بین سٹوکس: ’دی سن کی کہانی غیر اخلاقی اور سنگدلانہ ہے‘

انگلش آل راؤنڈر بین سٹوکس کا کہنا ہے کہ دی سن اخبار میں ان کے خاندان کے بارے میں شائع ہونے والی خبر ’قابلِ نفرت‘ اور ’صحافت کی پست ترین قسم‘ ہے۔

منگل کے روز شائع ہونے والی ایک خبر میں دی سن اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ بین سٹوکس کے سوتیلے بہن اور بھائی کو قریباً 31 برس قبل قتل کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے بین سٹوکس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’دی سن اخبار نے میرے خاندان کے حوالے سے انتہائی ذاتی اور صدماتی واقعات کو چھاپنا مناسب سمجھا جو انتہائی غیر اخلاقی اور سنگدلانہ تھی۔‘

28 برس کے سٹوکس نے انگینڈ کو 2019 کا عالمی کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور حالیہ ایشز ٹیسٹ سیریز کے ہیڈنگلے ٹیسٹ کے دوران 135 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر انگلینڈ کو فتح سے ہمکنار کرایا تھا۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کہانی ’میرے خاندان کی ذاتی زندگیوں سے متعلق ہے اور یہ قریباً 31 برس پرانی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کہانی میں ’بہت سی باتیں درست نہیں ہیں جس کے باعث اس سے ہونے والا نقصان بڑھ گیا ہے۔‘

انھوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ ’اس خبر کو شائع کرنے کے فیصلے سے خاص کر میری والدہ کے لیے زندگی بھر کے لیے گھمبیر مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘

ڈرہم اور انگلینڈ کے آل راؤنڈر نے مزید کہا کہ ’اس حوالے سے میرا نام استعمال کرنے اور میرے والدین کی ذاتی زندگیوں کی پرائیویسی کو پامال کرنا قابلِ نفرت ہے۔

’میرے لیے وہ الفاظ ڈھونڈنا مشکل ہیں جن کے ذریعے میں صحافت کی آڑ میں کیے جانے والے اس نیچ اور قابلِ حقارت رویے کو بیان کر سکوں۔‘

بین سٹوکس

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’میں اپنے خاندان کے احساسات اور حالات کے بارے میں اس سے زیادہ غیر اخلاقی، سنگدل اور حقارت آمیز اقدام کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میری پبلک پروفائل کے نقصانات بھی ہیں اور میں انھیں تسلیم بھی کرتا ہوں لیکن میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ میری پبلک پروفائل کا بہانہ بنا کر میرے والدین، بیوی، بچوں اور خاندان کے دیگر اراکین کے حقوق پامال کریں۔ انھیں اپنی ذاتی زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔‘

سٹوکس نے کہا کہ ’تین دہائیوں سے زائد عرصے سے میرے خاندان نے اس ذاتی صدمے کو جھیلنے کے لیے بہت محنت کی ہے اور ان ذاتی اور صدماتی واقعات کو پرائیویٹ رکھنے کی بھی بہت کوشش کی ہے۔‘

سٹوکس کے مطابق سنیچر کے روز دی سن نے اپنے ایک رپورٹر کو اچانک نیوزی لینڈ میں مقیم ان کے والدین کے گھر بھیجا اور ان سے ’انتہائی پریشان کرنے والے موضوع‘ کے حوالے سے سوالات پوچھے۔

سٹوکس نے بتایا کہ ’یہی نہیں دی سن نے ہمارے ذاتی المیے میں سنسنی بھر کے اسے اخبار کے صفحہ اول پر چھاپا۔

’یہ صحافت کی پست ترین قسم ہے جس میں لوگوں کی زندگیوں میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں نہیں سوچا جاتا۔ یہ سب بہت غلط ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *