زمانہ قبل از تاریخ میں شیرخوار بچوں کو جانوروں کا دودھ بوتل کے ذریعے پلایا جاتا تھا

ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق تین ہزار برس سے زائد سے بھی قبل بچوں کو جانوروں کا دودھ بوتل کے ذریعے پلانے کے شواہد ملے ہیں۔

ماہرین آثارِ قدیمہ کو مٹی کے برتنوں پر جانوروں کی چربی کے ذرات ملے ہیں جو کانسی اور لوہے کے زمانے کے انسان کے بارے میں نادر معلومات فراہم کرتے ہیں۔

اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ماں کے دودھ کے علاوہ جانوروں کا دودھ بھی دیا جاتا تھا جس سے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہو گا کیونکہ اس طرح مائیں مزید بچے پیدا کرنے کے قابل ہوئی ہوں گی۔

دودھ کی قسم کا علم نہیں ہو سکا ہے، مگر خیال ہے کہ یہ بکری یا گائے کا ہو گا۔

یوینورسٹی آف برِسٹل کی ڈاکٹر جُولی ڈیون کا کہنا ہے کہ قبل از تاریخ کے بچوں کو جانوروں کا دودھ پلانے کی یہ پہلی شہادت ہے۔ ان کے خیال میں اس سے اس دور کی خواتین میں تولیدی صلاحیت میں اضافے کا بھی پتا چلتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس سے ماضی میں جھانکنے اور یہ جاننے کا موقع ملا ہے کہ ہزاروں سال پہلے مائیں اور گھر والے بچوں کی پرورش کیسے کرتے تھے۔

بویریا میں چھوٹے بچوں کی قبروں سے ملنے والے کانسی اور لوہے کے دور کے برتن

چھوٹے بچوں کی قبر سے ملنے والے کانسی اور لوہے کے دور کے برتن

’یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب بچے جانوروں کے دودھ پر پلنے لگتے ہوں گے تو قبل از تاریخ کی عورتیں نئے بچے پیدا کرنے کی قابل ہو جاتی ہوں گی، اور اس طرح آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہو گا اور آج ہم جس طرح زندگی گزار رہے ہیں اس کا تعین اسی سے ہوا ہو گا۔‘

ہزاروں سال پہلے بچوں کی پرورش کیسے ہوتی تھی؟

تقریباً سات ہزار برس قبل پتھر کے آخری دور کے یورپ میں انسانی طرزِ زندگی نے زبردست کروٹ لی۔ انسان نے شکار چھوڑ کر خوراک کے لیے کاشتکاری اور پالتو جانور پالنے شروع کر دیے۔

انسان نے دودھ اور اس سے بنی اشیا کا استعمال 6,000 برس پہلے شروع کر دیا تھا، مگر اس عہد کے بچوں کی غذا کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ماضی میں ملنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ شیرخوار بچوں کو چھ ماہ کی عمر میں ماں کے دودھ کے علاوہ بھی خوراک دی جاتی تھی، تاہم اس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

اسی تلاش میں ماہرین آثار قدیمہ نے مٹی کے برتنوں کی طرف توجہ دی، خاص طور پر پانچ ہزار برس پرانے ٹونٹی یا نلکی لگے برتنوں پر۔

انھوں نے تین بوتل نما برتنوں کا معائنہ کیا جو 450 سے 1,200 سال قبل از مسیح (یعنی کانسی اور لوہے کے عہد) میں شیرخوار بچوں کے ساتھ دفنا دیے گئے تھے۔

جدید عہد کا ایک بچہ قدیم زمانے کے لوٹا نما برتن کی طرز پر پھر سے بنائے گئے برتن سے دودھ پیتے ہوئے

جدید عہد کا ایک بچہ قدیم زمانے کی طرز پر بنائے گئے ایک برتن سے دودھ پیتے ہوئے

ان برتنوں پر جانوروں کی چربی اور تازہ دودھ کے مولیکیولر فنگر پرنٹس پائے گئے۔

بچوں کو مشکل سے صاف ہونے والی ان بوتلوں میں دودھ پلانے سے جراثیم کی وجہ سے بیمار پڑنے کے خطرات بھی رہے ہوں گے۔

لیکن چھاتی کے دودھ کی جگہ اس طریقے سے عورتوں میں مزید بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھی ہو گی اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہو گا۔

نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کی سایان ہالکرو نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شیرخوار بچوں کی خوراک میں جانوروں کا دودھ شامل کرنے کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا علم ہمیں قدیم زمانے کے بچوں کے لیے جانوروں کے دودھ کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *