ہیروبننے میں بہت دیر کردی

میاں محمد نواز شریف ایک افسانوی کردار کی سی شہرت حاصل کرتے جارہے ہیں۔ قید نے اُن کے پرانے، جہاں دیدہ سیاسی کارکنوں کے علاوہ بدترین ناقدوں کے دل میں بھی اُن کے لیے مثبت جذبات پیدا کردیے ہیں۔ سادہ الفاظ میں آپ اس گروہ کو ”جمہوریت پسندوں کا کیمپ“ کہہ سکتے ہیں۔
میاں صاحب کی مثبت خوبیوں کے توشہ خانے میں اُن کا حوصلہ ایک نایاب موتی کی طرح جگمگا رہا ہے۔ اُن سے جیل میں ملنے والے لوگوں کی قطار طوالت پکڑ رہی ہے۔ چشم ِتخیل پی ایم ایل (ن) کے رہنما کو ایک درخت کے نیچے مہاتما بدھ کی مانند زمین پر بیٹھے دیکھتی ہے۔ گیانی نے آزادی کی زندگی کو لات مار جیل میں حتمی رہائی کے تجربے کو ترجیح دی تھی۔
دعویٰ ہے کہ ”میاں صاحب جیل سے باہر آنے سے انکار ی ہیں“۔ صوتی لہر رہ رہ کر ابھرتی ہے، اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے اور قومی سماعت سے ٹکراتے ہوئے کہتی ہے، ”وہ اُنہیں اور مریم کو بیرون ِ ملک بھیجنا چاہتے ہیں؛ لیکن اُن کا کہنا ہے وہ کہیں نہیں جائیں گے۔“
افسانوی ہیرو کو کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ تمثیل میں معافی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کہاجاتا ہے کہ ہیرو سے ماضی میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا۔ بیس برس پہلے، اکتوبر 1999 ء کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔ میاں صاحب نے اُس وقت کے آمر کے ساتھ سمجھوتہ کرکے رہائی حاصل کر لی؛ ڈیل کرکے ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ لیکن وہ ماضی تھا۔ قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے رہنما بہت بڑی فکری تبدیلی سے گزرے ہیں۔ ناخن سے دیوار کھرچی ہے۔
ان سخت جان حامیوں کا کہنا ہے کہ آج میاں صاحب اُس اتھارٹی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں جو ہمیشہ سے ہی ملک کی سیاست کو اپنی سوچ کے مطابق کنٹرول کرتی آئی ہے۔ اب میاں صاحب اُن افراد کے لیے مزاحمت کی علامت ہیں جو حقیقی اورشفاف جمہوریت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ درحقیقت اُنھوں نے کچھ کفارہ ادا کربھی دیا ہے۔ اب جمہوریت پسند ماضی کی تنقید، بشمول ذاتی رنجش بھلا کر جمہوریت کی خاطر اُن کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے افراد، جنہوں نے میاں صاحب کے کیرئر کو شروع سے دیکھاہے، اور اس سے متاثر ہوئے ہیں، جانتے ہیں کہ اُن کی ابتدائی سیاست سے زخم خوردہ افراد کے لیے اُن کی حمایت کس قدر مشکل تھی۔ چلیں وہ توجیل میں ہیں، لیکن اُن کے متاثرین کو اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا پڑا ہوگا۔ وہ لوگ جو 1980 ء کی دہائی سے اُن کی تبدیل ہوتی ہوئی سیاست کو دیکھ رہے ہیں، جانتے ہیں کہ لوگ اُن کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ میاں صاحب اب جمہوریت کے چمپئن ہیں تو وہ ”سوری“ کہہ کرآگے کیوں بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن اب لاہور بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ وہ لاہور نہیں جو 1980ء کی دہائی سے پہلے تھا۔ یہ پی ایم ایل (ن) کا گڑھ رہاہے۔ ایسے افراد کی کمی نہیں جو میاں صاحب کے نئے جمہوری جنم پر یقین رکھتے ہیں، لیکن وہ اُن کی قید میں کوئی مدد کرنے کے قابل نہیں۔ لیکن یہ دوٹوک انکار نہیں۔ مدد کے قابل نہ ہونے کا اعتراف، اور ادراک ہے۔
اُن افراد نے انکار کرنے کی طاقت بہت دیر پہلے کھو دی تھی۔ اس کی وجہ پی ایم ایل (ن) کی ایک طویل عرصے تک روا رکھی گئی طرز ِسیاست تھی۔ یہ لوگ آج کے جمہوری چمپئن کے ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر ہیں، کیونکہ یہ کمزور ہیں۔ ان کی طاقت ان سے چھین لی گئی۔ وہ اچھی چیزیں تباہ کردی گئیں جو ان کی ہمت استوار کرتی تھیں۔ اب سیاسی آواز سے محروم یہ افراد کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے ہم تک پہنچنے میں بہت دیر کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب دونوں ایک دوسرے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔
اب یہ وہ لاہور نہیں جو کبھی میاں صاحب کا سیاسی اکھاڑہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں وہ اپنی مرضی کی سمت، مرضی کے آپشنز اور مرضی کے اصول طے کرتے تھے۔ اقتدار کی جنگ میں جتنے کم اصول ہوں، اتنا ہی بہتر رہتا ہے۔ 1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات کی مثال لے لیں۔ اُنھوں نے بہت آسانی قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی ایک ایک نشست سے کامیابی حاصل کرلی۔ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ مہربان اُنہیں پنجاب کا وزیر ِاعلیٰ بنانا چاہتے ہیں، اُنھوں نے قومی اسمبلی کی نشست جماعت ِاسلامی کو عطیہ کردی۔ یاد رہے، اُنھوں نے یہ نشست کسی کلثوم، کسی شہباز، کسی بلال یاسین، یا کسی مریم کو نہیں، جماعت ِاسلامی کو دی تھی کیونکہ جماعت نیکی اور پرہیزگاری کے نام پر ملک کی اخلاقی اور نظریاتی تطہیر کا ہراول دستہ تھی۔ اُس وقت لاہور میں ووٹوں کے عوض ملازمت ملنے لگی۔ کہا جانے لگا کہ اگر آپ کی جیب میں برادری کے معقول تعداد میں ووٹ ہیں تو آپ کی فلاں پرکشش ملازمت پکی، جیسا کہ پولیس، انکم ٹیکس، ایکسائز یا ایل ڈی اے۔
لیکن سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ملازمت اور بدعنوانی کا موضوع کسی اور دن پر چھوڑتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ہم قدم رہنے کے طعنے کا بھی میاں صاحب نے مداوا کردیا۔ اُنھوں نے پہلے جماعت کے کارکن کاکردار ادا کیا، اور پھر اسے عین وقت پر چھوڑ دیا۔ اس نئے سفر میں اُن کے لیفٹیننٹ اب شہباز شریف تھے۔ آہستہ آہستہ اُنھوں نے اپنی پوزیشن تبدیل کرنا شروع کردی۔ پہلے وہ ”کسی کے مہرے“ سمجھے جاتے تھے، لیکن اب اُنھوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنا شروع کردیا تھا۔ تاہم اپنے حامیوں کو تقویت دینے کا عمل شروع نہ کیا گیا، اور نہ ہی یہ سوچ پیدا ہوئی کہ کبھی سخت جان حامیوں کو احتجاجی میدان میں اتارنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسا کہ آج۔
جن اداروں سے عوامی خواہشات اور عزائم کا اظہار ہوتا تھا، اُنہیں بے رحمی سے کچل دیا۔ ٹریڈیونین، طلبہ تنظیمیں اور ترقی پسند عوامی سوچ کے دیگر مراکزکوبہت منظم طریقے سے تباہ کیا۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ ووٹوں کی تعداد میں اضافہ، جس کے لیے وہ ہر آن کوشاں رہے، بھی ایک طرح کی مزاحمت ہے، لیکن گزشتہ انتخابات میں اس غبارے سے ہوا نکال دی گئی۔ زیادہ ووٹ لینے والا ایک اور ماڈل سامنے لایا گیا۔ اب یہ ماڈل بلند آہنگ بھی تھا، اور عوامی خواہشات کا ترجمان ہونے کا دعویدار بھی۔
لیکن اس ”تبدیلی“ میں کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین عشروں سے یہی کھیل جاری ہے۔ اس کھیل نے لوگوں کو تھکا دیا ہے۔ جو لوگ میاں صاحب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے تھے، وہ بکھر گئے ہیں۔ کچھ دوسرے اس قابل نہیں ہیں۔ آج کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے۔ جب ہیرو بنے تو فلم ختم ہوگئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *