ناسا نے انڈیا کے خلائی مشن چندریان ٹو کی چاند پر ہارڈ لینڈنگ کی تصدیق کر دی

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ انڈیا کے خلائی مشن چندریان ٹو کے وکرم لینڈر نے ’ہارڈ لینڈنگ‘ کی ہے۔

ہارڈ لینڈنگ وہ عمل ہے جس میں کوئی جہاز یا خلائی گاڑی کسی بھی سطح پر عمودی انداز میں تیزی کے ساتھ لینڈ کرتی ہے۔ لینڈنگ پرواز کا آخری مرحلہ ہوتا ہے جس میں ایئر کرافٹ گراؤنڈ کی جانب واپس لوٹتا ہے۔

ناسا کی خلائی گاڑی سے لی جانے والی تصاویر میں وکرم رور کی مطلوبہ لینڈنگ کو دکھایا گیا ہے لیکن اس کے بالکل حقیقی مقام کی نشاندہی ابھی باقی ہے۔

چندریان ٹو کو سات ستمبر کو اپنی اڑان کے ایک ماہ بعد چاند کے جنوبی حصے میں اترنا تھا۔

انڈین خلائی مشن کے حکام کا کہنا ہے کہ چاند کی جانب یہ سفر بالکل نارمل تھا تاہم جب وہ چاند کی سطح سے دو اعشاریہ ایک کلومیٹر دور تھا تو ایک غلطی ہوئی۔

جمعے کو ناسا حکام نے اس مقام کی تصاویر ٹویٹ کیں جو چندریان کے لیے اترنے کا ٹارگٹ تھی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ سائٹ جنوبی قطب میں 600 کلو میٹر کی دوری پر واقع تھا۔

ناسا کی چاند کے مدار میں جانچ کرنے والی گاڑی نے اس لینڈنگ کے مقام پر 17 ستمبر کو اعلیٰ کوالٹی کی تصاویر لی تھیں۔ ابھی تک ٹیم لینڈر کا نہ تو پتہ لگا سکی ہے اور نہ ہی اس کی تصویر لے سکی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ’شام کا وقت تھا جب یہ تصاویر لی گئیں تھیں اور اس وقت زیادہ تر علاقہ سائے کی لپیٹ میں تھا۔ یہ ممکن ہے کہ وکرم لینڈر کسی سائے میں چھپا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ خلائی گاڑی جب اکتوبر میں دوبارہ اسی مقام سے گزرے گی تو اس وقت روشنی بہتر ہو گی جس سے لینڈر کی تصویر لینا آسان ہو گی۔

خیال رہے کہ سنہ 2008 میں انڈیا کے چاند پر پہلے مشن چندریان ون نے پہلی مرتبہ چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کی تفصیلی جانچ کے لیے ریڈارز کا استعمال کیا تھا۔

nasa

یہ مشن تھا کیا؟

چندریان ٹو انڈیا کی جانب سے خلا میں اب تک بھجوایا جانے والا سب سے پیچیدہ مشن ہے۔

جولائی میں اس کی لانچ کے موقع پر اسرو کے چیف کے سیوان نے کہا تھا کہ یہ تاریخی سفر کی ابتدا ہے۔

وکرم نامی لینڈر چاند کی مٹی کی جانچ کے لیے 27 کلو وزنی آلات لے کر چاند پر گئی۔

رور جسے پراگیان کا نام دیا گیا ہے کے اندر پانچ سو میٹر تک اپنے لینڈر سے دور جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی زندگی 14 دن تک ہے اور اس دوران یہ زمین پر موجود سٹیشن میں ڈیٹا اور تصاویر بھجواتا ہے۔

یہ اہم کیوں ہے؟

اب تک فقط تین ممالک نے کسی سیارے پر سافٹ لینڈنگ کی ہے۔

سائنسی امور پر لکھنے والے پالاوا بگلہ کا کہنا ہے کہ یہ اسرو کی ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس سے انڈیا کے مریخ پر مشن اور خلا میں انڈین خلا بازوں کو بھجوانا ممکن ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *