جسٹس قاضی فائز کی آئینی درخواست پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آئینی درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دے دی۔

چیف فل کورٹ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کریں گے جب کہ سپریم کورٹ کے دس ججز فل کورٹ کا حصہ ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبرز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار، جسٹس مشیر عالم، جسٹس سردار طارق اور جسٹس اعجاز الاحسن بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔

فل کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آئینی درخواست کی سماعت 24 ستمبر کو دن ایک بجے کرے گی۔

واضح رہےکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے لارجر بینچ پر اعتراض کے بعد 7 رکنی بینچ تحلیل کردیا گیا تھا اور بینچ کی ازسرنو تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا۔

ججز کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کورٹ کے 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رکھے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ان ججز میں لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے ایک، ایک جج بھی شامل تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج فرخ عرفان چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کے دوران استعفیٰ دے چکے ہیں اس لیے ان کا نام ریفرنس سے نکال دیا گیا ہے۔

پہلے ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرون ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا۔ صدارتی ریفرنسز پر سماعت کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون کو طلب کیا گیا تھا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت اختتام پذیر ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے جواب کا جواب الجواب کونسل کے اجلاس میں جمع کرا دیا ہے، کونسل اٹارنی جنرل کے جواب کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کرے گی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو گزشتہ دنوں کونسل نے خارج کردیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *