صدر کا خطاب، فضل الٰہی سے ممنون حسین تک

رؤف طاہرrauf

پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرِ مملکت کا خطاب، ان کا صوابدیدی اختیار نہیں بلکہ لازمی آئینی تقاضا ہے۔ جمعرات کی دوپہر صدر ممنون حسین کا خطاب اسی آئینی تقاضے کی تکمیل کے لئے تھا۔ حقیقی پارلیمانی نظام میں صدر کا یہ خطاب ان معنوں میں ایک ’’بے بُو، بے رنگ اور بے ذائقہ‘‘ ایکسرسائز ہوتی ہے کہ ایوانِ صدر کو حکومت کی لکھی ہوئی تقریر پہنچا دی جاتی ہے، جس میں گزشتہ ایک سال کی حکومتی کارکردگی ، آئندہ کے عزائم اور اہم پالیسی معاملات کا بیان ہوتا ہے اور صدر یہی تقریر پارلیمنٹ میں پڑھ کر سنادیتے ہیں۔
پاکستان میں ایوانِ صدر اور پرائم منسٹر ہاؤس (حکومت) میں معاملات مختلف اور منفرد انداز کے حامل رہے ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد، ’’نئے پاکستان‘‘ سے آغاز کریں تو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خاں کے سویلین جانشین کے طور پر اپنے اقتدار کا آغاز کرنے والے جناب ذوالفقار علی بھٹو 14اگست 1973تک ’’آل پاور فل‘‘ صدر رہے۔ آئین کے نفاذ کے بعد گجرات کے چوہدری فضل الٰہی صدر بنے لیکن گرین بُک کے مطابق پروٹوکول کے لحاظ سے مملکت کا یہ سب سے بڑا منصب کسی اختیار سے محروم تھا۔ نواب زادہ صاحب کہا کرتے تھے، 1962کے آئین میں فیلڈ مارشل ایوب خاں اختیارات کے لحاظ سے ’’لائل پور کا گھنٹہ گھر‘‘ تھے تو 1973کے آئین میں یہ حیثیت وزیراعظم کو حاصل ہوگئی ہے، کہ اب ہمہ نوع اختیارات اس کی ذات میں مرتکز ہوگئے ہیں اور صدر کی حیثیت محض ایک ربڑ اسٹیمپ کی ہے۔ آئینی طور پر بے اختیاری کے ساتھ ساتھ چوہدری صاحب کے مزاج میں انکساری بھی انتہا کی تھی۔ تب کیا کیا لطائف مشہور ہوئے، مثلاً ایوانِ صدر کی فصیل پر نعرہ، ’’صدر فضل الٰہی کو رہا کرو‘‘
5جولائی 1977 کو بھٹو صاحب رُخصت ہوئے لیکن جنرل ضیاء الحق نے چوہدری فضل الٰہی کو صدر کے منصب پر برقرار رکھا۔ ایوانِ صدر میں پانچ سال کی آئینی مدت مکمل ہونے پر چوہدری صاحب نے رخصتی کی اجازت چاہی، جنرل ضیاء الحق کی خواہش تھی کہ چوہدری صاحب Continue کریں لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ تب بھٹو صاحب کے خلاف قتل کا مقدمہ آخری مرحلے میں تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کی توثیق پر، رحم کی اپیل کے لئے معاملہ ایوانِ صدر میں آنا تھا اور چوہدری صاحب اس حوالے سے کسی آزمائش میں نہیں پڑنا چاہتے تھے۔ اب جنرل ضیاء الحق کی کیپ میں صدرِ مملکت کا ’’پر‘ ‘ بھی لگ گیا تھا۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد جنرل ضیاء الحق نے جناب محمد خاں جونیجو کو وزیراعظم نامزد کیا، تو 8ویں ترمیم کے تحت بعض اختیارات (جن میں 58/2B کے تحت حکومت اور اسمبلی توڑنے اور چاروں سروس چیفس کے علاوہ گورنروں کے تقرر کا اختیار بھی شامل تھا) کے سوا، تمام اختیارات جونیجو صاحب کو سونپ دیئے۔ انہوں نے مسلم لیگ کی صدارت بھی پیر پگارا سے جونیجو صاحب کو دلوا دی تھی۔ دسمبر 85میں مارشل لاء ختم ہوا اور جونیجو صاحب واقعی چیف ایگزیکٹو کے طور پر Behave کرنے لگے۔ وفاقی کابینہ آزادانہ فیصلے کرنے لگی۔ وزیراعظم کی خودمختاری اور خوداعتمادی نے معاملہ ایک نیام میں دو تلواروں جیسا کردیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق پارلیمنٹ سے خطاب کے لئے آتے تو حکومت کی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کر، اپنی تقریر کرتے۔ اس میں ایک سخت گیر ہیڈ ماسٹر کی طرح، کلاس کے بچوں کو مناسب سی ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوتی۔ پارلیمنٹ سے اپنے آخری خطاب (اپریل 1988) میں بھی انہوں نے اس یاددہانی کا اعادہ ضروری سمجھا کہ انہیں(انگلستان کی) کوئین ایلزبتھ یا (ہندوستان کا ) صدر گیانی ذیل سنگھ نہ سمجھا جائے۔ پارلیمانی نظام کا بے اختیار صدر۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پارلیمنٹ کے دو اجلاسوں سے صدر غلام اسحاق خاں کا خطاب پُرامن ماحول میں سنا گیا۔ صرف بیس ماہ بعد غلام اسحاق خاں نے محترمہ کو رُخصت کردیا۔ نوازشریف کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ’’بابائے اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے رفقاء کی طرف سے ’’گو بابا گو‘‘ اور ’’نوبابا نو‘‘ کے نعروں کا سامنا ہوتا۔ 1993میں 58/2B کے تحت غلام اسحاق کا دوسرا شکار نوازشریف تھے۔اواخر 1993میں محترمہ دوسری بار وزیراعظم بنیں تو انہوں نے اپنا وفادار صدر لانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے ان کا انتخاب فاروق لغاری تھے لیکن پارٹی لیڈر کا ’’مُرغِ دستِ آموز‘‘ مملکت کے سب سے بڑے گھر کا مکین ہوجانے کے بعد، فضلِ الٰہی چوہدری نہیں رہتا تھا کہ اب اِسے 8ویں ترمیم کے بے پناہ اختیارات حاصل ہوتے تھے۔ بوڑھا بیوروکریٹ روئیدادخاں راوی ہے کہ جناب لغاری نے 1993 میں صدر منتخب ہونے کے بعد ریڈیو ، ٹی وی پر قوم سے خطاب کی خواہش کا اظہار کیا تو محترمہ نے اسے رد کرتے ہوئے سختی سے کہا کہ وہ ایوانِ صدر کے کردار کو محدود تر رکھنا چاہتی ہیں ۔ ایک اور واقفِ حال کے بقول وزیراعظم نے اپنے وزرأ، پارٹی لیڈرز اور بیوروکریٹس سے سختی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ ایوانِ صدر سے زیادہ ربط و ضبط نہ رکھیں۔ اب نوازشریف اپوزیشن لیڈر تھے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر کو ’’گولغاری گو‘‘ اور ’’نو لغاری نو‘‘ کا سامنا ہوتا۔پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں تو ماحول سخت جارحانہ تھا جب صدر کے خطاب سے ایک روز قبل، جناب نوازشریف کے والد ِ محترم میاں محمد شریف صاحب کو لاہور میں ان کے دفتر سے نہایت توہین آمیز انداز میں گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے نے انہیں اسلام آباد لا کر ایک سیف ہاؤس میں بند کردیا تھا۔ اگلے روز پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب کے دوران میاں صاحب تو صبر وضبط کی تصویر بنے، خاموش بیٹھے رہے لیکن اِن کے وفاداروں نے احتجاج کا حق ادا کردیا تھا۔ احسن اقبال ایک بینر لئے، فوجی سربراہوں کی گیلری کے سامنے جا کھڑے ہوئے، لکھا تھا’’سپریم کمانڈر، سپریم جیالا‘‘۔ تہمینہ دولتانہ نے صدر کی طرف اپنی چادر اُچھال دی تھی۔میاں صاحب کے دوسرے دور میں محترمہ کی زیرقیادت اپوزیشن اگرچہ ڈیڑھ درجن پر مشتمل تھی لیکن صدر لغاری کو زِچ کرنے کے لئے کافی تھی۔2002کی پارلیمنٹ میں، مشرف صرف ایک بار آیا۔ ’’میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں‘‘ کے دعوے کرنے والے کمانڈو صدر کے لئے یہ تجربہ بہت تلخ رہا۔ اپوزیشن کے ہنگامے میں اس نے اپنی تقریر اس حالت میں مکمل کی کہ پیشانی پر پسینے کے قطرے بہہ رہے تھے اورخِفّت مٹانے کے لئے اپوزیشن کی طرف دونوں مُکّے لہراتے ہوئے رُخصت ہوگیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈکٹیٹر کی یہ پہلی اور آخری آمد تھی۔ اس کے بعد نیا پارلیمانی سال اس آئینی تقاضے کی تکمیل کے بغیر ہی شروع ہوجاتا۔ میانوالی والے ڈاکٹر شیرافگن نیازی(مرحوم) پیپلز پارٹی سے بے وفائی کے عوض وزیر پارلیمانی امور بن گئے تھے۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کا آئین کا مطالعہ کسی ماہرِ قانون سے کم نہ تھا۔ ان سے صدر کے خطاب کے آئینی تقاضے پر بات ہوتی تو اِن کا جواب ہوتا، صدر اس ’’غیر مہذب‘‘ پارلیمنٹ سے خطاب کے لئے کیوں آئیں؟
ڈکٹیٹر کے جانشین ، جمہوری صدر آصف زرداری کو اپنی پانچوں تقاریر کے دوران پُرامن اور مہذب ماحول دستیاب رہا۔ اب یہی معاملہ صدر ممنون حسین کا ہے۔صدر کا جمعرات کا خطاب بھی ٹھنڈے ٹھار ماحول میں ہوا۔ عمران خان، شیخ رشید اور گجرات والے چھوٹے چوہدری صاحب تشریف نہیں لائے تھے البتہ دونوں ایوانوں میں کپتان کے رفقاء سنجیدگی اور متانت کی تصویر بنے رہے۔ صدر نے حکومت کی لکھی ہوئی تقریر پڑھی لیکن ظاہر ہے، پارلیمانی نظام میں یہی ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *