انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ’بی ٹیم‘ ہی سہی

اکتوبر 1990 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے دورے پہ آنا تھا مگر رچرڈ ہیڈلی نے اس دورے سے معذرت کر لی کیونکہ وہ پاکستان کی سست وکٹوں سے خائف تھے۔

سو جب ان کے بغیر مارٹن کرو کی ٹیم پاکستان آئی تو کپتان عمران خان نے اسے نیوزی لینڈ کی 'بی ٹیم' قرار دے کر خود کھیلنے سے معذرت کر لی۔

ان کی عدم دستیابی میں قیادت کی ذمہ داری جاوید میانداد کو دی گئی اور پاکستان ٹیسٹ اور ون ڈے، دونوں سیریز میں کلین سویپ کر گیا۔

اب عمران خان کی اپنی حکومت ہے، احسان مانی پی سی بی چیئرمین ہیں اور خاصی تگ و دو کے بعد سری لنکا کی ٹیم ایک طویل دورے کے لیے پاکستان پہنچی ہے اور بھلے اسے انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم سنگِ میل کہا جائے، حقیقت یہ ہے کہ اس بار یہاں کوئی ہائی پروفائل انٹرنیشنل کھلاڑی نہیں آئے بلکہ سری لنکن ٹیم ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ ہے کہ اگر عمران خان خود کپتان ہوتے تو شاید کھیلنے سے معذرت کر لیتے۔

ویسے تو سری لنکا کی 'اصل' ٹیم کا بھی معیار کچھ ایسا بلند نہیں ہے کہ سرفراز کی ٹیم کے لیے دردِ سر ثابت ہو سکتی اور اب تو مقابلے میں وہ 'اصل' ٹیم بھی نہیں ہے۔ یہ سبھی وہ سری لنکن کھلاڑی ہیں جو کچھ میچوں کے لیے آزمائے گئے اور پھر حسبِ کارکردگی ڈراپ کر دیے گئے یا بینچ پہ بٹھا دیے گئے۔

کرکٹ بورڈز جب ایسے ممالک کے دورے طے کرتے ہیں جہاں ہائی پروفائل کھلاڑی جانے سے انکاری ہوں تو ایسے ہی 'سیکنڈ چوائس' کھلاڑی ڈھونڈ ڈھانڈ کر لائے جاتے ہیں۔

لیکن خوبی کی بات یہ ہے کہ احسان مانی نے واضح کر دیا ہے کہ کسی ٹیم کو پاکستان آنے کے لیے کوئی مالی پیشکش نہیں کی جائے گی۔ بات بالکل بجا ہے کہ جسے پیسوں سے ہی غرض ہو، اسے پاکستان سے کیا مطلب۔

ویسے بھی کسی مجبور کرکٹ بورڈ کے لیے یہ کوئی دیرپا منصوبہ بندی نہیں ہے کہ وہ ڈر کا علاج پیسوں سے کرے۔ وقتی بند باندھنے کو بھلے یہ طریقہ سُود مند ہو مگر انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے یہ کوئی کل وقتی تدارک نہیں ہے۔

رمیش رتنائیکے اور لاہیرو تھریمانے

سری لنکن ٹیم کی کپتانی لاہیرو تھریمانے کو سونپی گئی ہے جنھیں یہ عہدہ سری لنکن ٹیم کے دس کھلاڑیوں کے پاکستان آنے سے انکار کے بعد ملا

لیکن سرفراز اور ان کی ٹیم کے لیے معاملہ وہ ہے کہ جیسے 2016 میں ویسٹ انڈیز کی ایسی ہی شکستہ دل سی ٹیم امارات کے دورے پہ آئی تو کلین سویپ کے بعد وسیم اکرم نے کہا تھا کہ بھلے آپ کا کپتان فارغ ہو گیا، کوچ نکال دیا گیا اور چاہے ٹیم کا کھیلنے کو دل ہی نہیں کر رہا مگر اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں، ہمارے لیے یہ جیت اتنی ہی اہم ہے جتنی کوئی اور۔

سو، سرفراز اور ان کی ٹیم نئے سپورٹ سٹاف کے ساتھ جس نئے عہد کا آغاز کرنے کو ہے، اس کے لیے یہ کوئی آئیڈیل ٹیم یا سیریز بھلے نہیں ہے مگر بہرحال رینکنگ کو برقرار رکھنے کا ایک موقع تو ہے ہی۔

سرفراز یا ان کے کوچ مصباح کے لیے یہ کوئی امتحان نہیں ہے۔ اس سے کہیں بہتر سری لنکن سکواڈ کو، دو سال پہلے، سرفراز امارات میں کلین سویپ کر چکے ہیں اور اب تو مقابلہ نسبتاً کہیں ہلکی ٹیم سے ہے اور ہوم گراؤنڈ کی نفسیاتی برتری بھی اپنی جگہ۔

پاکستان کے لیے یہ سیریز اپنی ون ڈے فارم کو بہتر کرنے کا اور حفیظ، شعیب ملک کے بعد ایک نئے مڈل آرڈر کو تشکیل دینے کا ایک موقع ہے جبکہ سری لنکا کے لیے یہ ہے کہ پرانے چہروں والے نئے کھلاڑیوں کے پاس موقع ہو گا کہ وہ اکا دکا میچ کے آپشنز رہنے کی بجائے مرکزی سکواڈ میں اپنی جگہ پکی کر پائیں۔

لیکن کرکٹ کی کوالٹی سے بڑھ کر اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی صحیح معنوں میں بحالی اسی ٹیم کے ہاتھوں ہونے جا رہی ہے جس پہ دس سال پہلے ایک حملے سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔

سو فی الوقت پی سی بی کہہ سکتا ہے کہ بھئی ہمیں صرف انٹرنیشنل کرکٹ چاہیے بھلے ریلو کٹے ہی سہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *