آزادی مارچ: فضل الرحمان کے حکومت مخالف احتجاج پر حکومتی جماعت اور اپوزیشن کا کیا موقف ہے؟

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر سے حکومت مخالف ’آزادی مارچ‘ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن ابھی تک دیگر اپوزیشن جماعتیں اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت ماضی میں تو احتجاج کرنے والوں کو کنٹینر دینے کا وعدہ کرتی رہی ہے تاہم ابھی حکومتی وزرا کے بیانات ملے جلے اشارے دے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم سب (اپوزیشن) اس بات پر متفق ہیں کہ فوری طور پر موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو اور اس میں کوئی دیر نہیں ہونی چاہیے۔‘

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر مزید دیر ہوئی تو ملک کا بہت بڑا نقصان ہو گا کیونکہ موجودہ حکومت ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

انھوں نے ملک میں فوری طور پر نئے انتخابات کروانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

شہباز شریف

کیا شہباز شریف کی شرکت مشکوک ہے؟

تمام الزامات کے باوجود اگرچہ شہباز شریف نے ابھی تک آزادی مارچ پر کوئی بیان نہیں دیا ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے نجی ٹی وی جیو سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی کہ شہباز شریف آزادی مارچ میں شرکت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ’شہباز شریف کی آزادی مارچ میں عدم شرکت کے حوالے سے میڈیا پر جو خبریں چلیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں اور میں اس کی سختی سے تردید کرتی ہوں۔‘

یاد رہے کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی تین دن قبل اسلام آباد میں ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں مولانا فضل الرحمان کے لاک ڈاؤن سے متعلق اپوزیشن کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے آزادی مارچ میں شرکت سے متعلق فیصلے کو اپنی اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے ساتھ منسلک کیا۔

مریم اورنگ زیب کے بقول ’ہم اصولی طور پر مولانا صاحب کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان کی عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کس طرح عوام کو ان مشکلات سے نکالیں۔

نون لیگی سینیٹر مشاہداللہ خان نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا کہ ان کے خیال میں ان کی پارٹی اس مارچ کا حصہ بنے گی۔ اپنی رائے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل اس بات کا فیصلہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کر چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’یہ بڑے فیصلے ہوتے ہیں، میں ایک بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اب بھی حتمی فیصلہ نواز شریف ہی کریں گے۔‘

آصف زرداری

پیپلز پارٹی کے دھرنے پر تحفظات

جمعے کو آصف زرادری اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت میں جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس میں پیش ہوئے۔ عدالت میں ان کی بلاول بھٹو سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں اہم امور پر مشاورت بھی ہوئی۔

اس پیشی کے بعد جب وہ عدالت سے باہر نکلے تو صحافیوں نے ان سے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے متعلق پوچھا کہ کیا یہ کامیاب ہو جائے گا۔ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرادری کا کہنا تھا کہ ’انشااللہ‘، پھر تھوڑے توقف سے بولے ’ہماری دعا ہے ان کے ساتھ۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’(ہم مولانا فضل الرحمان کی) حمایت کر رہے ہیں۔‘

بلاول بھٹو نے میڈیا ٹاک کے دوران کہا کہ ’آزادی مارچ سے متعلق پارٹی کا اجلاس بلایا ہے تا کہ ہم مشورہ کرسکیں کہ کیسے اور کس حد تک مولانا کی مدد کرسکتے ہیں، کیسے اور کس حد تک (آزادی مارچ میں) شرکت کر سکتے ہیں۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی خواہش تھی کہ کوئی مشترکہ احتجاج پر اتفاق ہو جائے، تاہم مولانا نے اپنے احتجاج کا خود اعلان کیا ہے۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ’ہم ہر جمہوری احتجاج میں ساتھ دیں گے۔ پیپلز پارٹی کا دھرنا پر تحفظات ہیں۔ اس پر پارٹی کے اندر بحث ہوگی کہ کیا ہمیں دھرنا کا ساتھ دے سکتے ہیں یا نہیں۔‘ اس کے بعد بلاول بھٹو نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیں گے۔ کسی بھی صورت میں ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوریت کو نقصان ہو۔‘

بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک دھاندلی زدہ حکومت ہے، ان کو گھر جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے بھی احتجاج کی کال دی تھی، ہمارا احتجاج بھی جاری ہے۔‘

سڑکوں پر احتجاج سے متعلق انھوں نے کہا کہ اگر جمہوری قیادت کو پارلیمان سے جمہوری قیادت کو دور رکھا جاتا ہے تو (ایسے میں) ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستان پیپلز پارٹی میدان میں ہوگی اور قوم کے جمہوری، انسانی حقوق اور معاشی انصاف کی بات کرے گی تو کوئی قوت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔‘

حکومتی ردعمل

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزادی مارچ سے متعلق ملے جلے سگنل دے رہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسے سیاسی حق قرار دیتے ہوئے صرف مولانا فضل الرحمان سے مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں تو خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان سرے سے مارچ کو طاقت کے زور پر روکنے کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

محمود خان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مولانا فضل الرحمان سے آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا کی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 27 تاریخ کا جب انھوں (مولانا فضل الرحمان) نے انتخاب کیا تو مجھے بڑا تعجب ہوا کہ ان کو ایسا نہیں کرنا چائیے تھا، اس لیے کہ وہ کشمیر سے دن منسوب ہے‘۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمان سے آزادی مارچ سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں آزادی مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کا ایک بندہ بھی اسلام آباد نہیں پہنچنے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ جس لاک ڈاؤن کی بات کرتے ہو انشااللہ پہلے تو آپ لوگوں میں ہمت نہیں ہے کہ آپ ادھر جائیں گے، اور اگر آپ لوگوں کا (ایسا ارادہ) ہے تو انشاءاللہ خیبر پختونخواہ سے آپ کو گزرنے نہیں دیں گے۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پخونخواہ نے عوامی اجتماع کے سامنے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ انشاءاللہ کوئی بھی بندہ اسلام آباد نہیں پہنچے گا۔‘

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے اسے ’زبردستی کا مارچ‘ قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان سے مخاطب ہو کر کہا کہ عمران خان پہلے ہی اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں اسلام کی بہتر تصویر پیش کرچکے ہیں اب مزید کسی احتجاج کی گنجائش نہیں بنتی۔ انھوں نے اسلام آباد کے بجائے آزادی مارچ کے شرکا کو کشمیر کی طرف مارچ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *