ڈاکٹر اگنیز سیملوایز جنھیں ہاتھ دھونے کی اہمیت پر زور دینے پر پاگل قرار دے دیا گیا

یہ سنہ 1825 کی بات ہے۔ لندن کے سینٹ جارج ہسپتال میں زیرِ علاج ایک مریض کے رشتے دار اس کی عیادت کے لیے جب ہسپتال پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ وہ گیلی اور گندی چادر پر لیٹا ہوا ہے جو پھپھوند اور کیڑوں سے بھری ہوئی ہے۔

اس مریض نے اور نہ ہی وہاں موجود دوسرے مریضوں نے ان حالات کے بارے میں کوئی شکایت کی تھی کیونکہ وہ اسے معمول سمجھتے تھے۔ وہ تمام لوگ جو بدقسمتی سے اِس ہسپتال یا اس دور کے دوسرے ہسپتالوں میں داخل ہوئے وہ ان خوفناک حالات سے واقف تھے۔

وہاں ہر چیز پیشاب، الٹیوں اور دوسری جسمانی رطوبتوں سے لتھڑی ہوئی تھیں۔ بدبو اس قدر شدید ہوتی تھی کہ طبی عملے کے لوگ اپنی ناک پر رومال رکھ کر جاتے تھے۔ اس وقت کے ڈاکٹروں کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں تھی۔ وہ کبھی کبھار ہی اپنے ہاتھ یا جراحی کے اوزار دھوتے تھے۔ ان ڈاکٹروں میں بھی یہ بدبو بس جاتی تھی جسے طب کے پیشے کی روایتی بو کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔

آپریشن تھیٹر بھی اتنے ہی غلیظ ہوتے تھے جتنے ان میں کام کرنے والے سرجن۔ ان کمروں کے بیچ میں لکڑی کی میز پر پچھلے آپریشنز کی باقیات نظر آتی تھیں جبکہ فرش لکڑی کے برادے سے ڈھکا ہوا ہوتا تھا تاکہ مریضوں کا خون اِس میں جذب ہو سکے۔

جراحی کا منظر

اُس زمانے میں ہسپتالوں میں بیماریاں پھیلنے کا بڑا ذریعہ خود ڈاکٹر ہوا کرتے تھے۔

وہاں پر ایک شخص ایسا ہوا کرتا تھا جس کی تنخواہ ڈاکٹروں سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ وہ تھا ہیڈ بگ ہنٹر۔ اُس شخص کا کام تھا مریضوں کے بستروں میں پسوؤں کا خاتمہ کرنا۔

ان ہسپتالوں میں بیماریاں پلتی تھیں اور وہاں بیمار اور مرتے ہوئے لوگوں کے لیے بہت فرسودہ سہولیات تھیں۔ اکثر مریضوں کو ایسے کمروں میں رکھا جاتا جہاں ہوا کا گزر کم ہوتا تھا اور انھیں صاف پانی بھی میسر نہیں تھا۔

اُس زمانے میں ہسپتالوں کے بجائے گھر پر علاج کروانا بہتر تھا کیونکہ ہسپتالوں میں شرحِ اموات گھروں کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ اِسی وجہ سے یہ ہسپتال موت کے گھر کہلاتے تھے۔

برائے مہربانی اپنے ہاتھ دھوئیے

اُس زمانے میں جہاں لوگ جراثیم کے بارے میں نہیں سمجھتے تھے وہیں ایک شخص نے بیماریوں کو روکنے کے لیے سائنس کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ان کا نام اگنیز سیملوایز تھا۔ یہ ہنگری سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر تھے جنھوں نے آسٹریا کے شہر ویانا میں ہاتھ دھونے کا نظام متعارف کرانے کی کوشش کی تاکہ زچگی کے وارڈز میں شرحِ اموات میں کمی لائی جا سکے۔

یہ ایک اچھی لیکن ناکام کوشش تھی کیونکہ اُن کے ساتھیوں نے انھیں انتہائی برے سلوک کا نشانہ بنایا لیکن آخر کار وہ ماؤں کے مسیحا کے طور پر جانے گئے۔

سیملوایز ویانا جنرل ہسپتال میں کام کرتے تھے جہاں اُس زمانے کے دوسرے ہسپتالوں کی طرح موت کمروں میں اپنے شکار کو سونگھتی پھرتی تھی۔

انیسوی صدی کے دوسرے حصے میں جراثیم کے بارے میں نظریات ثابت ہونے سے پہلے اکثر ڈاکٹروں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہسپتالوں کی خراب حالت بیماریوں کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بیکٹیریا

یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹروں کو جراثیم کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔

یونیورسٹی آف نیویارک سے منسلک ڈاکٹر بیرن ایچ لرنر کہتے ہیں 'آج ہمارے لیے ایسی دنیا کے بارے میں تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ جہاں ہم جراثیم یا بیکٹیریا کے بارے میں نہیں جانتے ہوں۔' ان کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زہریلے بخارات کے ایسے بادلوں کے ذریعے بیماریاں پھیلتی ہیں جن میں سڑے ہوئے مادے کے ذرات ہوتے ہیں جنہیں میاسمس کہا جاتا تھا۔

سب سے زیادہ خطرے میں حاملہ خواتین ہوتی تھیں، خاص طور پر ایسی خواتین جن کے زچگی کے دوران زخم ہو جاتے تھے کیونکہ کھلے ہوئے زخم بیکٹیریا کے رہنے کے لیے بہترین جگہ ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹر ایک مریض سے دوسرے مریض کے پاس جاتے تھے تو یہ بیکٹیریا ڈاکٹروں اور سرجنوں کے ذریعے ہی پھیلتے تھے۔

سیملوایز نے ویانا جنرل ہسپتال کے دو ایسے کمروں میں فرق دیکھا جہاں ایک جیسی سہولیات تھیں۔ ایک کمرہ میڈیکل کے طلبا جبکہ دوسرا دائیوں کے زیرِ انتظام تھا۔ جس کمرے میں طلبا جاتے تھے وہاں شرحِ اموات تین گنا زیادہ تھی۔

سیملوایز سے پہلے جن لوگوں نے اِس فرق کو محسوس کیا تھا انھوں نے اِس کی وجہ مریضوں کے ساتھ دائیوں کے مقابلے میں طلبا کے لاپرواہ رویے کو قرار دیا تھا۔ اُن کے خیال میں اِس رویے کی وجہ سے ماؤں کی قوت متاثر ہوتی تھی اور وہ زچگی سے متعلق بخار کے خطرے سے دوچار ہو جاتی تھیں۔

لیکن سیملوایز اِس وضاحت سے قائل نہیں ہوئے۔

گندگی کا پجاری

اُس کے بعد انھوں نے دیکھا کہ جب بھی کوئی عورت زچگی کے بخار سے مر جاتی تھی تو ایک پادری اپنے نائب کے ساتھ آہستہ سے چلتا ہوا لیبر روم میں جاتا اور وہاں اِس کا نائب گھنٹی بجاتا۔

سیملوایز نے یہ خیال پیش کیا کہ اِس رسم کی وجہ سے خواتین اِس قدر خوف زدہ ہیں کہ زچگی کے بعد انھیں بخار ہو جاتا ہے اور وہ بیمار ہو کر مر جاتی ہیں۔

انھوں نے پادری کا راستہ تبدیل کروا دیا اور گھنٹی بند کروا دی گئی۔ لیکن انھیں اُس وقت بہت جنجھلاہٹ ہوئی جب اِس تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

لیکن 1847 میں ان کے ایک ساتھی کے پوسٹ مارٹم کے دوران ہاتھ میں چوٹ لگ گئی جس کے بعد وہ بیمار ہوا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ اِس واقعے سے ان کے ہاتھ وہ سرا آ گیا جس کی انھیں تلاش تھی۔

اُس زمانے میں لاش کو کھول کر جائزہ لینا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ جن میں کئی خطرات جان لیوا ثابت ہوتے تھے۔ مردے کی کھال کو کاٹ کر جسم کے اندر کا معائنہ کرنا زیادہ تجربے کار اناٹومسٹ کے لیے بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ نظریۂ ارتقا کے خالق چارلس ڈارون کے ایک انکل بھی سنہ 1778 میں ایک بچے کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔

جب سیملوایز کا ساتھی بسترِ مرگ پر تھا تو سیملوایز نے دیکھا کہ اس میں بھی وہی علامات تھیں جو اُن خواتین میں تھیں جنھیں زچگی کے بعد بخار ہوا تھا۔ انھوں نے سوچا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو ڈاکٹر ڈائسیکشن والے کمرے میں کام کرتے ہیں وہ جب زچگی والے کمرے میں جاتے ہیں تو لاش کے ذرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

اِس کے بعد سیملوایز کے مشاہدے میں آیا کہ کئی نوجوان طلبا آٹوپسی والے کمرے سے نکل کر زچگی والے کمرے میں جاتے ہیں۔ کیونکہ اس زمانے میں دستانے یا محفوظ رہنے کی دوسری چیزیں استعمال نہیں کی جاتی تھیں اِس لیے کلاس ختم ہونے کے بعد اکثر طلبا کے کپڑوں پر انسانی گوشت، آنتوں اور بھیجے وغیرہ کے ٹکڑے چپکے ہوتے تھے۔ مرد ڈاکٹروں اور دائیوں (مڈ وائف) کے درمیان یہی فرق تھا کہ ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کرتے تھے جبکہ دائیاں یہ کام نہیں کرتی تھیں۔

کیا یہی وہ بات تھی جو اُس راز کو فاش کر سکتی تھی جس نے سیملوایز کو پریشان کیا ہوا تھا۔

جراثیم کے مسئلے کو سمجھنے سے پہلے ہسپتالوں میں اِس کا حل ڈھونڈنا ایک مشکل کام تھا۔ انیسویں صدی کے ماہرِ امراضِ نسواں جیمس وائی سمپسن، جنھوں نے پہلی مرتبہ انسان کو بے ہوش کرنے کے لیے کلوروفارم کے استعمال کا مظاہرہ کیا تھا، کہتے تھے کہ اگر بیماری کے پھیلنے کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا تو ہسپتالوں کو لازماً منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کرنا ہو گا۔

اُس وقت ایک ہی حل سمجھ میں آیا تھا، ہسپتالوں کا انہدام۔

لیکن سیملوایز سمجھتے تھے کہ ایسا انتہائی اقدام ضروری نہیں۔

کلورین اور لائم کے پانی سے بھرا بیسن

ڈاکٹر سیملوایز نے ہسپتال میں ایک بیسن نصب کروایا جس میں کلورین اور لائم کا پانی بھر دیا گیا تا کہ تمام ڈاکٹر اس میں اپنے ہاتھ دھویں۔

وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ زچگی سے متعلق بخار کی وجہ لاشوں سے آنے والا مواد ہے۔ انھوں نے ہسپتال میں ایک بیسن نصب کروایا جسے کلورین اور لائم کے پانی سے بھر دیا گیا۔ انھوں نے صرف تین الفاظ سے خواتین کی زندگیوں کو بچانے کا سلسلہ شروع کر دیا، وہ الفاظ تھے 'اپنے ہاتھ دھوئیں'

وہ تمام لوگ جو پوسٹ مارٹم والے کمرے سے زچگی والے کمرے میں جاتے تھے انھیں پہلے اِس پانی سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔

شرحِ اموات میں زبردست کمی ہوئی۔ اپریل سنہ 1847 میں یہ شرح 18.3 فیصد تھی لیکن ایک مہینے بعد ہی یعنی مئی میں یہ شرح تقریباً دو فیصد رہ گئی۔

لیکن اس زبردست کامیابی کے باوجود سیملوایز کی زندگی میں بہتری آنے کے بجائے مشکلات بڑھ گئیں۔

ویانا جنرل ہسپتال میں ان کے کانٹریکٹ کی تجدید نہیں کی گئی اور وہ اپنے وطن ہنگری چلے گئے جہاں انھیں ایک ہسپتال میں نسبتاً غیر اہم سا عہدہ دے دیا گیا۔

کلینک آف آگنیو

انھوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ انھوں نے یونیورسٹی آف پیسٹ کے میٹرنٹی کلینک میں بھی تدریس کی۔ وہاں بھی زچگی کے بخار کا ہونا عام بات تھی لیکن انھوں نے اس کا خاتمہ کر دیا۔

اُن کے نظریات پر ہونے والی تنقید اور اُن کے ساتھیوں کے برتاؤ پر ان کو غضہ تو بہت آیا لیکن انھوں نے اور زیادہ جوش سے اپنا کام جاری رکھا۔

سیملوایز اور زیادہ سرگرم ہو گئے۔ یہاں تک کہ مسلسل ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ سنہ 1861 کے بعد سے اُن کی دماغی حالت خراب ہوتی گئی اور وہ بدحواس سے ہوتے چلے گئے۔

وہ ہر گفتگو کے موضوع کو گھما پھرا کر زچگی کے بخار کی طرف لے جاتے تھے۔

اگنیز سیملوایز کی قبر

ایک دن اُن کے ایک دوست انھیں بہانے سے پاگل خانے لے گئے اور وہیں داخل کروا دیا۔ جب سیملوایز کو اندازہ ہوا کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو انھوں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن چوکیداروں نے انھیں پکڑ لیا اور خوب مارنے پیٹنے کے بعد ایک اندھیرے کمرے میں بند کر دیا۔

دو ہفتے کے بعد وہ ہاتھ کا زخم خراب ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر 47 برس تھی۔

بدقسمتی سے وہ اُس تحقیق میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکے جو آنے والے برسوں میں جراثیم کے بارے میں ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *