سرگودھا یونیورسٹی میں ایک دن!

" کیا یہ نعیم بلوچ صاحب کا نمبر ہے ؟ "
" جی ، میں بول رہا ہوں"
"میں فیروز شاہ بول رہا ہوں، سرگودھا یونیورسٹی سے۔۔۔۔ میں آپ کا نگران مقالہ ہوں "۔
میں گڑبڑا گیا، کیونکہ الاصلاح انٹرنیشنل، جس کا یونیورسٹی آف سرگودھا سے الحاق تھا( جی" تھا ") انھوں نے مجھے آفیشلی یہی بتایا تھا کہ ڈاکٹر احسان الرحمن صاحب غوری میرے مقالے کے نگران ہیں اور میں نے انھی کی  رہنمائی ،جتنی بھی میسر تھی، میں یہ مقالہ 'جیسے تیسے 'مکمل کیا تھا اور اب یہ سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات و عربی کے چیئرمین، میرے نگران ؟  ۔۔۔اور اس کے بعد ڈاکٹر صاحب جو کہہ رہے تھے وہ میرے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا مثلاً یہ کہ میرا مقالہ بہت مختصر ہے ، قاعدے ضابطے پر نہیں ، اسے پیش کرنا مناسب نہیں ۔۔۔ بس آپ پہلی فرصت میں ملیں ۔
 میں نے کوئی وضاحت پیش نہ کی ، بس یہ کہا کہ ٹھیک ہے سر ، میں کل ہی سرگودھا آپ کے پاس حاضر ہو جاتا ہوں ۔ اور  ہماری پہلی ملاقات ان کے اس جملے پر اختتام پزیر ہوئی تھی : " کام مشکل ہے ، خاصی تبدیلیاں تجویز کی ہیں ۔۔۔وقت بھی بہت قلیل ، چند دن ' مگر مجھے امید ہے کہ آپ اسے کر لیں گے۔ "
ان کی آنکھوں میں چمک نے میرے اندر ایک عزم پیدا کر دیا تھا اور میں نے الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے صرف اتنا " ان شاءاللہ"
 اور آج چھے دنوں کے بعد ڈاکٹر صاحب سے دوسری ملاقات تھی اور مقالہ ان کی رہنمائی میں بالکل نئی شکل اختیار کر چکا تھا اور وہ اس پر اظہار اطمینان کر چکے تھے۔ اب گفتگو یہ نہج اختیار کر چکی تھی کہ وہ فرما رہے تھے :
" رومی بہت وسیع الظرف تھے ، رواداری کا عالم یہ تھا، کہتے تھے: ہم کسی یہودی، مسیحی یا کسی غیر مسلم کو کافر یا جہنمی نہیں کہہ سکتے ۔۔۔۔۔
 اور میرے ذہن میں استاذ غامدی صاحب محترم  کا یہ جملہ گونج رہا تھا : عقیدے کی بنیاد پر سزا دینا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ۔
اور  ڈاکٹر شاہ صاحب فرما رہے تھے کہ رومی کے جنازے میں لاکھوں افراد میں ہزاروں یہودی اور عیسائی شامل تھے اور ان کی بہت بڑی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا تھا۔۔۔ "
اور مجھے یاد آیا کہ رومی کا مقبرہ تو  ملکہ تامار خاتون نے بنایا تھا جو جارجیا کے عیسائی بادشاہ کی بیٹی تھیں اور جنھوں نے جلال الدین رومی ہی کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا۔ اور بعد میں سلطان غیاث الدین پروانہ کی ملکہ بنیں   ۔۔۔ ڈاکٹر شاہ صاحب فرما رہے تھے ۔۔۔ "کس قدر سچ کہا تھا رومی نے کہ ہم کسی کی جنت دوزخ کیسے طے کرسکتے ہیں ؟ کسے، کب اور کیسے نجات کا سامان ہاتھ لگ جائے ، کون جانے ؟ ہمارے فتووں کی کیا حیثیت ہے؟ رومی کے بیٹے نے بعد میں باپ کی طرح مثنوی لکھی تھی ، اس میں بیان کیا ہے اپنے والد کی بے پناہ رواداری کو ۔۔۔۔
عرض کی : "صوفیوں میں بہت رواداری ہے "
انھوں نے فرمایا : "امام غزالی بھی صوفی تھے مگر  انھیں ان سے اختلاف ہے ۔ وہ مسلمانوں کے ہر فرقے کو چاہے وہ معتزلہ ہی کیوں نہ ہو، زندقہ ہی میں اس کا شمار ہو تا ہو ، کتنی ہی عجیب اور حقیقت سے ہٹی ہوئی تاویل کیوں نہ کرتا ہو لیکن اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو ، وہ اس کی تکفیر کے قائل نہ تھے البتہ وہ یہودیوں، عیسائیوں کو وہ آزادی دینے کے قائل نہ تھے جس کے  رومی قائل تھے۔۔۔۔ "
مجھ پر واضح ہو چکا تھا کہ میں ایک جید عالم اور نہایت وسیع الظرف استاد کی محفل میں حاضری کا شرف حاصل کر رہا ہوں ۔
 میں اب میں مطمئن ہو گیا ۔ میرا تعارف جان کر جب انھوں نے المورد سے میری وابستگی کے بارے میں پوچھا تو میں نے تفصیل میں احتیاط برتی تھی۔ مگر اب جب گفتگو دوبارہ المورد کی طرف مڑی تو میں نے قدرے تفصیل بتائی اور انھوں نے بھی یہ پوچھ کر مجھے احساس دلایا کہ وہ خاصی معلومات رکھتے ہیں کہ محترم غامدی صاحب کی طبیعت کیسی ہے؟  اب گفتگو تیزی سے بے تکلفانہ ہونی لگی۔ انھوں نے اپنی دو تصانیف " کناشہ تحقیق" اور " مطالعہ اسلام اور استشراقی تنقیدات " عطا فرمائیں۔ اور  باہمی دلچسپی کے متعدد موضوعات ہر گفتگو کے بعد جب ہم اختتامی کلمات کی طرف بڑھے تو ان کا  یہ جملہ میرے دل میں ترازو  ہوگیا :
"  آپ سے ملاقات کی وجہ سے مجھے ایک اچھا دوست مل گیا۔"
میں نے سوچا : زہے نصیب اور  کہا " بہت ذرہ نوازی۔۔۔۔ اور ساتھ بیٹھے حسنین صاحب کی طرف اشارہ کیا جو سرگودھا میں میرے میزبان بنے تھے اور جن کی موجودگی ہی میں ڈاکٹر شاہ صاحب نے مجھے پہلا فون کیا تھا۔ اور یہ مفتی حسنین معاویه ہی ہیں جو الاصلاح میں میرے کلا س فیلو تھے۔ جنھوں نے ہمیشہ مجھ سے رابطہ رکھا ،جنھوں نے  مقالے کی فارمیٹنگ اور کتابیات کی فہرست مرتب کرنے میں گراں قدر مدد کی۔ وہ فیصل مسجد جھاوریاں سرگودھا کے مہتمم بھی ہیں ۔
ڈاکٹر شاہ صاحب نے فرمایا بے شک انھوں ہی نے مجھے آپ کا پہلا تعارف کرایا ۔ یوں ممنونیت کے جذبات لیے ڈاکٹر فیروز الدین شاہ صاحب سے  یہ ملاقات مکمل ہوئی۔
حسنین صاحب مجھے بس پر سوار کرانے پر بضد تھے۔ اس لیے آلو کے لذیذ پراٹھے بھی انھی کو کھلانے پڑے کیونکہ میں نے کسی بھی قسم کے گوشت کھانے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا۔
ایم فل اسلامیات مکمل کرنے کی یہ داستان ابھی بہت ہی ادھوری ہے۔ اس کی تفصیل کسی ہارر اور ایڈونچر مووی کی طرح دلچسپ ہے۔ یہ بہت رش لے گی۔ اس پر ابھی لکھنا باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔ منتظر رہیے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *