آسٹریلیا: دو دن تک ٹوٹی ہوئی ٹانگ اٹھائے رینگنے والے ہائیکر کو بچا لیا گیا

ایک آبشار میں چھ میٹر (20 فٹ) کی بلندی سے گر کر زخمی ہونے والے آسٹریلوی ہائیکر کا کہنا ہے کہ ریسکیو کیے جانے سے قبل دو دنوں تک انھیں اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو ’اٹھا کر‘ رینگنا پڑا۔

54 سالہ نیل پارکر اتوار کو برسبین کے قریب تنہا ہائیکنگ کر رہے تھے جب وہ اچانک پھسل گئے جس کی وجہ سے ان کی کلائی ٹوٹ گئی اور ٹانگ کا نچلا ’حصہ دو حصوں میں ٹوٹ گیا۔‘

اس حادثے میں اپنا فون کھو دینے کے بعد انھیں اپنے بچنے کا واحد طریقہ یہ نظر آیا کہ وہ رینگ کر کسی صاف جگہ پہنچیں۔

وہ کسی طرح وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے اور انھیں دیکھ لیا گیا، مگر ان کا یہ سفر تکلیف دہ حد تک سست رفتار تھا۔

بدھ کے روز ہسپتال میں اپنے بیڈ سے انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’میں کسی طرح تقریباً ایک میٹر یا ڈیڑھ میٹر کھسکتا اور پھر رک کر اپنی سانسیں بحال کرتا۔‘

’مجھے یقین نہیں آتا۔ وہ صرف تین کلومیٹر کا فاصلہ تھا مگر مجھے تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں دو دن لگ گئے۔ مجھے لگتا تھا کہ میں وہاں تک کبھی نہیں پہنچ سکوں گا۔‘

’بچنے کا ایک ہی طریقہ‘

پارکر ماؤنٹ نیبو پر تین گھنٹے کی ہائیکنگ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب ان کے پاؤں کے نیچے کے پتھر کھسک گئے اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے آبشار سے نیچے گر گئے۔

انھوں نے کہا: ’میں تقریباً 20 فٹ تک کسی بگھی کے پہیے کی طرح لڑھکتا ہوا نیچے گیا، ایک چٹان سے ٹکرایا اور پھر نیچے ایک جھاڑی میں جا کر گرا۔‘

’اور میں نے سوچا کہ بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ خود کو بچایا جائے۔‘

برسبین، آسٹریلیا

ہائیکنگ کا تجربہ رکھنے والے پارکر نے اپنے سامان میں فرسٹ ایڈ کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں جن میں پٹیاں بھی شامل تھیں۔ انھوں نے پٹیوں کو اپنی چھڑی کے ساتھ جوڑ کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو سیدھا کر کے سہارا دیا۔

ان کے پاس درد کش دوائیں اور پانی موجود تھا لیکن کھانے کی چیزیں بہت کم تھیں جن میں خشک میوہ جات، مٹھائیاں اور انرجی بار شامل تھے۔

پارکر نے بتایا کہ وہ گھسٹتے ہوئے ایک ایک انچ آگے بڑھ رہے تھے تاکہ صاف راستے تک پہنچ سکیں لیکن ان کے جسم کے دونوں جانب لگی چوٹیں ان کے سفر میں رکاوٹ ڈال رہی تھیں۔

انھوں نے کہا: 'مجھے اپنی ٹانگ اٹھا کر چلنا پڑ رہا تھا۔ اور ٹانگیں جب جسم سے جڑی نہ ہوں تو وہ بہت وزنی ہو جاتی ہیں۔ میں اسے اٹھا کر چٹان پر چڑھتا اور پھر اپنی کہنیوں اور اپنے بازوؤں کو استعمال کرتا، یہ ایک مسلسل جدوجہد تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ اپنے گھر والوں کے خیال نے انھیں آگے بڑھتے رہنے کی ذہنی طاقت فراہم کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے بچوں کے پاس پہنچنا چاہتا تھا۔‘

بالآخر منگل کو ایک ہیلی کاپٹر نے پارکر کو دیکھا اور انھیں اٹھا کر محفوظ مقام پر لے جایا گیا، جہاں سے انھیں برسبین کے ایک ہسپتال لے جایا گيا۔

ہڈی کی ڈاکٹر نکولا وارڈ نے آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ پارکر ’تیزی سے اچھے ہو رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’دو ٹوٹے ہوئے اعضا کے ساتھ میں نے ایسی جان بچانے کی کوشش کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔‘ انھوں نے کہا کہ پارکر کو صحتیاب ہونے میں آٹھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *