طالبان کے افغانستان میں حملے، امریکا کا اظہار مذمت

امریکا نے طالبان کے افغانستان کے اداروں، انفراسٹکچر اور عوام پر حملوں کی مذمت کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کابل اور افغان صدر اشرف غنی کے صدارتی انتخابات پر طالبان نے علیحدہ علیحدہ حملے کیے تھے جس میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'طالبان نے آج ہی کابل میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، انہوں نے پروان میں بھی صدارتی امیدوار کی ریلی کے دوران دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں 24 سے زائد افراد ہلاک ہوئے'۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ 'طالبان ملک کے کئی علاقوں میں ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو بجلی کے ترسیلی نظام پر حملے کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان اندھیروں میں ڈوب گیا ہے اور اسے کئی دیگر چیلنجز کا سامنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان افغانستان کے اداروں اور عوام کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، حقیقی مصالحتی عمل کے لیے طالبان کو اس کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرنا ہوگا نا کہ تشدد کی فضا برپا کرکے ملک کا امن بگاڑنا ہوگا'۔

گزشتہ روز پہلا دھماکا افغانستان کے مرکزی صوبے پروان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ اشرف غنی کی ریلی کے دوران ہوا جس میں 26 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے۔

اس کے ایک گھنٹے بعد ہی کابل کے وسط میں امریکی سفارتخانے کے قریب ایک اور دھماکا ہوا جس میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے۔

صدارتی مہم کے ترجمان حمید عزیز کا کہنا تھا کہ اشرف غنی وہاں موجود تھے لیکن وہ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

طالبان کی جانب سے افغانوں کو پہلے ہی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ووٹ نہ دیں کیونکہ وہ پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی مہمات کو نشانہ بنائیں گے۔

دوسری جانب افغان صدر کا کہنا تھا کہ 'طالبان اپنے جرائم جاری رکھے ہیں، انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام میں دلچسپی نہیں رکھتے'۔

یاد رہے کہ 18 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے، جو گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے اعلان کے بعد منقطع ہوگئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کی وجہ انہوں نے افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوج کی ہلاکت کو قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور افغان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات کو بھی معطل کردیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *