جسٹس فائز عیسیٰ ریفرینس: لارجر بینچ میں شامل ججوں پر تحفظات

سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز سے متعلق متعدد درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

تاہم وکلا تنظیموں نے اس بینچ میں کچھ ججوں کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی تنظیم، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ ایسے ججوں کو اس بینچ میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے جو سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی ہیں یا جنھیں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کارروائی سے فائدہ ہو سکتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے تشکیل دیا گیا لارجر بینچ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 17 ستمبر سے کام شروع کرے گا اور بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر علی خان میاں خیل شامل ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بینچ میں سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ارکان، جن میں چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم شامل ہیں، نہیں بیٹھ سکتے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق مسعود بھی اس بینچ کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ان کے مطابق پاکستان بار کونسل کی درخواست میں فل کورٹ بنانے کی استدعا کی گئی تھی اور صرف ان پانچ ججز کو ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔

امجد شاہ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ سناتی ہے تو اس سے جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الااحسن کو فائدہ بھی ہو گا۔

ایسا ہونے کی صورت میں جسٹس طارق مسعود ریٹائرمنٹ سے پہلے پاکستان کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کی بطور چیف جسٹس مدت میں چھ ماہ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ اخلاقی طور پر ان دونوں ججز کو اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر وکلا دوران سماعت ان دونوں جج کی شمولیت پر اعتراض اُٹھائیں گے۔

اسلام آباد

جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے اور اُنھوں نے اپنی درخواست میں عدالت عظمی کا فل کورٹ بنانے کی استدعا کی تھی جس میں صرف وہ تین جج صاحبان شامل نہ ہوں جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کے موقع پر اپنے خطاب میں ان ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اس صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک اعلی عدالتوں کے ان دو ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی نہیں ہو گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس اس بنیاد پر بنایا گیا ہے کہ اُنھوں نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کا ذکر انکم ٹیکس کے گوشواروں میں نہیں کیا۔

اس صدارتی ریفرنس کے خلاف چھ سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہیں اور درخواست گزاروں میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سنئیر وکیل عابد حسن منٹو بھی شامل ہیں۔

عابد حسن منٹو نے اپنی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی ہے کہ پہلے ان زیر التوا ریفرنس پر فیصلہ دیا جائے جو کہ عرصہ دارز سے سپریم جوڈیشل کونسل میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، کے مطابق اب صرف نو ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا ہیں جبکہ مختلف ججز کے خلاف ایک سو کے قریب درخواستوں کو نمٹا دیا گیا ہے تاہم اُنھوں نے ان ججز کے نام نہیں بتائے جن کے خلاف درخواستیں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی تھیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اس ضمن میں چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت درخواستوں کی تفصیلات مانگی گئی تھیں تاہم اس کونسل کے سیکرٹری کی طرف سے ابھی تک معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *