قاصد

محمد طاہرM tahir

بھارت کا مسئلہ وہی لگتا ہے جو پطرس بخاری کے مضمون ’’میں ایک میاں ہوں‘‘ کے بیچارے میاں کاتھا۔ مطیع و فرماں بردار میاں کو جتنے اچھے اپنے دوست لگتے تھے ، اُن کی بیگم روشن آرا کو وہ اتنے ہی بُرے لگتے تھے۔چناچہ گھر کے امن میں ہمیشہ اُن کے دوست خلل انداز رہتے۔ مگر اُن تمام دوستوں میں روشن آرا کو سب سے زیادہ غصہ ’’مرزا صاحب‘‘ پر آتا۔ بیچارے میاں نے گھر کے امن کی خاطر مرزا سے بچنے کا فیصلہ کرلیا اور ایک روز یہ اطلاع دینے کے لئے اُن کے گھر پہنچ گئے۔مگر مرزا کے سامنے مدعا بیان کرتے کرتے جو حالت اُن کی ہوئی ، وہی بھارت کی محسوس ہوتی ہے۔ بیچارے میاں کی کیفیت خود پطرس کے الفاظ میں محسوس کیجئے۔
’’اب میرے دل میں فقرے کھولنے شروع ہوئے۔پہلے ارادہ کیا کہ ایک دم ہی سب
کچھ کہہ ڈالواور چل دو، پھر سوچا مزاق سمجھے گا اس لئے کسی ڈھنگ سے بات شروع کرو۔
لیکن سمجھ میں نہ آیا کہ پہلے کیا کہیں، آخر ہم نے کہا۔ ’’مرزا۔ بھئی کبوتر بہت مہنگے ہو گئے
ہیں؟‘‘
روشن آرا کے بیچارے میاں اور بھارت کا حال کچھ یکساں سا لگتا ہے۔ ایک جیسے پیچ وتاب مگر کوئی عذر نہ جواز ۔۔سو بیچارے میاں نے کبوتر کی قیمت پر جھینپ مٹائی اور بھارت نے کبوتر کے کردار کی کہانی بنائی۔ امن پسند اپنی آرزؤں کو کبوتر سے تشبیہ دیتے آئے ہیں، مگر بھارتیوں نے اپنے جنگی عزائم سے کبوتر کا شاعرانہ کردار ہی تبدیل کردیا۔ اردو شاعری میں کبوتر مدت سے ’’قاصد‘‘ کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ پھر اس قاصد کا قصد بھی کوئی جنگی نہیں رہا، ہمیشہ سے محبوب کی ملاقات کا متمنی رہا ہے۔ چناچہ وہ ایک پیغام بر کے طور پر مشکلات کی پروا کئے بغیر محبوب تک ملنے ملانے کا پیغام پہنچاتا آیا ہے۔ مگربھارتیوں نے انجم خلیق کی زبان میں کبوتر میں ایسی کوئی بات دیکھی ہے کہ اب وہ سمجھتے ہیں کہ کبوتر نے اپنے تاریخی کردار کو فراموش کردیا ہے۔
کچھ ایسی بات کبوتر کی آنکھ میں دیکھی
عقاب خوف کے مارے اڑان بھول گیا
بھارتی عقابوں نے پاکستان سے اڑ کر آنے والے ایک کبوتر میں اس سے بھی کچھ زیادہ دیکھ لیا ہے۔ بھارتی پنجاب کی پولیس نے پاکستان کی سرحد سے بس تین چار کلومیٹر دورمنوال گاؤں سے ایک کبوترکو اپنی تحویل میں لیا ہے۔ جس کے پروں پر تحصیل شکر گڑھ اور ضلع نارووال لکھا ہے۔ ضلع نارووال وفاقی وزیر احسن اقبال کا علاقہ ہے۔ اور یہ وہی وزیر ہیں جو آج کل ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ کے منصوبے کے حوالے سے سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بھارتیوں کاخیال ہو کہ وہ اس اقتصادی راہداری کی راہ میں جو روڑے بلکہ دہشت گرد حملے اٹکا رہے ہیں، اُس کا جائزہ لینے کے لئے پاکستانی وزیراحسن اقبال نے کبوتر کے ذریعے کوئی چال نہ چلی ہو۔ چناچہ بھارتی اخبارات یہ انکشاف بھی کررہے ہیں کہ کبوتر کا ایکسرے لیا گیا ہے کہ کہیں اُس میں کوئی برقی آلہ نصب نہ ہو۔ پٹھان کوٹ پولیس کی تحویل میں موجود کبوتر کے خلاف ابھی تفتیش جاری ہے۔ جس کے بعد ہی درست طور پر یہ تعین کیا جاسکے گا کہ کبوتر ایک معصوم سیاح ہے، یا اڑتے اڑتے گم راہ ہوا ہے یا پھر ایک مکار جاسوس ہے۔اس طرح کبوتر کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ایک طویل تفتیش پر ٹلا ہوا ہے۔ یہ تفتیش کبوتر کے انجام کے بارے میں کچھ اچھے آثار کا پتا نہیں دیتی۔یوں لگتا ہے کہ یہ کبوتر بھی رئیس المتغزلین میر تقی میر کے کبوتر کے انجام سے دوچار ہوسکتا ہے، ذرا سنئے تو میر کے کبوتر کس حال کو پہنچے تھے:
لے جا کے نامے کتنے کبوتر ہوئے ہیں ذبح
اڑتی سی ہم کو آوے خبر تو ہے کیا عجب
اگر ایسی ہی بات ہے تو بھئی جاسوسی کے لئے جانور اور بھی بہت ہیں۔ ذرا توجہ تو دیں ۔کولکاتا کے شاعر فراغ روہوی نے ایک نظم چڑیا خانہ لکھی ہے جس کے ہر شعر میں مکار جاسوسوں کے نام پتے موجود ہیں۔
زیبرا گھوڑا ٹٹو خچر
باز کبوتر کوا تیتر
وہ دیکھو خرگوش گلہری
بارہ سنگھا اور وہ ہرنی
بن مانس اور بھالو بھی ہے
نیولا اور کنگارو بھی ہے
دو دو ہاتھی جھوم رہے ہیں
دور گدھے بھی گھوم رہے ہیں
یہ نظم چڑیاخانہ بھارتی تفتیش میں جاسوسوں کی تلاش کے افق کو نہایت وسیع کر سکتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو پاکستانی ،بھارتیوں کے مقابلے میں خاصے احمق واقع ہوئے ہیں۔ اب دیکھیں نا! بھارتی ہر سال پاکستانی سرحد کی طرف اپنی گائیں ہانک دیتے ہیں۔پاکستانیوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ گؤ ماتا کس کام سے تشریف لارہی ہیں۔ وہ سیدے سیدھے اُنہیں پکڑ کر تکا بوٹی کر دیتے ہیں۔مگر بھارت نے ایسے بالکل ہی نہیں کیا ۔ اُس نے کبوتر کو پکڑ نے کے لئے جال نہیں بچھایا بلکہ کبوتر کو پکڑ کر جال بچھایا۔ یوں لگتا ہے کہ اب یہ کبوتر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف بھارت میں مداخلت کے ثبوت کے طور پر کام آئے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے ماہ جب مودی اور وزیر اعظم میاں نوازشریف روس میں ملاقات کریں تو پاکستان سے پہلے ہی بھارتی وزیر اعظم پاکستان کی بھارت میں مداخلت کا مسئلہ اُٹھا دیں۔یوں لگتا ہے کہ پاکستان نے را کی مداخلت کا جو مقدمہ تیار کیا ہے بھارت نے بس ایک کبوتر پکڑ کر اِسے تہس نہس کردیا ہے۔بقول کیفی اعظمی
اب وہ ارمان ہیں نہ وہ سپنے
سب کبوتر اڑا گیا کوئی
پاکستان میں اب بھی کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ ہندو ذہنیت کے لئے کبھی بھی دوستی کا سبق سازگار نہیں رہا۔ اُن کا تاریخی تعصب خطے میں امن کی ہر کوشش کو سبو تاژ کردیتا ہے۔ اور اس کے لئے اُسے کسی آئی ایس آئی کی ضرورت بھی نہیں۔ وہ یہ کام ایک معلوم کبوتر سے بھی نکال لیتا ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ بھارت نے پہلے کبوتر کی اڑائی ہو اور مقصد اُس کا ممبئی کے شاعرراجیش ریڈی کی زبان میں کچھ یوں ہو کہ
کیا عجب ہے کہ اڑاتا ہے کبوتر پہلے
پھر فضاؤں میں وہ بارود کی بو گھولتا ہے
یہی چانکیائی ذہن بی جے پی کی سیاست کا محور ہے۔سانحہ صفورا گوٹھ سے لے کر سانحہ مستونگ تک بارود کی یہی بو گھلی ہوئی ہے۔ مگر پاکستانی سیاست دانوں کو نہ جانے کس نے یہ سمجھا دیا ہے کہ بھارت سے دوستی اور ثقافتی رشتوں کے ذریعے جمہوریت پھلتی پھولتی رہیگی اور دشمنی کی فضا بھی بتدریج تحلیل ہو جائیگی۔میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کا حلف اُٹھا تے ہی بھارت کو جو ’’پیغامات‘‘ دیئے تھے، بھارت نے اس کبوتر ڈرامے سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ حقائق کی دنیا سے کتنے دور ہیں۔کبوتر اب بھی محبت کا ہی ایک پیغام رکھتے ہیں، منور رانا نے کہہ رکھا ہے کہ
ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر
اس کبوتر کو کسی چھت پہ اُتر جانا ہے
بھارت نے کبوتر کو اُس کے چھت پر اُترنے نہیں دیا۔ اورمحبت کے اس قاصد کو گرفتار کرکے ایک اور طرح کا پیغام دیا ہے۔کاش بھارت اب بھی جمال احسانی کے الفاظ میں سمجھ سکیں کہ
ڈار سے بچھڑا ہوا کبوتر شاخ سے ٹوٹا ہوا گلاب
آدھا دھوپ کا سرمایہ ہے آدھی دولت چھاؤں کی
اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی توبرصغیر کا امن وامان دھوپ چھاؤں بن کر رہ جائیگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *