نواز شریف کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟

زندگی ایک نعمت ہے۔ ہونے اور نہ ہونے کا ایک وقفہ ہے جو بن مانگے عطا ہوا، جس میں ہری گھاس، ٹھنڈے پانی، آسودہ دھوپ اور بارش کی پھوار جیسی لطافتوں کا لمحوں میں پرویا ہوا ایک منظر سا آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ اور پھر وہی جو مجید امجد نے کہا تھا۔ میں کل ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا؟

زندگی وقت کے جس منطقے میں ملے، زمیں کے جس ٹکڑے پر نصیب ہو، جینے والے کا کام دستیاب حالات سے معنی کا شرارہ نکالنا ہے۔

انتخاب کی ایک دو لڑی مالا ہے، قبول اور استرداد کے دو امکان ہیں۔ رکنے کی مہلت نہیں، جس نے فیصلہ کرنے کا جوکھم اٹھایا، اس نے زندگی گزاری، جس نے دیے گئے فرمان کو تسلیم کیا، زندگی اسے گزار دیتی ہے۔

ہماری نسل کے حصے میں بیسویں صدی کا دوسرا نصف آیا۔ قومیں آزاد ہو رہی تھیں۔ فرد کی زنجیریں ٹوٹ رہی تھیں۔ کچھ خواب ابھی تعبیر کے پردے میں تھے، کچھ عظمتیں ابھی تعمیر کے مرحلے میں تھیں۔

کچھ غلطیاں نعرے کی اوٹ میں تھیں، کچھ منزلیں سفر کے مقام میں تھیں۔ لکھنے والا کبھی کبھی چاہتا ہے کہ کسی کم عمر کو دبے دبے تفاخر سے بتائے کہ ہم نے 1989 کا برس دیکھا جب جمہوریت نے زیر زمین خواب کے بیجوں کی تالیف کی تھی۔

مگر یہ سوچ کر رک جاتا ہے کہ نوجوان نسل کے پاس تو ملالہ یوسف زئی اور گریٹا تھون برگ جیسے اثاثے ہیں۔ اگر کسی نے بے باک ہو کر کہہ دیا کہ تمہاری نسل کا انجام تو ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت نمودار ہوا۔

پیوٹن نے گریٹا تھون برگ کی معصومیت کا سرعام مذاق اڑایا۔ ٹرمپ نے سرپرستانہ تغافل کا غمزہ کیا۔ یہ ہاری ہوئی نسل ہے۔ ان کے کیسے میں گولاگ کی وحشت ہے۔ ان کے کاسہ سر میں استعمار کا غرور ہے۔

یہ نئی سچائیوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ افسوس، ہم نے انکار کی سرخی میں صبح کی تھی، ہمیں رجعت کی خوں آشام شفق کا غروب ملا۔

ہم کسی سے نریندر مودی کے تعصب کی خجالت کیا بیان کریں۔ ہمارے اپنے پاؤں مقامی کیچڑ میں سنے ہیں۔ ایک امتحان سر پر آن پہنچا۔

اندیشے کی آہٹ اور خطرے کی دستک میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ 2018 کی امتحانی مشق پر بہت سے سوال ہیں۔ احتساب کی بنتی مٹتی پرچھائیوں کے خدوخال واضح ہو رہے ہیں۔ لیکن قانون کی کتاب کہتی ہے کہ جولائی 2018ء کا انتخاب تحریک انصاف نے جیتا۔

عمران خان دستور پر حلف اٹھا کر وزیر اعظم بنے تو انہیں ہٹانے کے لئے بھی دستوری طریقہ کار اپنانا ہو گا۔ اگر تحریک انصاف کو جمہور نے منتخب کیا ہے تو اس کی کارکردگی پر فیصلہ دینے کا اختیار بھی عوام کا ہے۔

احتجاج کا حق جمہوری ہے لیکن اگر اس سے عدم استحکام برآمد ہوا تو یہ میثاق جمہوریت کی روح سے انحراف ہو گا۔ ہمارے دستور کے بعد میثاق جمہوریت قوم کا اہم ترین اثاثہ ہے۔

اگر دھوپ چھاؤں کے کھیل کی طرف پلٹنا ہے تو یہ بے نظیر بھٹو کے لہو سے غداری ہو گی۔ معیشت کی بدحالی عشروں کے غلط فیصلوں کا ناگزیر نتیجہ ہے۔ ہماری خارجہ تنہائی ہمارے داخلی بندوبست سے نکلی ہے۔

کچھ تحمل سے کام لیا جائے تو قوم کو درپیش بنیادی سوالات پر زیادہ شفاف مکالمہ ممکن ہو سکے گا۔ ابھی محاصرے کی شدت کم نہیں ہوئی۔ ابھی جمہور کے دمدمے کمزور ہیں۔

یہ بہت مناسب رہا کہ آرمی چیف اور کاروباری حضرات کی مبینہ ملاقات کے بارے میں وضاحت کر دی گئی۔ غیر مصدقہ اخباری اطلاعات سے پیدا ہونے والے کچھ تکلیف دہ خدشات رفع ہو گئے۔

اہل حکم اپنے ملاقاتیوں کو بھی بتا دیا کریں کہ حساس معاملات پر اٹھلاتے ہوئے اخباری بیانات جاری نہیں کئے جاتے۔ ہمیں ان صاحبان زر سے گلہ نہیں، روپے پیسے کی روکڑ جانتے ہیں، انہیں آئینی نزاکتوں کی کیا خبر۔

یہ جملہ البتہ میجر جنرل آصف غفور کے سرکاری اعلان سے لفظ بلفظ نقل ہے کہ ’خوشحالی کے لیے سیکورٹی ضروریات اور معاشی ترقی میں توازن ضروری ہے۔‘ اس سے مناسب بات کوئی ہو نہیں سکتی۔

بے شک سیکورٹی ضروریات اور معاشی ترقی میں عدم توازن ہی نے ہمیں ان حالوں کو پہنچایا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان فاسٹر ڈلس نے ہم ایسی غریب قوموں کے لئے سیکورٹی کو ترقی کے مترادف قرار دیا تھا۔

سیکورٹی اسٹیٹ کے اس تصور سے ہماری انسانی ترقی نظر انداز ہو گئی۔ ہمیں سیکورٹی ضروریات اور معاشی ترقی میں توازن پر غور کرنا چاہیے۔ یہ کام بالائی تمتع کے عادی سرمایہ کاروں کے بس کا نہیں۔

ایسے حساس معاملات کے لئے دستوری ذرائع سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ ہموار اور پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے قومی سلامتی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

درویش کی قسمت خراب ہے۔ کوئی حکومت ہو، وزیر داخلہ کے ارشادات سے واسطہ رہتا ہے۔ وزیر داخلہ ریاستی ڈنڈے کا امین ہوتا ہے۔ احتیاط کرنی چاہیے۔ نازک مزاج شاہاں تاب سخن ندارد۔

مگر کچھ یوں ہوا کہ رحمن ملک سے نجات پائی تو چوہدری نثار علی کے فرمودات سے پالا پڑا۔ اور اب تو خیر، اقبال تیرے عشق نے سب بل دیے نکال۔

وزیر داخلہ پیر اعجاز شاہ فرماتے ہیں کہ نوازشریف کو ان کے دو چار رفقا نے پھنسایا، یہ لوگ بیچ میں نہ ہوتے تو نوازشریف چوتھی بار بھی وزیراعظم بنتے۔ پیر صاحب بھی غضب ڈھاتے ہیں۔

ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کو جرم خیانت پر معزول کیا اور پھر ان کی جماعت شفاف انتخاب ہار گئی۔ پیر صاحب نواز شریف کی ابتلا کو دو چار ناپسندیدہ افراد کا کیا دھرا بتاتے ہیں۔

پیر صاحب نے چوہدری نثار علی خان کے لئے اپنی پسندیدگی ظاہر کی ہے البتہ یہ نہیں بتایا کہ چوہدری نثار علی ایسا کیا کہتے تھے جو نواز شریف نہیں مانے۔ عرض ہے کہ جنہیں اعجاز شاہ خرابی کی جڑ سمجھتے ہیں، خلق خدا انہیں متاع قافلہ سمجھتی ہے۔

دوسرے یہ کہ اگست 2017 میں جی ٹی روڈ کے مناظر دیکھنے والے کہتے ہیں کہ تمام شہر ہے، دو چار دس کی بات نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *