پاکستان بمقابلہ سری لنکا: ’اگر ہماری فیلڈنگ کا یہی حال رہا، تو ہم کوئی ٹی ٹونٹی میچ جیت نہیں سکیں گے‘

اس میچ سے پہلے دنشکا گوناتھیلکا ایک اوسط درجے کے اوپنر تھے۔ ہو سکتا ہے اس میچ کے بعد وہ پھر معمولی سے پلئیر ہی ثابت ہوں، لیکن کراچی کی یہ اننگز ان کے کرئیر کی یادگار ترین کاوش رہے گی۔

اس بیٹنگ آرڈر پہ دو روز پہلے یہ وقت آن پڑا تھا کہ تین سو سے زائد کے تعاقب میں صرف اٹھائیس کے مجموعی سکور پہ آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔ صرف دو روز پہلے اس بیٹنگ لائن کے پاس نہ تو عثمان شنواری کے لیے کوئی جواب تھا نہ ہی محمد عامر یا شاداب خان کا۔

لیکن کل اکیلے گوناتھیلکا ہی سب سوالوں کے جواب ڈھونڈ لائے۔ پہلے پاور پلے کی مارا ماری کا بھی اور مڈل اوورز کی سست روی کا۔ نہ جانے پچھلے میچ کی جیت کی تھکاوٹ تھی یا گوناتھیلکا کی غیر متوقع مزاحمت کہ سبھی پاکستانی فیلڈرز کے اوسان خطا ہو گئے۔

کل کے میچ کی پاکستانی فیلڈنگ اس لائق تھی کہ اسے غالباً گذشتہ تین سال کی بدترین کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ فیلڈنگ لیول کسی ایسوسی ایٹ ٹیم میں تو قابلِ قبول ہو سکتا ہے، پاکستان جیسی ٹیم میں نہیں۔

اس فیلڈنگ نے یہ ممکن کر دکھایا کہ گوناتھیلکا کی کاریگری اور نکھرتی گئی اور ایک 'فُل سٹرینتھ' پاکستان اٹیک نے 'سیکنڈ چوائس' سری لنکن بیٹنگ لائن سے لگ بھگ تین سو رنز کی مار کھا لی۔

وہاب ریاض کے نصیب ہرے نہ تھے ورنہ دو گیندوں میں دو وکٹیں لینے کو تھے۔ لیکن مضمحل بولنگ جب مضطرب فیلڈنگ کے پلے پڑی تو دسون شناکا نے ہی پاکستان ٹیم کو تگنی کا ناچ نچا ڈالا۔

پاکستان عابد علی کا جتنا شکریہ ادا کرے، کم ہے۔ کیونکہ اس وکٹ پہ دوسری اننگز میں یہ ہدف کوئی مذاق نہیں تھا۔ عابد علی نے فخر زمان کے حصے کا بوجھ اٹھایا تو یہ ممکن ہو سکا ورنہ یہیں اگر دوسرے اینڈ پہ عابد علی کی بجائے امام الحق ہوتے تو مڈل آرڈر پہ کیا گزرتی۔

کرکٹ

عابد علی کو انضمام الحق چن کر لائے تھے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بانوے کے ورلڈ کپ کے انضمام کی طرح عابد علی اس ورلڈ کپ کا سرپرائز پیکج ہوں گے لیکن ورلڈ کپ کی شروعات سے پہلے ہی سرپرائز پیکج کو واپس بلوا لیا گیا۔

اب جب دوبارہ مشکل سے موقع مل ہی گیا تو عابد علی اکیلے ہی اتنے جرات مند ثابت ہوئے کہ میچ کو اپنے کندھوں پہ اٹھا لیا۔ سری لنکن بولنگ کوئی ایسا کرشمہ نہ کر سکی کہ عابد علی کا باندھا سماں ٹوٹتا۔

کرکٹ

کراؤڈ نے بھی آج کسی حد تک شکوہ دور کیا۔ میچ کے دوسرے حصے میں یکبارگی لگا کہ کرکٹ گھر لوٹ آئی ہے۔ بابر اعظم کے بعد آج عابد علی، فخر زمان اور حارث سہیل خوش قسمت رہے کہ ہوم کراؤڈ کے سامنے سیریز وِننگ اننگز کھیلنے کا موقع ملا۔

انضمام اور مکی آرتھر کے انخلا کے بعد نئے سیٹ اپ میں یہ پاکستان کی پہلی سیریز تھی اور اس میں فتح خاصی حد تک نیک شگون ہے کہ ٹیم نے نئے سیٹ اپ کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے۔

اور اختتامی نوٹ پہ سرفراز احمد کی یہ نہایت خوبصورت بات کہ اگر ہماری فیلڈنگ کا یہی معیار رہا تو ہم کوئی ٹی ٹونٹی میچ جیت نہیں سکیں گے۔ ٹی ٹونٹی میچ میں دو ہی دن ہیں، امید ہے تب تک فیلڈنگ سنبھل جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *