میڈیا کنٹرول پالیسی بڑی خرابی کا پیش خیمہ

" شاہد ندیم احمد "

پاکستان میں اس وقت میڈیا کی صنعت سے وابستہ اکثر ادارے مالی مشکلات کا شکار اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔متعدد اداروں میں صحافیوں کو تنخواہیں بر وقت نہیں مل رہیں، اس معاملے کی ذمہ داری میڈیا مالکان حکومتی اشتہارات کی مد میں کم ہونے والی آمدنی کو قرار دیتے ہیں جب کہ حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو حکومتی اشتہارات پر ہی تکیہ کرنے کے بجائے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں صحافی جہاں معاشی مشکلات کا شکار ہیں، وہیں پر انہیں بعض ریاستی عناصر کی جانب سے مسلسل پابندیوں اور سینسرشپ کا بھی سامنا ہے۔اکثر صحافی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی اور مفادات کے نام پر غیر اعلانیہ سینسرشپ کی برملا شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔تاہم دوسری جانب ایسے افراد بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کررہا ہے۔ اسی لیے صحافیوں سمیت میڈیا مالکان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔ہر دور حکومت کامیڈیا پر قدغن لگانا درینہ خواب رہا اور باوجود لاکھ کوشش شرمندہ تعبیر ہوا ہے،موجودہ حکومت بھی بعض عناصر کی جانب سے آزادی ئاظہار کو ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کا بہانہ بناکرخصوصی میڈیا ٹربیونلز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جس کی سرپرستی اعلیٰ عدلیہ کریگی۔وزیراعظم عمران خان کا اعلیٰ حکومتی شخصیات بشمول وفاقی وزراء کے حوالے سے میڈیا میں ہونیوالے پراپیگنڈہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مثبت تنقید کسی بھی معاشرے کی بہتری بالخصوص حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ہوتی ہے، مگر بعض عناصر کی جانب سے آزادی ئاظہار کو ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں صحت مند معاشرہ کی تشکیل میں میڈیا کا بنیادی کردار ہے جو ادارہ جاتی خامیوں‘ کمزوریوں اور سماجی برائیوں کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرکے معاشرے میں لاقانونیت‘ من مانیوں‘ اختیارات کے ناجائز استعمال اور دوسری سماجی برائیوں کے تدارک میں معاون بنتا ہے۔ اس حوالے سے ہی میڈیا کا کردار ایک آئینے سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں سب کو اپنا اصل چہرہ نظر آتا ہے اور یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ کسی کو آئینے میں اپنا اچھا چہرہ نظر نہ آئے تو بجائے آئینے کو توڑنے کے اپنا چہرہ خوش نما بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میڈیا اور پریس کی آزادی کا بھی یہی تصور ہے کہ اسکی بنیاد پر ہی سماجی برائیوں اور حکومتی‘ ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی ہوتی ہے جن کے تدارک کے اقدامات اٹھا کر معاشرے کو حقیقی معنوں میں برائیوں سے پاک کرکے فلاحی جمہوری معاشرے کے قالب میں ڈھالنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں میڈیا کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ آئین کی دفعہ 19 میں آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ پریس کی آزادی کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔میڈیا کو اپنی حدود وقیود‘ ذمہ داریوں اور اپنی آزادی کے تقاضوں کا احساس و ادراک ہی نہیں‘ اسکی مکمل پاسداری بھی ہے۔ میڈیا بہرصورت واچ ڈاگ کا کردار ادا کرتا ہے جس میں سماجی برائیوں کی نشاندہی کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی ادائیگی میں کسی کو اپنا چہرہ اچھا نظرنہیں آتا تو اس میں میڈیا کا کوئی قصور نہیں۔ میڈیا ایک ذمہ دار قومی ادارے کے طور پر اپنے فرائض آئین کی دفعہ 19 کے تقاضوں کے مطابق ہی سرانجام دیتا ہے۔ میڈیا کے اس کردار کی ادائیگی کے حوالے سے اگر کوئی شخصی یا ادارہ جاتی شکایت پیدا ہوتی ہے تو اسکے ازالہ کیلئے پہلے ہی تعزیرات پاکستان اور ضابطہ ئ فوجداری میں ہتک عزت کے مقدمات کیلئے قوانین موجود ہیں اور اسی طرح توہین عدالت ایکٹ کے تحت بھی اس نوعیت کی شکایات کیخلاف مجاز عدالتوں سے رجوع کیا جا سکتا ہے، جبکہ پریس کونسل اور پیمرا کے ضوابط میں بھی میڈیا کیخلاف شکایات کے ازالے کی شقیں موجود ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ یہ ادارے مردہ ہوچکے ہیں جیسا کہ حکومت کی جانب سے تاثر دیا جارہاہے، جبکہ ان اداروں میں بہتری کی گنجائش بھی موجود ہے جس کیلئے میڈیا سے متعلق اداروں بشمول اے پی این ایس‘ سی پی این ای‘ پی ایف یوجے‘ پی بی اے‘ سے مشاورت کرکے بہتری کے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں،مگر میڈیا کے حوالے سے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم اٹھایا جائیگا جیسا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے تحت میڈیا ٹربیونلز کی تشکیل کا عندیہ دیا گیا ہے تو ایسا اقدام سراسر میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کے زمرے میں آئیگا جس کی کسی جمہوری معاشرے میں ہرگز گنجائش نہیں ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف حکومت کی بعض اقتصادی اور مالی پالیسیوں کے نتیجہ میں قومی میڈیا پہلے ہی سنگین ترین اقتصادی بحران کی زد میں ہے،چہ جائیکہ حکومت قومی میڈیا کو اس اقتصادی بحران سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھاتی، اسکی جانب سے میڈیا پر سنسر شپ جیسی آمرانہ قدغنیں لگانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے جو فی الواقع میڈیا کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کا ایسا کوئی اقدام میڈیا کو ہرگز قبول نہیں ہو سکتا جس کے ذریعے اسکی آئین کے تحت حاصل آزادیاں سلب ہوتی ہوں۔ اگر میڈیا کے کردار کے حوالے سے حکومت کے کوئی تحفظات ہیں تو یہ میڈیا کے نمائندہ فورمز پر لا کر باہم مشاورت و مفاہمت کے ساتھ ان کا ازالہ کرنے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے، تاہم حکومت کسی جبری قانون کے ذریعے پریس اور میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کریگی تو اسے میڈیا اور عوام کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔اس وقت مسئلہ نئے اداروں کے قیام کا ہرگز نہیں،بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے سے موجود قوانین پر صدق دل سے عملدرآمد کیا جائے‘ اداروں کو ان کے مینڈیٹ سمیت کام کرنے کی آزادی دی جائے اور جو فیصلے کئے جائیں ان کو نافذ کیا جائے، صحافتی کارکنوں کا ویج ایوارڈ کئی برسوں سے عملدرآمد کا منتظر ہے، سابق حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اس پر توجہ دینے سے گریز کر رہی ہے۔ حکومت کے سامنے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کچھ چیلنجز موجود ہیں، لیکن گزشتہ بیس برسوں کے دوران میڈیا نے ملک کو بہتری کی طرف لے جانے والی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ وزیر اعظم خود اس بات سے آگاہ ہیں کہ میڈیا نے کرپشن کے خلاف ان کی آواز کو کس طرح ملک کے کونے کونے تک پہنچایا، میڈیا تحریک انصاف حکومت کا دشمن نہیں،مگر حقائق عوام کو بتانا اور دکھانا زمہ دارانہ فرائض میں شامل ہے۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ حکومت میڈیا پر قدغن عائد کرنے کی سوچ اور پالیسیوں سے اجتناب کرتے ہوئے آئین کے تقاضوں کے مطابق پریس اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنائے۔ہر دورحکومت کی کوشش کہ میڈیا کنٹرول کیا جا سکے، خرابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے،موجودہ حالات میں میڈیا کے خلاف نیا محاذ کھولنا تحریک انصاف حکومت کے مفاد میں بہتر نہیں ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *