ہمارے معاشرتی رویے

" ظریف بلوچ "

ہم بچپن سے جوانی تک تعلیمی اداروں میں پڑھ کر کسی وزیر کی سفارش پر جب کلرک لگ جاتے ہیں تو خوش ہو کر فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ واہ میری پارٹی۔ ہم کسی ایم پی اے، وزیر یا سیاست دان کے ساتھ سیلفی بنا کر لوگوں کو فخر سے یہ بتاتے ہیں کہ ہم بڑے آدمی بن گئے ہیں، کہ فلاں وزیر گزیر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں۔ مگر کبھی بھی یہ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ اگر یہ وزیر گزیر بنا ہے تو ہمارے ووٹوں کی وجہ سے۔ اور پھر ہمارا خون چوس کر میرٹ کو پامال کرتے ہوئے چپراسی اور کلرک کی نوکری بھی ان کے ورکر نما دوستوں کو مل رہی ہوتی ہے۔ ہم کبھی بھی یہ نہیں سوچتے کہ ان کی سفارش کی وجہ سے کتنے حق داروں کو نوکری نہ ملنے کی وجہ سے کئی گھروں میں چولہے جلنے کا نام نہیں لیتے ہیں۔

ہم ہفتہ بھر بجلی نہ ہونے سے خاموش ہوتے ہیں، جب ہفتے بعد چند لمحے کے لیے بجلی کے بلب جلنا شروع ہو جاتے ہیں تو یہ کہہ کر خوش ہوتے ہیں کہ دیکھو ہماری پارٹی کا کمال۔ ہم سالوں سے ٹینکر مافیا سے پانی خریدتے ہوئے خوش ہیں مگر اپنی پارٹیوں کے خلاف بولنے والوں کو روز گالیوں کا نشانہ بنا کر معاشرے کے لیے ایسے ناسور بن رہے ہیں کہ ہمارے مرنے یا جینے سے معاشرے پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔

ہم عجیب لوگ ہیں، چمچہ گیری اور منافقت سے پیسہ بنا کر یہ کہنے میں شرم محسوس کرنے کی بجائے فخریہ انداز اپناتے ہیں کہ ہم نے مال بنایا ہے۔ ہم سیاست دانوں اور آفیسران کے ساتھ بیٹھ کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کہ شمبو کے گیراج سے نکل کر ہم کسی اسپئیر پارٹس کمپنی کے مالک بن گئے ہیں۔

اگر ہم کسی وزیر کی سفارش سے کلرک بننے کی بجائے یہ سوچنے کی صلاحیت رکھتے کہ روزگار دینا ریاست کا فرض ہے اور میرٹ پر روزگار دیا جائے تو کسی کو وزیروں اور گزیروں کی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار میں سنجیدہ ہوکر یہ سوچنے لگتا ہوں کہ ایک کلرک نما آفیسر جب کروڑوں کے گاڑیوں اور بنگلوں کا مالک ہوتا ہے تو ہم سر جھکائے اس کی تعریف کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ کبھی یہ پوچھنے کی جرات نہیں کرتے کہ آمدنی سے زیادہ اثاثے کس طرح بنائے گئے۔

ہم سیاست کی الف و ب سے ناواقف ہوتے ہوئے سیاسی بحث و مباحثوں میں ایسے کود جاتے ہیں جیسے ہم آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہیں۔ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ بلوچستان میں سیاست کس سمت جا رہی ہے، مگر ہم پھر بھی اپنے دانشورانہ تجزے ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے کہ ہم امریکہ کے کسی تھینک ٹینکس کے روحِ رواں ہیں۔

ہمیں غریب اس وقت یاد آتے ہیں جب ہمیں ان کی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ غریب بھوکے یا پیاسے مر جائیں اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں۔ ہم دلائل اور منطق کی بجائے کسی کی ذات پر اٹیک کر کے اسے معاشرے سے بے دخل کرنے کی ایسے کوشش کرتے ہیں کہ جیسے یہ معاشرہ ہمارے باپ دادا کی ذاتی میراث ہے۔ ہم کتابیں پڑھے بغیر اپنے ماہرانہ رائے ایسے دیتے ہیں جیسے کہ کئی بار پڑھ پڑھ کر ہم کتابوں کو حفظ کر چکے ہوں۔

ویسے بھی ہمیں معاشرے کے افراد اس وقت یاد آتے ہیں جب کوئی مصیبت ہم پر پڑتی ہے اور لفظ معاشرے کی پیٹھ پر چھرا گھونپ کر مصیبت سے باہر آ جاتے ہیں۔ ہم کبھی بھی تعلیم، صحت سمیت بنیادی انسانی ضروریات پر بات اس لیے نہیں کرتے ہیں کہ ہمیں ٹھیکے اور بھتہ گیری سے پیسے مل رہے ہوتے ہیں اور عوام سے ہمیں سروکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ لاکھوں افراد کو سنھبالنے کا ٹھیکہ ہم نے نہیں لیا ہے۔ ہم اس معاشرے پر بوجھ ہونے کے باوجود لوٹ ماری میں ایسے لگے ہوئے ہیں کہ مالِ غنیمت میں جس کو جتنا ملے، بس لے لے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *