گلوکارہ رابی پیرزادہ کا سانپ رکھنے کے الزام میں چالان

سنیچر کو صوبہ پنجاب کے محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے شہرت یافتہ پاکستانی کلوگارہ رابی پیر زادہ کو چار عدد اژدھوں اور ایک عدد مگرمچھ رکھنے پر چالان کیا ہے۔

چالان میں یہ درج ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف کو سوشل میڈیا اور دنیا نیوز کے ذریعے سے اطلاع ملی کہ رابی پیر زادہ نے غیر قانونی طور پر پر چار عدد اژدھے اور ایک عدد مگرمچھ اپنے سیلون میں رکھے ہوئے ہیں جو کہ وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

’لہذا وائلڈ لائف ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملزمہ مذکورہ کا وائلڈ لائف ایکٹ 1972 ترمیم شدہ 2007 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ مزید انکوائری جاری ہے۔‘

رابی پیرزادہ

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے مطابق رابی پیر زادہ نے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ ممنوعہ اور محفوظ قرار دی گئی جنگلی حیات کے ساتھ پائی گئی ہیں۔

یو ٹیوب پر موجود پچاس سیکنڈ کی ایک وڈیو میں رابی پیر زادہ کو اژدھے اور مگرمچھ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ایک کشمیری لڑکی اپنے سانپوں کے ہمراہ بالکل تیار ہے۔

اور یہ سب مودی کے لیے ہیں اور ان کے لیے تیار ہوجاؤ، یہ سب میرے دوست ہیں۔ جس کے بعد وہ کشمیر سے متعلق گنگنا رہی ہوتی ہیں۔

محکمہ وائلڈ

رابی پیر زادہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وائلڈ لائف کے چالان میں عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی بھی غیر قانونی کام نھیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس کوئی بھی اژدھا، مگر مچھ یا سانپ نھیں ہیں۔ میرے سیلون کو بند ہوئے چار ماہ ہوچکے ہیں۔ یہ مگر مچھ اور سانپ اپنے گھر کے قریب موجود گلی میں موجود سپیروں سے حاصل کیے تھے اور اکثر اوقات ان سے اپنے مختلف ریکارڈنگ وغیرہ کے لیے حاصل کرتی رہتی ہوں جو ان کو واپس کردیے جاتے ہیں۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ میرے کئی گانوں کی ریکارڈنگ میں سانپ وغیرہ موجود ہیں جس کے ساتھ میں نے شوٹ کروایا ہے اس وقت محکمہ وائلڈ لائف نے میرے ساتھ رابطہ کیوں نہیں کیا، مجھے نوٹس کیوں نہیں دیا تھا؟

’ایسا اس وقت ہی کیوں ہوا ہے جب میں نے کشمیر اور مودی کے بارے میں بات کی ہے؟‘

رابی پیر زادہ کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کارروائی کی باتیں درحقیقت مودی کو خوش کرنے کے لیئے کی جارہی ہیں۔ ’یہ ویڈیو خصوصی طور پر جی این این ٹیلی وژن کے اسٹوڈیو میں اپنے ایک شوٹ کے دوران بیک اسٹیج پر تیار کروائی تھیں کیونکہ میں کشمیر کے متعلق بات کرنا چاہتی تھی۔

رابی پیرزادہ

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پرانی طرز کی جنگ تو نہیں ہے اب تو سوشل میڈیا وار ہے۔

سوشل میڈیا پر آئیڈیا دینا ہوتا ہے۔ وہ آئیڈیا آگے بڑھتا ہے اور پیغام آگے پھیلتا ہے۔ میرے سانپوں کے ساتھ وڈیو بھی ایک پاکستانی کشمیری لڑکی کا پیغام تھا۔ اس وڈیو کو اسی طرح لینا چاہیے۔

رابی پیر زادہ نے ایک وڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ چند سال پہلے میں نے دیکھا کہ لوگ سانپوں اور رینگنے والے جانوروں کو مار دیتے ہیں۔ جس پر میں نے ا ن لوگوں کی مدد شروع کردی تھی جو کہ یہ کام کرتے تھے۔ حلانکہ یہ کام تو محکمہ وائلڈ لائف کا تھا مگر انھوں نے نھیں کیا اور میں نے کیا۔

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کیا کہتا ہے؟

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل سہیل اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سانپ، اژدھا، مگر مچھ یا دیگر رینگنے والے جانور قانون کے اندر محفوظ قرار دیے گے ہیں۔ ان کے شکار، گھروں میں پالتو رکھنے یا خرید و فروخت پر پابندی عائد ہیں۔

رابی پیر زادہ نے اپنے وڈیو خود شیئر کی ہے جس میں وہ چار عدد اژدھا اور مگرمچھ کے ساتھ ہیں جس پر ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوئی ہے۔ عدالت کو چالان بھجوا دیا گیا ہے جہاں پر وہ اپنا موقف بھی دیں گی جس کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ وائلڈ لائف نے وڈیو میں نظر آنے والے مگرمچھ اوراژدھے برآمد کروانے کے لیے عدالت سے تلاشی وارنٹ کی درخواست کر رکھی ہے جب یہ اجازت ملے گئی تو وڈیو میں نظر آنے والے مگرمچھ اور اژدھا برآمد کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

ربی پیرزادہ

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعیم بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے محکمے نے گذشتہ کچھ عرصے میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے جو محفوظ قرار دیے گئے جنگی حیات کا غیر قانونی شکار یا ان کو اپنے پاس پالتو کے طور پر رکھتے ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور دیگر لوگوں کو بھی غلط ترغیب دیتے ہیں۔

رابی پیر زادہ کی وڈیو پر بھی کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

گذشتہ تین ماہ کے دوران کم از کم سوشل میڈیا کے ذریعے سے کم از کم بیس لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

نعیم بھٹی کا کہنا تھا کہ رینگنے والے جانوروں کے قانون کے تحت تو لائسنس جاری کرنے کی بھی کوئی اجازت نھیں ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر اگر عدالت میں الزام ثابت ہوجائے تو اس کی دو سے پانچ سال تک قید، دو لاکھ سے لے کر دس لاکھ تک جرمانہ، دونوں یا کوئی ایک سزا دی جا سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *