شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 2 )

"آتش تاثیر"

یہ مضمون لکھنے کے لیے پاکستان میں رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے وزیر ِاعظم تک رسائی کی بہت کوشش کی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اُن کے سیاسی مہربانوں نے اُنہیں خبردار کردیا تھا کہ میں ان صفحات میں اُن کے ماضی کے کچھ پہلو اجاگر کرسکتا ہوں۔ 2000 ء میں عمران خان نے جمائمہ سے شادی کی۔ یہ ایک واقعہ بھی اُن کی جوانی کے پس ِ منظر میں Vanity Fair کے صفحات کی زینت بنا تھا۔ جب میں نے زلفی بخاری، جو اپنے لندن قیام کے دنوں میں نائٹ کلبس کے رسیا تھے اور اب وہ عمران خان کی حکومت میں جونیئر وزیر ہیں، سے بات کی تو اُنھوں نے یقین دہانی چاہی کہ میرا مضمون مثبت ہونا چاہیے ورنہ اُن کی ساکھ داؤ پر لگا جائے گی۔ تاہم چند روز بعد زلفی بخاری نے مجھے واٹس ایپ پیغام بھیجا کہ عمران خان ابھی وقت نہیں دے سکتے؛ لیکن مستقبل میں ممکن ہے کہ ایسا ہوجائے۔
میں نے پہلی مرتبہ عمران خان سے لندن کی ایک پارٹی میں بات کی تھی۔ اُس وقت میری عمر پچیس برس تھی اور گولڈ سمتھ فیملی سے قربت رکھنے والی شاہی خاندان کی ایک لڑکی سے میری دوستی تھی۔ عمران خان کو لندن کی اس پارٹی میں دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ وہ برطانوی اشرافیہ کے اعلیٰ ترین حلقوں کے کس قدر قریب ہیں۔ انگریز اشرافیہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی قدر دانی کرتی ہے،اور پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان کی کشش سونے پر سہاگہ تھی۔ یہ 2006ء کے موسم ِگرما کے آخری ایام تھے جب عمران خان چیلسی سٹوڈیو میں ہونے والی پارٹی میں آئے۔ پرسکون شام درختوں میں گھرے کلب کے اُس ماحول میں بھی نائن الیون کے بعد کی دنیا میں نمودار ہونے والی سیاسی اور مذہبی تبدیلی کے خدوخال خان کے چہرے سے نمایاں تھے۔ میں اپنی پہلی کتاب، ”Stranger to History“ کے لیے آٹھ ماہ پر محیط تحقیقی کاوش کے یمن، شام، ایران اور پاکستان کے سفر سے واپس آیا تھا۔ خان کے تصورات کی غیر سنجیدہ شدت نے مجھے چونکا دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ”جنیوا کنونشن کے تحت“ خود کش بمبار خود کو دھماکے سے اُڑانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ سن کر میرے ذہن میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔ میرے سامنے وہ شخص تھا جس کا کبھی تصورات سے پالا نہیں پڑا تھا، چنانچہ اُس کے ذہن میں آنے والا ہر تصور راسخ ہوجاتا تھا، اور اسے قطعی سمجھتے تھے۔
اگلی مرتبہ عمران خان سے میری ملاقات ڈرامائی طور پر مختلف حالات میں ہوئی۔ دسمبر 2007 ء میں، میں اپنے انکل یوسف صلاح الدین کے گھر پر ٹھہرا ہوا تھا۔ یہ گھر پرانے لاہور میں واقع ہے۔ اچانک ٹی وی پر سابق وزیر ِاعظم بے نظیر بھٹو پر حملے کی بریکنگ نیوز چلنے لگی۔ یہ بہت بڑا صدمہ تھا، اُن کے لیے بھی جو محترمہ کو ناپسند کرتے تھے، کیونکہ جمہوریت کی علامت کو بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ اُن کی موت پر فوجی آمریت اور دھشت گردی کا مارا پاکستان گہرے سوگ میں ڈوب گیا۔ اس ماحول میں چند دن بعد عمران اپنی فرانسیسی گرل فرینڈ کے ساتھ آئے۔ وہ بمبئی میں ایک اہم سماجی شخصیت کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے، اور وہاں اُن کی سوئمنگ پول کی کچھ تصاویربھی سامنے آئی تھیں۔ جب ملک اندوہناک غم کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا،خا ن صاحب نہایت رومانوی ماحول میں سوئمنگ کررہے تھے۔
خان کی موجودگی اپنا احساس خود دلادیتی ہے۔ وہ جس کمرے میں ہوں، وہاں سب سے نمایاں ہوتے ہیں۔ قابل ِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ وہاں موجود لوگوں سے مخاطب ضرور ہوتے ہیں؛ اُن سے بات چیت نہیں کرتے۔ اُن سے زیادہ اپنی بات کی یک طرفہ طور پر وضاحت کرنے والا شاید ہی کوئی ہو۔ گفتگو میں ذہانت کے فقدان کی تلافی لہجے کی شدت، بیان کی قطعیت اور کسی حد تک شائستگی کے ساتھ کردیتے ہیں، جیسا کہ اُن کے شاگرد، جانشین کپتان، وسیم اکرم نے مجھے کراچی میں بتایا، ”دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ لیڈر اور پیروکار۔ اور عمران یقینا ایک لیڈر ہیں۔ صرف کرکٹ میں ہی نہیں، ہر معاملے میں۔“

مزید پڑھئیے "شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 1 )"

عمران خان کولند ن کے حلقوں میں ”I m the Dim“ کے طور پر جانا گیا۔ اُن کی دوسری بیوی، ریحام خان نے مجھے لندن میں لنچ کے دوران بتایا، ”آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کم عقل ہیں؛ احمق ہیں؛ اُنہیں معاشی اصولوں کی کوئی سمجھ نہیں؛ وہ علمی اور فکری طور پر ذہین نہیں؛ لیکن وہ مقبول ہیں،ا ور اُن کے سامنے آپ کی شخصیت دب جاتی ہے۔“وائٹ ہاؤس میں اپنے ہم عصر رہنما، ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح عمران خان نے بھی زندگی بھر لوگوں کا یک طرفہ مطالعہ کیا ہے۔ یہ یک طرفہ جانکاری اور ذاتی گلیمر اُن کی موجودگی کو تناؤ زدہ بنادیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماحول کانچ کی طرح چٹخ رہا ہے؛ آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے؛ لمحوں کا تناؤ بڑھتا جاتا ہے۔ شخصیت کی کشش، جو جنسی کشش کا مہذب متبادل ہے، حواس ہر چھانے لگتی ہے۔
جب میں پہلی مرتبہ خان سے لندن میں ملا تو میں اس احساس سے نابلد تھا۔ لیکن دوسال بعد اُنہیں پرانے شہر، لاہو ر میں دیکھا کہ وہ پچپن سال کی عمر میں بھی مجھ سے زیادہ پش لگالیتے ہیں، جبکہ میں ستائیس سال کا ہوں؛ اور وہ کیا جوان، کیا بوڑھے، سب اُنہیں سراہتے ہیں۔ ایسے لگا جیسے میں کسی دیوتا سے مل رہا ہوں۔ دیر تک شہرت کی ندی میں غوطے کھانے والے افراد سماج سے دور لے جانے والی نرگسیت کے بھنور میں پھنس جاتے ہیں۔ اُن کا بے نظیر بھٹو، جن کے ساتھ وہ اکسفورڈ میں تھے اور جنہیں وہ بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے،کے لیے غیر جذباتی اندازانسان کو حیران کردیتا ہے۔ ”بے نظیر کی طرف دیکھو“، اُنھوں نے ایک صبح کہا، جبکہ ہم سوگواروں اور احتجاجی مظاہرین کے پاس سے گزررہے تھے۔ ”میرا مطلب ہے کہ خدا نے اُسے بچا لیا“۔ پھر اُنھوں نے بے نظیر بھٹو پر تنقید شروع کردی کہ وہ فوجی آمر، جنرل مشرف کے ساتھ معاہدے پر راضی کیوں ہوئی تھیں۔ بے نظیر نے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے خاتمے کے بدلے میں جنرل مشرف کی حکمرانی کو قبولیت کی سند دے دی تھی۔
”ذرا سوچو“، خان نے کہا، ”یہ انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے جو تم نے کبھی دیکھی ہوگی۔ یہ چیز تو بے نظیر کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔“
”یہ چیز؟“ میں نے پوچھ۔
”موت“، اُنھوں نے غیر جذباتی، سپاٹ لہجے میں کہا۔
پھر اُنھوں نے قدرے رشک بھرے لہجے میں کہا، ”بے نظیر شہید بن کر لافانی ہوگئی ہے۔“
خان اپنے ملک کے دکھ میں نہ شریک ہوسکا جب ملک محترمہ کے لیے سوگوار تھا۔ خود کو قوم کا مسیحا یا نجات دہندہ سمجھنا اُنہیں کسی بھی قومی واقعے کے ساتھ جذباتی وابستگی محسوس کرنے سے روکتا ہے تاوقتیکہ وہ خود اس واقعے کا مرکزی کردار ہوں۔ لیکن جب گفتگو محترمہ کے بعد ملک کی اشرافیہ کی طرف مڑی تو پھر خان کے کردار کا ایک اور پہلو نمایاں ہوا۔ خان، جو اُس وقت ممبئی میں ہالی ووڈ ستاروں کی ایک پارٹی میں شرکت کرکے واپس لوٹے تھے، نے کسی ندامت یا شرمندگی کا اظہار کیے بغیر وکٹورین معاشرے کی خوبیوں پر بات شروع کردی۔ اُنھوں نے مجھے بتایا، ”معاشرے اُس وقت توانا ہوتے ہیں جب اُن کی اشرافیہ طاقتور ہو۔ اگر تم وکٹورین انگلینڈ کی طرف دیکھو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ اُن کی اشرافیہ طاقتور اور بااخلاق تھی۔ پاکستان اور بھارت، دونوں کا مسلہئ یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔“
اُنھوں نے والد کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے اُس وقت مشرف کی حکومت میں بطور ایک وزیر شرکت کی تھی۔ خان کا کہنا تھا کہ اُنہیں خدشہ ہے کہ میرے والد اخلاقی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ”وہ وہاں بیٹھے وسکی پی کر ہنس رہے ہوتے ہیں۔ وہ قنوطی ہیں، چنانچہ وہ مجھ جیسے نہیں۔ میں رجائیت پسند ہوں۔“
عمران خان کے قول و فعل میں منافقانہ تضاد دیکھنا بہت آسان ہے۔ لیکن میرے نزدیک منافقت قنوطیت کی ہی زہریلی جہت ہے۔ عمران خان کا کیس البتہ مختلف ہے۔ ایسا لگتا تھاجیسے اُس زندگی، جو اُنھوں نے بسر کی ہے، کے لیے اخلاقی حمایت تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ نئے کردار کے لیے پرانا کردار ترک کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی سابق وزیر ِ خارجہ، حنا ربانی کھر نے مجھ سے لاہور میں بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ شخص دہری شخصیت کے مسلے کا شکار ہے۔اس میں بیک وقت دو انسان ہیں۔“ اُن کی سوانح عمری لکھنے والے کا کہنا ہے کہ ”ڈے ٹائم خان“ اور ”نائٹ ٹائم خان“ کے درمیان فرق اُس وقت بھی واضح نظر آتا تھا جب وہ 1980 ء کی دہائی میں انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہا تھا۔ لیکن ایک کھلاڑی کے ایسے طرز عمل کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، ایک سیاست دان کو نہیں؛ خاص طور پر جب وہ شخص خود کو اخلاقیات کا چمپئن قرار دے، جیسا کہ عمران خان۔ سینڈ فورڈ لکھتے ہیں کہ ”ویکلی سٹینڈر“ کے نزدیک خان وہ فنکار تھے جو دن بھر مغرب کو تنقید کا نشانہ بناتے، اور رات کو مغربی زندگی کا لطف اٹھاتے۔ ”مغرب کو محض تفریح کا ذریعہ بنانے، اور روحانی پاکیزگی کے لیے مشرق کی طرف رجوع کرنے والے عمران خان ہمارے دور کی مبہم اورمنتشر شخصیت کی علامت ہیں۔شیریں مزاری، جو عمران خان کی کابینہ میں وزیر ہیں، کی بیٹی، ایمان مزاری نے مجھے بتایا کہ پاکستانیوں کی عام عادت ہے کہ جو چیز ہمیں دوسروں میں بہت بری لگتی ہے، ہم خود بھی اس کے عادی ہوتے ہیں، اور ہم اپنے لیے اس کا جواز تلاش کرلیتے ہیں۔
میرے والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے، ”پاکستان میں سیاست نامزدگی، اور نامرادی کا کھیل ہے۔“
وہ طاقت ور طبقات کے درمیان طاقت کے تبدیل ہوتے ہوئے توازن کی بات کررہے تھے۔ یہ طبقے فوج اور جاگیردار ہیں جو دیہی عوام کی وسیع حمایت رکھتے ہیں۔ یہ طبقے اسٹبلشمنٹ کہلاتے ہیں۔ 2008 ء میں میرے والد صاحب پہلے مشرف دور میں وزیر، اور پھر گورنر پنجاب نامزد کیے گئے۔ وزیر ِاعظم بننے والے عمران خان میرے والد جیسے سولین رہنماؤں، جو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی رکھتے ہوں، پر کھل کر تنقید کر تے تھے۔ اُنھوں نے مجھے لاہور میں ڈرائیو کرتے ہوئے کہا، ”اگر میں اکیلاہی کیوں نہ رہ جاؤں، میں اپنے موقف پر قائم رہوں گا۔ دیکھو، یہ یقین ہے جو تمہیں ہر خوف سے آزاد کرتا ہے۔ لا الہ الااللہ غیر اللہ سے آزادی کا کلمہ ہے۔ انسان دوسروں سے اُس وقت سربلند ہوتا ہے جب وہ جھوٹ اور مکر وفریب کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ برائی پر سمجھوتہ کرنا انسان کو تباہ کردیتا ہے۔“
آج دس سال بعد میرے والد صاحب اس دنیا میں نہیں۔ اُنہیں 2011 ء میں اُن کے اپنے محافظ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، کیونکہ وہ توہین کے الزام میں گرفتار ایک غریب مسیحی عورت کا دفاع کررہے تھے۔ آج عمران خان ایسی حکومت کے سربراہ ہیں جس میں مشرف دور کے دس وزرا شامل ہیں۔
اجنبیوں کے لیے پاکستان کی اخلاقی فضا میں سانس لینا بہت دشوار ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ خان نے دعویٰ کیا، ”تمام اخلاقیات مذہب سے جنم لیتی ہے“، لیکن بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں اذیت اور ناانصافی کی وجہ ہی مذہب ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں آزادی کی بجائے جبر اور گھٹن ہے۔ گزشتہ اپریل کو پرانے لاہور میں اپنے انکل کے گھر جاتے ہوئے ہم نے دیواروں پر اپنے والد کے قاتل، ملک ممتاز قادری کے رنگین پوسٹرز دیکھے جن کے نیچے یہ الفاظ درج تھے، ”میں ممتاز قادر ی ہوں۔“مسخ شدہ عقیدے کی نظر میں ممتاز قادری ملک کا ہیرو ہے؛ اُس کا اسلام آباد کے نزدیک مزار ہے جہاں لوگ فیض حاصل کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *