرشل ایریا میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس بحریہ ٹاؤن کی ناجائز زمین کے لیے رجسٹریشن فارم ایسے فروخت کر رہے تھے جیسے کوئی گرم کیک ہو۔

ایک کسان اپنی زمین پر کام کرتے ہوئے نظر آرہا ہے

ایک کسان اپنی زمین پر کام کرتے ہوئے نظر آرہا ہے

یہ اسٹوری 18 اپریل 2016 کو شائع ہونے والی گزشتہ اسٹوری کا سیکوئل ہے کہ کس طرح ریاست مقامی آبادی کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوئی اور 'زمین پر قبضے' کے قصور واروں کو سزا دینے کے نتیجے سے حکومتی نظام مزید کھوکھلا ہوگیا۔

تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کے متعدد محکموں کی ملی بھگت سے ضلع ملیر سے ملحقہ ضلع جامشورو میں ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ یہ کام پہلے کے طریقے سے زیادہ بالواسطہ طور پر جاری ہے۔

اس مرتبہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں اور پولیس کی کالی بھیڑوں کے پرانے کرداروں کے بجائے بے رحم جاگیرداروں اور ان کے خیرخواہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ پاکستان میں سب سے بڑا اسکینڈل ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے والی اسٹوری کی تیاری کے دوران سیٹلائٹ تصاویر، سائٹ کے دورے اور مقامی لوگوں سے انٹرویو کے ذریعے یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحریہ ٹاؤن کراچی، شہر کی گرین بیلٹ، ضلع ملیر میں 23 ہزار 300 ایکڑ سے زائد کی زمین پر قائم کیا جارہا ہے، بعد ازاں 4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اکثریتی فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو اپنے کراچی کے ہاؤسنگ منصوبے کے لیے ملیر میں ہزاروں ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے میں ملوث پایا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے اس قبضے کے حصول کو 'کالعدم' قرار دیتے ہوئے بورڈ آف ریونیو سندھ (بی او آر) اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے اس اسکینڈل میں کردار پر سخت تنقید کی تھی۔

تاہم عدالت نے زمین کی چوری پر جنم لینے والے تیسرے فریق کے مفادات کو حل کرنے کے لیے کچھ ہدایات جاری کی تھیں اور عدالتی فیصلے پر 'من و عن' عمل کروانے کے لیے ایک 3 رکنی بینچ بھی تشکیل دیا تھا۔

بہت سے لوگ رواں سال 21 مارچ کو دیے گئے بحریہ ٹاؤن سے متعلق قائم کیے جانے والے عمل درآمد بینچ کے فیصلے پر غور کرتے ہیں تاکہ اصل فیصلے کے کچھ اہم پہلوؤں کو نظرانداز کردیں۔

بحریہ ٹاؤن کے توسیع کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا فارم دیکھا جاسکتا ہے

بحریہ ٹاؤن کے توسیع کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا فارم دیکھا جاسکتا ہے

یقینی طور پر سپریم کورٹ بینچ نے کبھی بحریہ ٹاؤن کو اپنا ہاؤسنگ منصوبہ مزید بڑھانے کی اجازت نہیں دی، درحقیقت 21 مارچ کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ 'بی ٹی ایل کے (بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کراچی) کے پاس 16 ہزار 896 ایکڑ کے علاوہ حکومت سندھ کی ملکیت کی دیگر کسی اراضی کا حق، ٹائٹل اور مفاد یا قبضے کا اختیار نہیں، لہٰذا سندھ حکومت اور ایم ڈی اے اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس حد سے آگے کا حصہ اور کوئی اضافی اراضی پر بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کراچی کو قبضے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت سندھ، ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ یا کوئی بھی ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جائے گی۔


 کی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کے متعدد محکموں کی ملی بھگت سے ضلع ملیر سے ملحقہ ضلع جامشورو میں ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ یہ کام پہلے کے طریقے سے زیادہ بالواسطہ طور پر جاری ہے۔


سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس کی سماعتیں کرتے ہوئے مارچ میں ضلع ملیر میں اراضی کے تبادلے اور استحقاق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے اسے نمٹا دیا تھا۔

تاہم ضلع جامشورو میں توسیع کے واضح آثار نظر آئے ہیں، اگرچہ جس طرح اس زمین کو وسعت دینے کے لیے اراضی کو حاصل کیا جارہا وہ ابھی تک ایک معمہ ہے، جنوری 2019 سے جولائی 2019 کی سیٹلائٹ تصاویر نہ صرف یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کی تعمیر دیہہ مول، تعلقہ تھانہ بھولا خان اور ضلع جامشورو کے اندر بڑھ رہی ہے لیکن یہ تعمیرات جاری بھی ہیں اور بحریہ ٹاؤن کا جامشورو میں زمین کے لیے عنوان تفتیش کا متقاضی ہے۔

جنوری سے جولائی 2019 کی سیٹلائٹ تصاویر جس میں ضلع جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کے روڈ نیٹ ورک پر نئے کام کو دیکھا جاسکتا ہے

جنوری سے جولائی 2019 کی سیٹلائٹ تصاویر جس میں ضلع جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کے روڈ نیٹ ورک پر نئے کام کو دیکھا جاسکتا ہے


علاوہ ازیں جامشورو میں قبضہ مافیہ اور سندھ حکومت کی جانب سے مجرمانہ کاموں کے زیادہ سنگین نوعیت کے ثبوت موجود ہیں، جنہیں اس اسٹوری کے دوسرے حصے میں بتایا جائے گا۔

کوہستان کا بادشاہ

ملیر سے ملحقہ ضلع جامشورو میں زندگی کا ہر شعبہ رجعت پسندانہ جاگیردارانہ نظام کے تابع ہے، اس علاقے کو مقامی زبان میں کوہستان کہا جاتا ہے (جو جامشورو، حیدرآباد کے ساتھ ساتھ کراچی کے ضلع ملیر اور کچھ مغربی اضلاع پر مشتمل ہے)، جامشورو سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے رکنِ صوبائی اسمبلی سردار ملک اسد سکندر سندھ کے بااثر ترین وڈیروں میں سے ایک ہیں، وہ برفت قبیلے کے سربراہ ہیں جس میں 100 کے قریب چھوٹے قبیلے بھی شامل ہیں، یہ کوہستان کے 4 قبیلوں میں سب سے بڑا ہے ہر قبیلے کا اپنا علیحدہ سردار ہے لیکن ملک اسد سرداروں کے سردار ہیں اسی وجہ سے انہیں کوہستان کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں کثیر زمین کی ملکیت کے ساتھ ملک اسد کا مبینہ طور پر سپر ہائی وے پر قائم کی جانے والی متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیز میں حصہ ہے اور کوہستان میں کاروبار اور صنعتی سرگرمیوں سے بھی براہ راست ریونیو میں حصہ انہیں حاصل ہوتا ہے، اس علاقے میں ہندوؤں کی بھی ایک بڑی آبادی موجود ہے جس میں سے کئی چاولوں اور کپاس کی فیکٹریوں جبکہ کئی شراب خانوں کے مالک ہیں، ایک مقامی صحافی کے مطابق ان کے ملک اسد کے ساتھ ’اچھے تعلقات اور دوستی‘ ہے اور وہ سب ان کی پشت پناہی پر ہیں۔

اس کے علاوہ ملک اسد نے عرب کے شاہی خاندانوں اور پاکستان کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے شکار کا انتظام کر کے بھی تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں، جن میں ایک ریٹائرڈ جج بھی شامل ہیں، ملک اسد کے اپنے بندے، جن میں گیم وارڈنز اور سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کے انسپکٹرز بھی شامل ہیں، شکار کے لیے سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کرتے ہیں جو کوئی معمولی کھیل نہیں، کیوں کہ عرب پہاڑی بکروں اور معدومی کے خطرات سے دوچار تلور کا شکار بھی کرتے ہیں، محکمہ جنگلی حیات میں 13 برس تک کام کرنے والے ایک مقامی شخص کا کہنا تھا کہ کوہستان میں کوئی بھی سردار کی مرضی کے بغیر شکار نہیں کرسکتا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی میں گرینڈ مسجد کے افتتاح کے موقع پر ملک ریاض، ملک اسد کے ہمراہ موجود ہیں—فوٹو: ذرائع
بحریہ ٹاؤن کراچی میں گرینڈ مسجد کے افتتاح کے موقع پر ملک ریاض، ملک اسد کے ہمراہ موجود ہیں—فوٹو: ذرائع

ان کا کہنا تھا کہ عربوں کی شکار کی دعوتیں بہت بڑی ہوتی ہیں جس میں ہر کھانے پر کم از کم 100 افراد شامل ہوتے ہیں اور ہنستے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’انہیں ہر قسم کی چیز فراہم کی جاتی ہے‘۔

ملک اسد سے نیچے وڈیرے ہیں جو چھوٹے قبیلوں کے سربراہ ہیں جبکہ اس کے نیچے بھی چھوٹے وڈیرے ہوتے ہیں جنہیں کمدار کہا جاتا ہے اور ہر گاؤں میں ایک کمدار ہوتا ہے، جو کوئی اس طبقاتی نظام کو چیلنج کرتا ہے اسے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، گاؤں کی سطح پر کمدار سردار کی آنکھ اور کان کا کام کرتے ہیں اور سرداروں کے حکم کی تعمیل کو یقینی بناتے ہیں، یہ ایک قسم کا موروثی پیشہ ہے جہاں ان کے والد اور آباؤ اجداد نے بھی یہی کام کیا۔

ناگوار تاثرات کے ساتھ ایک نوجوان کسان نے بتایا کہ استحصال کے اس نظام میں پولیس بہت اہم کردار ادا کرتی ہے، صرف ایس ایچ اوز نہیں بلکہ ڈی ایس پی بھی سردار کی موجودگی میں ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، جس شخص سے کمدار یا مقامی وڈیرہ ناراض ہوجائے اسے چوری اور منشیات رکھنے کے جھوٹے مقدمے میں اٹھا لیا جاتا ہے اور کچھ دن کے لیے لاک اپ میں بند یا جیل بھیج دیا جاتا ہے، کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ 100 کلومیٹر دور کوٹری جا کر اس شخص کی ضمانت کروانا اس کے اہلِ خانہ کے لیے کس طرح کی اذیت کا باعث ہوسکتا ہے۔

گوٹھ کے ایک اور رہائشی نے ایک واقعہ سنایا کہ ’2 سال قبل دیہہ ریک کے ایک کسان نے اس بات پر اصرار کیا کہ اس کی زمین کے نیچے موجود معدنیات پر اس کا حق ہے (یہ علاقہ معدنیات کے حوالے سے مشہور ہے) تو اس کی گاڑی کو نذرِ آتش کردیا گیا اور وہ خود پولیس اسٹیشن میں پایا گیا، پولیس نے اس کی گرفتاری بلوچستان سے ظاہر کی اور اس پر دریجی سے غیر قانونی اسلحہ منتقل کرنے کا الزام لگایا، جس کی وجہ سے ضمانت سے قبل وہ کئی ماہ تک گڈانی کی جیل میں رہا۔

تاہم ملک اسد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہاں لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے موجود ہیں اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے‘۔

جامشورو میں کچھ عرصہ تعینات رہنے والے ایک پولیس افسر کے مطابق ’عموماً پولیس افسران اپنی پوسٹنگ کے دوران ان (ملک اسد) سے ملاقات کرتے ہیں لیکن میں کبھی ان سے ملنے ان کے گھر نہیں گیا (اسی وجہ سے) انہوں نے سینئر سیاسی رہنماؤں سے میری شکایت بھی کی۔

لیکن ان قبائلی سرداروں کی زبردست طاقت کی بھی حدود ہیں، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب بحریہ ٹاؤن نے چند سال قبل جامشورو میں زمین حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا (سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ کی سماعت میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحریہ ٹاؤن پہلے ہی ضلع میں کئی ایکڑ زمین حاصل کرچکا تھا)۔


علاوہ ازیں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے  بتایا گیا تھا کہ پروجیکٹ کے لیے جامشورو میں حاصل کی گئی اراضی کی تفصیلات سپریم کورٹ سے شیئر کی گئی تھیں، لیکن اس کے علاوہ  پوچھے گئے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔


کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک اسد, بحریہ ٹاؤن کے مطالبے پر عمل کرنے سے نالاں تھا جبکہ کچھ کا الزام ہے کہ زمین کے تبادلے کے لیے ملک اسد، بحریہ ٹاؤن کراچی میں مبینہ شراکت دار سندھ حکومت کے سیاسی قائدین سے زبردست سودا کرنا چاہتا تھا، کوئی بھی معاملہ ہو لیکن اسے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ کھیل کے اصول کہیں اور ترتیب دیے جارہے ہیں۔

ملک اسد اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے درمیان اختلافات 2017 میں سامنے آئے، کہا جاتا ہے کہ ملک اسد نے جامشورو کے دیہہ مولی کی قریباً 5 ہزار ایکڑ زمین کی کچھ قیمت طلب کی تھی جو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض ادا نہیں کرنا چاہتے تھے، ایک مقامی ٹھیکیدار کے بیان کے مطابق ’ملک ریاض نے زرداری سے شکایت کی کہ یہ آدمی ہر وقت مجھے دکھ ہی دیتا رہتا ہے جس پر بڑے سائیں سردار پر غضب ناک ہوگئے‘۔

(جعلی اکاؤنٹ کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ایک پیرا موجود ہے کہ ’بحریہ ٹاؤن نے کراچی میں حکومت سندھ کی چشم پوشی سے سرکاری اور اس کے ساتھ موجود نجی اراضی کا وسیع ترین رقبہ حاصل کیا جس کے لیے 10 ارب 2 کروڑ روپے کی رشوت میں سے 8 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ادائیگی بحریہ ٹاؤن نے آصف زرداری کے قابلِ اعتماد ساتھی مشتاق احمد کے مشترکہ اکاؤنٹ کے ذریعے کی)۔

سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق ’ایک ایس ایس پی کو خصوصی طور پر جامشورو میں ملک ریاض کی ایما پر ملک اسد پر دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کیا گیا‘۔

اچانک، ملک اسد کو معلوم ہوا کہ لونی کوٹ میں ان کے ڈِھکاز (ریت کی کانیں) بند ہوگئیں ہیں اس کے علاوہ کوٹری میں بہت سے منافع بخش کاروبار، جن کا فائدہ انہیں پہنچتا تھا، ختم کردیے گئے ہیں۔

دوسری جانب تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ملک اسد کے کچھ دوستوں مثلاً ارناب سومرو نے جولائی کے اواخر میں دیکھا کہ سپر ہائی وے کے ساتھ قائم ان کی ہاؤسنگ سوسائٹیز جیسا کہ ایجوکیٹرز ویلی، ایجوکیشن سٹی اور جامشورو سٹی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عارضی طور پر منہدم کردیں اور چونکہ یہ ملک اسد کی جاگیر سمجھی جانے والی زمین پر بنائی گئیں تھیں لہٰذا کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ان کے کاروبار اور سوسائٹیز میں حصہ دار تھے، اس سلسلے میں ارناب سومرو کی جانب سے دائر مقدمہ ضلعی عدالت میں زیِر التوا ہے۔

اس سے بھی اہم یہ کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے ملک اسد کے چچا زاد بھائی اور ان کے سیاسی مخالف ملک چنگیز کو پیغامات بھیجنے شروع کردیے تھے (حالانکہ ملک چنگیز کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا جبکہ ملک اسد اس وقت جامشورو سے پی پی پی کے ایم این اے تھے)۔

بحریہ ٹاؤن نے ملیر اور جامشورو کے لینڈ اسکیپ کو ناقابل تبدیل اندار میں ڈھال دیا ہے

بحریہ ٹاؤن نے ملیر اور جامشورو کے لینڈ اسکیپ کو ناقابل تبدیل اندار میں ڈھال دیا ہے

اس حوالے سے ملیر کے ایک سیاسی کارکن نے بتایا کہ بہت سے ذرائع کے مطابق ملک اسد کو ساری صورتحال کے سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور ’وہ دبئی میں جاکر آصف زرداری کے قدموں میں گرگیا‘ لیکن آج بھی پی پی پی نے ملک اسد کو کنٹرول کرنے کے لیے ملک چنگیز کو ان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکا کر رکھا ہوا ہے، جب زرداری کسی سے ناراض ہوجائے تو وہ کسی کو معاف نہیں کرتے، بہت سے ٹپی آئے اور گئے‘۔

چنانچہ آصف زرداری اور ملک اسد کے تعلقات میں کشیدگی خاصی واضح ہے، اس حوالے سے حیدرآباد کے ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ’زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے بعد کوٹری میں کوئی احتجاج نہیں ہوا، صرف چند لوگ سڑکوں پر نکلے حالانکہ عموماْ وہاں لوگوں کی بڑی تعداد باہر آتی ہے۔

‘خدارا ہماری مدد کریں‘

دوسری جانب وہ دیہاتی جن کا انحصار اس علاقے میں بارانی (برسات کے پانی پر منحصر) زراعت، پولٹری فارمنگ یا لائیواسٹاک پر ہے، انہیں مالی بدحالی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے، ایک مقامی شخص نے بے چارگی سے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زمینیں ریگولر کی جائیں تاکہ ان پر دیگر لوگ قبضہ نہ کرسکیں، مگر سردار نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کیا ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ، ’کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میرا انجام بھی ذوالفقار مرزا جیسا ہو‘، اب جب ہمارا اپنا سردار ہی ہماری مدد نہیں کر رہا ہے تو مزید ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ان کی محرومیوں کے پس منظر میں دور بحیرہ کا بنایا ہوا آئفل ٹاور کھڑا نظر آتا ہے۔

بحریہ ٹاؤن میں موجود آئفل ٹاور دور سے نظر آتا ہے

بحریہ ٹاؤن میں موجود آئفل ٹاور دور سے نظر آتا ہے

جب  ملک اسد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کسی قسم کا کوئی قبضہ نہیں ہو رہا، وہ کہتے ہیں کہ ’گزشتہ ایک برس سے ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوئی ہے، ذرا برابر بھی نہیں‘۔

تاہم قبضہ مافیا کا اس بار جرم کرنے کا طریقہ گزشتہ سے بہت زیادہ غیر واضح ہے اور اس میں ’بیچنے والوں‘ اور حقیقی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان متعدد نمائندگان کی مداخلت شامل ہے۔

مقامی انتظامیہ اور ریونیو افسران آپس کی ملی بھگت سے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کس زمین پر قبضہ ہوسکتا ہے، قبضے اکثر اسی علاقے میں کیے جاتے ہیں جہاں سرکاری زمینیں اور موروثی زمین کے کچھ ٹکڑے موجود ہوں، پھر اس ملی بھگت کے تحت زمینوں کے ریکارڈز میں ہیر پھیر کی جاتی ہے، لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور پھر کمدار دیہاتیوں کی زمین پر قابض ہوجاتا ہے جبکہ بروکرز جعلی کاغذات تیار کرتے ہیں، اس کے بعد وہ زمین اس علاقے میں بڑے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں کے نمائندگان کو بیچ دی جاتی ہے۔

ملک اسد کے قریبی رشتہ دار اور بڑے زمیندار ملک نادر نے بحریہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے زین ملک اور ملک اختر کا نام لیا، اور انہوں نے  آن دی ریکارڈ بتایا کہ ’یہ دو افراد دیہہ ساری (جو کہ جامشورو میں ہی واقع ہے) اور دیہہ مول میں زمینیں اور کاغذات خرید رہے ہیں اور اس حوالے سے ڈی سی جام شورو ان کی معاونت کر رہا ہے، یہ افراد بحریہ ٹاؤن کو وسیع بنانے کے لیے زمینں خرید رہے ہیں، اس علاقے میں زمینوں کی خرید و فروخت پر پابندی ہے جبکہ یہ لوگ غیر قانونی طور پر ایسا کررہے ہیں‘۔


وہ دیہاتی جن کا انحصار اس علاقے میں بارانی (برسات کے پانی پر منحصر) زراعت، پولٹری فارمنگ یا لائیواسٹاک پر ہے، ایک مقامی شخص نے بے چارگی سے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زمینیں ریگولر کی جائیں تاکہ ان پر دیگر لوگ قبضہ نہ کرسکیں، مگر سردار نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کیا ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ، ’کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میرا انجام بھی ذوالفقار مرزا جیسا ہو‘۔


انہوں نے  گزشتہ برس نیب کو لکھا گیا خط دکھایا، جس میں انہوں نے نیب سے فریال تالپور، مختیار کار تھانہ بولا خان منصور کلہوڑو اور ملک چنگیز خان سمیت دیگر افراد کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر تحقیقات کی درخواست کی تھی، خط میں لکھا تھا کہ ’مذکورہ افراد نے آپس کی ملی بھگت کے تحت حقوق کے جھوٹے ریکارڈز، فروخت کے جعلی سرٹیفکیٹ کے اجرا اور مذکورہ بالا دیہوں (جامشورو میں واقع بابر بند، ہتھل بتھ، کالو کوہار ار مول) کی 10 ہزار ایکڑ زمین کے جعلی اندراج کی صورت میں بڑی کرپشن کی ہے‘، انہوں نے حال ہی میں  یہ اطلاع دی کہ ’وہ لوگ مول میں اپنا ہدف حاصل کرچکے ہیں جہاں انہوں نے 10 ہزار ایکڑ زمین خریدی ہے اور وہاں اب مزید زمینوں کی خریداری نہیں کی جا رہی ہے‘۔

اس علاقے میں بہت سارے کمدار ہیں، تاہم گوٹھ کے رہائشیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے دوران کچھ ایسے نام بھی بتائے گئے جو زمین پر قبضہ کرنے کے حوالے سے کافی سرگرم ہیں، ایک ایسا ہی شخص گڈاپ میں رہتا ہے جسے گاؤں والے ’قبضہ گیر ٹولے کا سربراہ‘ پکارتے ہیں، ان سارے کمداروں نے قبضہ مافیا کے لیے سب سے کم درجے کی حیثیت میں کام کرتے ہوئے اور علاقے میں دیگر جرائم پیشہ سرگرمیوں کے ذریعے بے تحاشا دولت اکھٹا کی ہے، ان کے جرائم سے متعلق سرگرمیوں کی تفصیلات آپ اس رپورٹ کے دوسرے حصے میں پڑھ سکیں گے۔

حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک رضاکار کے مطابق زمینداروں کے علاوہ یہاں کوئی بھی اپنی زمینیں اپنی رضا مندی سے بیچنا نہیں چاہتا، وہ کہتے ہیں کہ ’انہیں زراعت اور لائیواسٹاک سے جڑے کاموں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا، یہ لوگ آخر کہاں جائیں گے؟‘

بڑے زمیندار بھی اپنی زمینیں بیچنا نہیں چاہتے، جب موسیٰ چھورو گوٹھ، پنی لڈو چھورو و دیگر دیہاتوں کا وڈیرہ ایک اور لیکن زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والے قبائلی سردار کے پاس اپنی مشکل بتانے خود چل کر گئے تو انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔

ضلع جامشورو کے کئی دیہاتیوں نے انکشاف کیا کہ انہیں 70 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے اپنی زمین بیچنے پر مجبور کیا گیا ہے اور اب بھی کیا جا رہا ہے، (2017 میں تیسر ٹاؤن میں 120 گز کا پلاٹ ایک لاکھ 20 ہزار روپے کا تھا، آج بھی اگر اس قیمت پر زمین کو بیچا جائے تو اس علاقے میں ایک ایکڑ کی قیمت 40 لاکھ روپے بنتی ہے!)

دیہاتیوں کی جانب سے ’فروخت‘ کی جانے والی زمین کو بعدازاں علاقے کے بڑے بڑے ڈویلپرز کی نمائندگی کرنے والے افراد 20 لاکھ یعنی 2 ہزار 757 فیصد اضافی قیمت میں خریدتے ہیں، ایک مقامی بروکر نے  ان قیمتوں کی تصدیق کی، کئی مواقع پر تو زمین کے مالکان سے وعدے کے مطابق یہ حقیر رقم بھی پوری نہیں مل پاتی۔

ایک ایکڑ 4 ہزار 840 مربعہ گز پر مشتمل ہوتا ہے، تو 20 لاکھ کی قیمت کو مد نظر رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہزار مربع گز کی قیمت تقریباً 4 لاکھ بنتی ہے، اس خطیر رقم کو مزید خطیر بنایا جاتا ہے، جس کی مثال بحریہ ٹاؤن کے اسپورٹس سٹی، جو اس وقت ملیر کے دیہہ بولاری کی اس سرحد تک پھیل چکا ہے جہاں سے ضلع جامشورو کا دیہہ مول شروع ہوتا ہے، سے لی جاسکتی ہے جہاں ایک ہزار مربع گز کے پلاٹ کی قیمت 2016 میں قرعہ اندازی کے وقت 92 لاکھ روپے سے زائد تھی، یعنی ایک سے 2 ہزار 200 فیصد اضافی قیمت۔

مقامی افراد کے مطابق ان سے خریدی گئی زمین کو ان پہلے سے بنے بنائے رہائشی منصوبوں کے قریبی حصوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان منصوبوں میں توسیع دی جاسکے، اس علاقے سے تعلق رکھنے والے اعلی تعلیم سے منسلک استاد نے بتایا کہ ’اس مرتبہ ڈویلپرز اشتمالِ اراضی (consolidation) کا عمل کرنے کی غلطی نہیں کرنے والے کیونکہ اسی عمل کے باعث اس سے قبل بحریہ ٹاؤن کا سچ بُری طرح سے لوگوں کے سامنے آگیا تھا‘۔

تاہم جب ڈی سی جامشورو ریٹائرڈ کیپٹن فرید الدین مصطفیٰ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ ذاتی حیثیت میں تو زمین کی خرید و فروخت کررہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں کسی قسم کی زمین کی منتقلی نہیں ہوئی‘۔

بورڈ آف ریونیو سندھ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کا یہ نقشہ سپریم کورٹ کو پیش کیا گیا تھا، دسمبر 2017 کی یہ تصویر گوگل ارتھ پرو پر حالیہ تصویروں میں سے ایک ہے۔

بورڈ آف ریونیو سندھ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کا یہ نقشہ سپریم کورٹ کو پیش کیا گیا تھا، دسمبر 2017 کی یہ تصویر گوگل ارتھ پرو پر حالیہ تصویروں میں سے ایک ہے۔

ساجد چھورو نامی مقامی بروکر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں کون سے طریقے اپنائے جا رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ دیہہ مول کی زیادہ تر زمین سروے شدہ نہیں ہے، سروے نمبرز زیادہ سے زیادہ 2 ایکڑ پر مشتمل چھوٹے علاقوں کے لیے ہوتے ہیں، وہ کھاتے (زمینی ریکارڈ میں کھاتا دراصل ملکیت کا تخمینہ ہے جس میں اس کا رقبہ اور اس کے مالک کا نام بھی درج ہوتا ہے) لے کر اسے سرکاری زمین کے آس پاس کی زمین کے ٹکڑے کے قریب منتقل کر رہے ہیں، مثال کے طور پر اگر وہ 10 ایکڑ کا کھاتا لیتے ہیں تو اسے وہ ریکارڈ میں 100 ایکڑ ظاہر کریں گے اور بحریہ ٹاؤن کے قریب واقع زمین پر منتقل کردیں گے، پھر وہ سر جھکاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’دیہہ مول کے سارے کھاتے ایک ہی کونے میں منتقل کردیے جائیں تو کیسا رہے گا؟‘

جامشوروں کے مقامی افراد سے انٹرویو کرنے کے بعد مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ نجی منتقلیوں کے ذریعے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت سندھ کا لینڈ روینیو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، جس کے اتنے ڈھول بھی پیٹے گئے تھے، اس میں ڈیجیٹلائزڈ زمینی ریکارڈ کئی ماہ سے پراسرار طور پر ناقابل رساں بنا ہوا ہے، یہ عدم رسائی مذکورہ بالا افراد کے دعوؤں کو تقویت پہنچاتی ہے اور تحقیقات کا تقاضا بھی کرتی ہے۔

نیب تحقیقات

اب بات کرتے ہیں اس علاقے میں ہونے والے سب سے مشہور قبضے کی، برسوں تک بحریہ ٹاؤن کے خلاف سپریم کورٹ میں چلنے والے مقدمے میں نیب ٹال مٹول کا مظاہرہ کرتی رہی، 2016 میں ادارے کے ایک ذرائع نے  بتایا کہ ’آپ کو اندزہ ہی نہیں ہے کہ اس معاملے پر کوئی تحریک نہ لینے کے لیے ہمیں کس قدر دباؤ کا سامنا ہے، ‘تاہم مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انسداد کرپشن کے نگران ادارے کو بی ٹی میں شامل غیر قانونی کام انجام دینے والوں کے خلاف تحقیقات میں مجبور کرنے میں کامیاب رہی'۔

اپنے 4 مئی 2018 کے سنائے گئے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کے لیے سپریم کورٹ کے قائم کردہ بینچ میں دوران سماعت نیب نے عدالت عظمیٰ میں متعدد خفیہ پیش رفت رپورٹس جمع کروائیں۔

ان رپورٹس کی مندرجات دنگ کردینے والی ہیں، یہ رپورٹس دیگر باتوں کے علاوہ بحریہ ٹاؤن کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالنے کی ہر ادارتی کوششوں پر، جس نافرمانی کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی حقیقت بھی اجاگر کرتی ہے۔

نیب کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر/تفتیشی افسر کی دستخط شدہ 19 نومبر 2018 کو جاری کی جانے والی نیب کی دوسری رپورٹ،  سے ایک اقتباس مندرجہ ذیل پیش کیا جا رہا ہے:

’یہ بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ سی ای او علی احمد ریاض ملک اور بی ٹی پی ایل کے مذکورہ بالا 5x نمائندگان (وسیم رفعت، وقاص رفعت، شاہد محمود، محمد اویس اور فیصل سرور) کو کئی مرتبہ طلبی کے نوٹسز بھیجے گئے لیکن اس کے باوجود وہ ایک مرتبہ بھی تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے، حال ہی میں جب مذکورہ 5x نمائندگان کے پتوں پر، جو طلبی نوٹسز میں بھیجے گئے، وہ وہاں پہنچے بغیر ہی واپس آگئے‘۔

سپریم کورٹ کی جانب سے 21 مارچ 2019 کو سنائے جانے والے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کے لیے تشکیل دیئے گئے بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے زمین کو قانونی دائرے میں لائے جانے کے عوض 7 برس میں 460 ارب روپے ادا کرنے کی پیشکش قبول کی۔

عمل درآمد بینچ کے حکم کا ایک ناقابل فہم پہلو اس کی جانب سے نیب کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف ’فی الحال‘ کسی قسم کا ریفرنس دائر نہ کرنے کی ہدایت تھا اور یہ کہ اس وقت تک ایسا کچھ نہ کیا جائے جب تک رقم کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جاتی یا ’مذکورہ شرائط و ضوابط‘ کی نافرمانی نہیں کی جاتی، یہ بات 4 مئی 2018 کے اس فیصلے کے متضاد دکھائی دیتی ہے جس میں نیب کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ 3 ماہ کے اندر اپنا تحقیقاتی عمل پورا کرے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم میں شامل تمام افراد کے خلاف احتساب عدالت میں قانونی کارروائی کا آغاز کرے۔

نیب میں موجود ذرائع کے مطابق، مقدمہ نمبر NABK2016010138803 کی تحقیقات کی گئی تھیں، جس میں ’نجی منصوبے کی تعمیر کے مقصد کے لیے ضلع ملیر کے کئی دیہوں کی ہزاروں ایکڑ پر محیط اراضی کی غیر قانونی ایڈجسمنٹ/مبادلہ/اشتمال اراضی‘ کے عمل میں شامل 34 ملزمان کے نام درج کیے گئے تھے‘۔

ان ناموں میں ملک ریاض، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، داماد زین ملک، اہلیہ بینا ریاض، سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے نام شامل تھے، اس کے علاوہ 23 ناموں میں بی او آر سندھ، ایس بی سی اے اور ایم ڈی اے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے نام شامل ہیں، ساتھ ہی ساتھ سابق ڈی سی ملیر ملک قاضی جان محمد، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایم ڈی اے محمد سہیل اور 6 ریٹائرڈ ایس بی سی کے ڈی جیز کے نام بھی شامل تھے، ملزمان ٹھہرائے گئے افراد کی فہرست میں ایک نام بدنام زمانہ 'منظور کاکا' کا بھی شامل تھا جو بہت پہلے ہی کینیڈا فرار ہوگئے تھے، مقامی حکومت کے سابق سیکریٹری جاوید حنیف، جو اس وقت ایک غیر متعلقہ الزام میں جیل میں ہیں، وہ بھی اس فہرست میں شامل ہیں جبکہ 5 نام بحریہ ٹاؤن کے نمائندوں کے طور پر بیان کیے گئے۔

نیب کی تحقیقاتی رپورٹ کی کاپی جس میں سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تجویز دی گئی ہے

نیب کی تحقیقاتی رپورٹ کی کاپی جس میں سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی تجویز دی گئی ہے

نیب کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، ’آر بی ایم کے معاملے میں سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے کردار پر ہونے والی گفتگو/تحقیقات کے دوران ان کے خلاف حاصل ہونے والے ثبوت کی روشنی میں یہ فیصلہ ہوا کہ قائم علی شاہ کے خلاف اتنی تعداد میں شواہد دستیاب ہیں/اکھٹا کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے‘۔

دوسری جانب ملیر میں جس جگہ 'بی ٹی کے' کی آمد متوقع ہے، وہاں کی زمین کی حیثیت کو لے کر ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے 4 مئی 2018 کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں یہ حکم دیا تھا کہ ’حکومت کی زمین دوبارہ حکومت کو لوٹا دی جائے گی اور سرکاری زمین کے بدلے میں دی جانے والی بحریہ ٹاؤن کی زمین دوبارہ بحریہ ٹاؤن کو لوٹا دی جائے گی۔۔۔ بی او آر، بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی اشتمال اراضی کے 1912 کے ضابطوں کے تحت نئے سرے سے اراضی جاری کرسکتا ہے‘۔

(یہاں عدالت کی مراد بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ملیر کے ان دور دراز واقع علاقوں میں اراضی کے الگ الگ ٹکڑوں کی مبینہ طور پر غیر قانونی خریداری سے تھی جہاں زمین کی قیمت اتنی کم ہے کہ آپ 20 ہزار روپے میں ایک ایکڑ خرید سکتے ہیں، جس کے بعد ایم ڈی اے نے بحریہ کو فائدہ پہنچانے کی خاطر غیر قانونی طریقوں سے ان زمین کے ٹکڑوں کے بدلے میں سپرہائی وے کے قریب واقع زمین فراہم کردی جہاں زمین کی قیمت 50 گنا زیادہ ہے۔)


تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے باوجود کہ ملیر میں زمین کا مبادلہ اور اشتمال اراضی کی سرگرمیاں ’ابتدا سے ہی غیر قانونی ہیں اور یہ کسی قسم کی حیثیت نہیں رکھتیں‘، مگر زمین کے اصل حقدار بی او آر سندھ نے ابھی تک ایک بھی انچ زمین ’نئے سرے‘ سے بحریہ ٹاؤن کو الاٹ نہیں کی۔


ذرائع کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ عدالت نے یہ واضح ہی نہیں کیا کہ یہ عمل کس طریقہ کار کی بنیاد پر کیا جائے، سرکاری زمینوں کے اشتمال کے ایکٹ برائے 1912 میں ایسی صورتحال میں معاون ثابت نہیں ہوتا، جس میں جن عوامل کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اسے قانونی دائرے میں لایا جاسکے، موجودہ حالات میں نیب خاص طور پر سرگرم نظر آتی ہے ایسے میں اس الجھے مسئلے نے بیوروکریسی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، (بلکہ بی او آر سندھ کے سینئر رکن کو حال ہی میں او ایس ڈی بنایا دیا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی ذمہ داری لینے سے گریزاں تھے جس کی وجہ سے آگے چل کر ان کے لیے قانونی مسائل پیدا ہوسکتے تھے، موجودہ ایس ایم بی آر شمس الدین سومرو ہیں۔)

پھر بھی حکومت سندھ نے خود کو 4 مئی کے عدالتی فیصلے کی بجا آواری کا منظر پیش کرنے کی کوشش کی، 29 اکتوبر 2018 کو اس وقت کے ایس ایم بی آر محمد حسین سید نے کراچی میں اپنے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کی، اس اجلاس میں مقامی حکومت کے محکمہ جات، اس کے علاوہ ڈی جی، ایم ڈی اے اور اس وقت کے ڈی سی ملیر بھی شریک تھے۔

اجلاس میں ہونے والی باتوں کی تفصیلات کے مطابق، اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بی او آر ان مقامات پر ان احکامات کو منسوخ کردے گی یا پیچھے ہٹ جائے گا جہاں ایم ڈی اے کے حق میں اس نے زمین الاٹ اور مختص کی ہوئی تھی، ’ڈی سی ملیر کراچی کو حکم نامہ ملنے پر۔۔۔ معزز سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ضروری ایکشن لیں گے۔۔۔۔‘

تاہم تاحال کسی قسم کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، نہ تو بی او آر نے ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی ہے اور نہ ہی ڈی سی ملیر شہزاد افضل عباسی نے غیر قانونی طور پر حاصل کی جانے والی زمین کو اپنے اختیار میں لیا ہے، حتیٰ کہ بی او آر نے مطلوبہ کارروائی کی یاد دہانی بھی کروائی۔

بی او آر کے قانونی مشیر جی این مغل اور بی او آر کے ڈپٹی سیکریٹری ارشاد رند دونوں نے یہ تصدیق کی کہ اس سمت میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، ارشاد رند نے ڈی سی ملیر پر الزام عائد کیا اور کہا کہ 4 مئی کے فیصلے کے بعد عملی طور پر سرکاری قبضہ واپس لینے اور وہاں پر جاری بحریہ ٹاؤن کے تعمیراتی کام کو روکنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔

جہاں تک ایم ڈی اے کا تعلق ہے تو اس کے مشیر پلاننگ منظر ظہور بھی یہی مؤقف رکھتے ہیں، ’ڈی سی ملیر کو سب سے پہلے بحریہ ٹاؤن کی زمین اپنے اختیار میں لینی ہوگی اس کے بعد حکومت سندھ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ایم ڈی اے کو زمین الاٹ کرنی ہوگی‘، اطلاعات کے مطابق بی او آر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب زمین کی ریگولرائزیشن کے حوالے سے اتفاق رائے کے ساتھ طریقہ کار وضح ہونے کے بعد اس کی قانونی منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کو بھیجا جائے گا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے شوکاز نوٹس کا عکس جس میں بحریہ ٹاؤن کو این او سی حاصل کیے بغیر غیرقانونی تعمیر روکنے کا کہا گیا ہے

سپریم کورٹ کے عمل درآمد بینچ نے 21 مارچ کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ 'بی ٹی کے' کا تعمیراتی کام ’ایس بی سی اے قوانین کے ساتھ قابل اطلاق قوانین، ضابطوں اور ریگولیشن‘ کے مطابق ہونا چاہیے, یہاں ایک بات سمجھ نہیں آتی وہ یہ کہ ایس بی سی اے جو ایک صوبائی ادارہ ہے جس کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ عمارتوں کے پلان موجودہ بلڈنگ و ٹاؤن پلاننگ ضابطوں کے عین مطابق ہوں، اس ادارے نے کس طرح بنیادی این او سیز حاصل کیے بغیر 'بی ٹی کے' کو اپنا تعمیراتی کام شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ تاحال اتھارٹی نے محض اس وسیع و عریض منصوبے کے 6 ہزار 728 ایکڑ کے لیے آؤٹ پلانز منظور کیے ہیں۔

بلکہ رواں سال کے اپریل کی ہی بات ہے جب ایس بی سی اے نے بحریہ ٹاؤن کو ’اخبارات میں لبرٹی کمرشل کے نام کے ساتھ بحریہ ٹاؤن میں کمرشل پلاٹس کی فروخت/بُکنگ کے حوالے سے شائع ہونے والے اشتہارات کا حوالہ دیا، جن میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہاں 12 منزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازت حاصل کرلی گئی ہے، ادارے کے مطابق یہ اشتہار گمراہ کن ہے کیونکہ ایس بی سی اے نے بحریہ ٹاؤن میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی کسی قسم کی اجازت نہیں دی بلکہ اس سے پہلے ایک ہزار 55 گھروں کے، جن ڈیزائن کی اجازت دی گئی، منظوری بھی منسوخ کرچکا ہے۔

اس کے بعد بحریہ ٹاؤن کو ہدایت کی گئی کہ وہ ’اس جگہ غیر قانونی اور غیر منظور شدہ تعمیرات کا کام اور فروخت و تشہیری سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔۔۔‘ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ بھی ریگولیٹری اتھارٹیز کا ایک دکھاوے کا اقدام ہے، جس کی پیروی کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔

بشکریہ ڈان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *