اوراق خزانی اور تین نسلوں پر پھیلا خواب

وجاہت مسعود wajahat masood

ہر روز ایک تازہ نوحے کی صورت پیدا ہوتی ہے، ایک فریاد کا سامان مہیا کیا جاتا ہے ۔ انگلیاں فگار ہوئیں، خامہ خونچکاں ہو گیا، ستم گرو ں کی پلک نہ بھیگی۔۔۔ مگر کبھی تو ایسا بھی کہنا چاہیے، ایسا بھی لکھنا چاہیے کہ زندگی پر اعتبار قائم ہو۔ مسلسل شکست دل کا تذکرہ رہے گا تو خدشہ ہے کہ دلوں پر بے حسی غالب آ جائے گی۔ قلم کا منصب حقیقت بیان کرنا ہے مگر اس روزگار کی بنیاد میں تو انسان کے امکان پر ایقان کار فرما ہے۔ اجتماعی جد و جہد امید سے عبارت ہے۔ معاشرے میں جاری رستاخیز کا حتمی مطلب یہی ہے کہ ان گنت صدیوں سے چلی آ رہی چراغوں کی قطار کے آخری سرے پر آج کے چراغ رکھ دئیے جائیں ۔ یہ سمجھنا حقیقت پسندی نہیں کہ ایک روز صبح کی نشریات میں اعلان ہو گا کہ آج سے دنیا میں سب اچھا ہے۔ اب حرف انکار کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اگر انسان کا امکان واقع میں محض ایک نقش قدم ہے تو پھر یہ ماننا ہو گا کہ آزادی ، علم اور انصاف کے آفاق بھی غیر طے شدہ ہیں۔ انسانی مساعی کے زاویے ان گنت ہیں اور ہر عہد میں زمین پر بسنے والوں کے معاملات کو مزید بہتر بنانے کی گنجائش ہمیشہ موجود رہے گی۔ آئیے تین اچھے لوگوں کی بات کریں۔ دو نے ابھی ملک عدم کی راہ لی ہے اور تیسرا۔۔۔ عدم سے بھی پرے جا پہنچا ہے۔ اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے۔۔۔
مئی کی گیارہ تاریخ تھی اور سوموار کی صبح۔ ناشتے کی میز پر پر بیٹھے تھے۔ دروازے پر دستک ہوئی ، معلوم ہوا، کورئیر سروس کا ہرکارہ ایک لفافہ دے گیا ہے۔ کسی قدر بے توجہی سے اُلٹ پلٹ کر دیکھا، پھر کھولا۔ کوئی بیس صفحے کا کتابچہ تھا، ’پاکستان میں منصفانہ معاشرے کی تعمیر‘۔ مصنف کا نام دیکھ کر آنکھوں میں ایسی تراوت آئی جو ایک شفیق استاد کے احسان کی یاد سے جنم لیتی ہے۔ تنویر جہاں سے کہا ’دیکھئے، محمود مرزا کیسی استقامت سے ایک ہی خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ وہی تقطیع، طباعت کا وہی ڈھب اور متن کے بارے میں بتائے دے رہا ہوں کہ زبان کی سادگی میں دردمندی کا رچاؤ ہو گا۔ شام میں آ کر پڑھوں گا‘۔ شام میں اوپر تلے کچھ ایسے معاملات نکل آئے کہ کتابچہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا رہ گیا۔ اگلی صبح اسلام آباد سے محمد یاسر عرفات کا فون آیا ’محمود مرزا انتقال کر گئے ہیں‘۔ محمود مرزا کا خواب میری میز پر رکھا ہے۔ یہ خواب رفتگاں کا ورثہ ہے اور آنے والوں کی امانت۔ تین دہائیاں پہلے ڈاکٹر مبشر حسن کے ٹمپل روڈ والے گھر میں تنویر جہاں اور یہ خاکسار دیوار گلستاں پر لام الف لکھتے تھے۔ موٹر تھا ذوالفقار علی خاں کا کیا خموش، ضیاالحق کا طوطی بولتا تھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی رہنمائی میں کچھ سنجیدہ اصحاب دانش نے ’ہم عصر مطالعات‘ ، ’انڈیپنڈنٹ پلاننگ کمیشن‘ اور ’دوست مطبوعات‘ جیسے ناموں سے چھوٹے چھوٹے اداروں کا اک جھرمٹ قائم کر رکھا تھا۔ محمود مرزا کو پہلی بار یہیں دیکھا تھا، کھلتی ہوئی رنگت ، بوٹا سا قد،سفید بال، لباس میں سادگی، لہجے میں متانت۔د ل کی آگ کے چہارسو ٹھنڈے خس کی اوٹ باندھی رکھی تھی۔ محمود مرزا کو جاننا گویا تہذیب سے ملاقات کا استعارہ تھا۔ محمود مرزا جیسی مرتب شخصیت سے تعارف نوجوانوں کی حقیقی تمدنی تربیت کرتا ہے۔ یہ لوگ تحقیق میں سچے، اعلان میں کھرے اور ایقان میں استقامت کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اقتدار اور مناصب کی چندھیا دینے والی روشنی میں گھرا مسیحا صفت رہنما تو معلوم اور نامعلوم کے تال میل سے جادو کرتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں اجتماعی ذمہ داری کی تعلیم سید امجد حسین اور اصغری منظور قادر جیسے وضع دار کیا کرتے ہیں۔ محمود مرزا اسی قافلے میں شریک تھے۔ قانون اور اقتصادیات میں تعلیم پائی تھی۔ معاشی انصاف کے علم بردار تھے۔ انہیں بائیں بازو کی شناخت سے متہم کیا جاتا تھا۔ کیا مضائقہ ہے۔ بازو بایاں ہو یا مشرقی، کٹ جائے تو تصویر آدھی رہ جاتی ہے۔
قصباتی بچوں کو گھرانے سے باہر حوصلہ افزائی کی کرن نظر آتی ہے تو لپک جھپک بے اختیار آگے بڑھتے ہیں۔ سولہ ، سترہ برس کا ایک کندۂ ناتراش لڑکا شاعری کرنا چاہتا تھا۔ شاعری کرنا اور زندگی کرنا بہت مشکل کام ہیں۔ عام طور سے شاعری لکھی جاتی ہے اور زندگی گزار دی جاتی ہے ۔ بے ربط اور بے مایہ نظموں سے ایک دفتر بے معنی تیار ہو گیا۔ ملتان میں شاکر حسین شاکر کو اس سانحے کی اطلاع دی گئی۔ سدا سے دوست نواز شاکر نے بتایا کہ نیشنل سنٹر ملتان کے ڈائریکٹر اعزاز احمد آذر تازہ واردان بساط ادب کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اشارہ اچھا تھا۔ والدہ کو پہلے سے قائل کر رکھا تھا کہ آپ کا صاحب زادہ کوئی دن میں شاعر ہو ا چاہتا ہے۔ وہ کئی روز تک اس خرافات کو جہازی حجم کی بیاض میں خوش خط لکھتی رہیں۔ جب مائیں بچوں کے لاڈ کرنا بند کر دیں گی ، دنیا میں راہبانیت کا دور دورہ ہو جائے گا اور انسانیت مر جائے گی۔ پلندہ ارسال کر دیا گیا۔ چند ہفتے بعد اعزاز احمد آذر کا تحریر کردہ پیش لفظ مل گیا۔ اعزاز صاحب نے شوق کو مہمیز کرنے والے کچھ دل پذیر جملے لکھے تھے، نہایت سلیقے سے مطالعے کی ضرورت کا اشارہ کیا تھا۔ اور یہ امید بھی کہ لکھنے والا ادب سے تعلق برقرار رکھے گا۔ شاعری کا وہ مجموعہ تو کیا شائع ہوتا مگر سچ پوچھئے تو اعزاز احمد آذر کی وہ سطریں اب تک روشنی دکھا رہی ہیں۔ اعزاز احمد آذر 16مئی کو رخصت ہو گئے۔ دھوپ بھی گئی اور سایہ خیال بھی سر سے اٹھ گیا۔ اعزاز صاحب کی موجودگی میں چھاؤں کا احساس رہتا تھا، لوگ ناحق سڑکوں اور نہروں پر دو رویہ درختوں کے کٹنے کی شکایت کرتے ہیں۔ اعزاز احمد آذر پیپلز پارٹی کے ساتھ منظر پر طلوع ہوئے تھے، عمر بھر جمہوریت اور انسان دوستی کے داعی رہے۔ آمریت کے برسوں میں ان کا یہ شعر مزاحمت کے حلقے میں گونجتا تھا
اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ فصل بوئی تھی چاندنی کی
اب اس میں اْگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی میں ملال رکھنا
اعزاز صاحب نے نیشنل سنٹر کی مدد سے بہت سے شہروں میں ادب کی روشنی پھیلائی۔ وہ ہماری تاریخ کے بہت مشکل دن تھے۔ ان کے عہد شباب میں جینا، جینے والو، تمہیں ہوا کیا ہے۔۔۔ انہوں نے طویل اور اندھیری رات میں جینے کا ہنر اپنے ہی ایک شعر میں بیان کر دیا تھا ۔
شہر میں تقسیم دستاروں کی تھی کل ہر طرف
یہ کیا میں نے کہ اپنا سر بچا کے لے گیا
احمد مشتاق گزشتہ چھ دہائیوں سے غزل کہہ رہے ہیں۔ ناصر کاظمی کا ہم صفیر ہونا اور اپنی الگ آواز قائم رکھنا، اسداللہ خاں قیامت تھا مگر احمد مشتاق نے بہت سلیقے اور ہنر سے یہ کار آسماں کیا۔ کم لکھا مگر جو احمد مشتاق نے لکھا ، کوئی کیا لکھے گا۔ تین عشرے قبل امریکا چلے گئے تھے۔ اسے اردو شعر کا معجزہ کہا جائے گا کہ مٹی سے دور بسیرا کرنے کے باوجود احمد مشتاق کا نام ناصر کاظمی اور منیر نیازی کا ہم قدم چلا آ رہا ہے۔ اچھی شاعری پڑھنے والوں کو نوید ہو کہ احمد مشتاق کا تیسرا مجموعہ ’اوراق خزانی‘ کے نام سے بھارت میں شائع ہوا ہے۔ انتظار صاحب نے ’اوراق خزانی‘ پڑھنے کے بعد ایک عزیز سے کہا کہ اس میں انتخاب کیسے کیا جائے، یہ تو پوری کتاب ہی انتخاب ہے۔ تسلیم مگر پڑھنے والوں کو اس طلسم کی ایک جھلک تو بہر صورت دکھانا ہو گی ۔ دیکھئے، وہ شخص جس کے بارے میں کبھی طے نہ ہو پایا کہ ’رو کر آیا ہے یا بال بنا کر آیا‘ ، آج بھی کیسے موتی رول رہا ہے ، اپنے مزاج کی طرح، غبار میر سے دور بیٹھا، بہت دھیمے لہجے میں، لمس اور خیال کے درمیان ابھرتے جذبوں کو دستاویز کرتا ، پایاب ندی کی طرح سے دھیرج چال میں گاہے دلوں کے قتلے کرتا اور گاہے زخم پہ اپنی مرہم انگلیاں رکھتا۔ توجہ فرمائیے، ان آدھی درجن اشعار میں کہیں محمود مرزا کے خواب اور اعزاز احمد آذر کے ملال کی جھلک آئی؟ ارے صاحب کیوں نہ ہو، تین نسلوں کا خواب ہے اور اوراق خزانی کی زد میں ہے ۔
دل نہ میلا کرو سوکھا نہیں سارا جنگل
ابھی اِک جھنڈ سے پانی کی صدا آتی ہے
۔۔۔
ارے کیوں ڈر رہے ہو جنگل سے
یہ کوئی آدمی کی بستی ہے
۔۔۔
جانے کیوں چاند ٹھہر جاتا ہے چلتے چلتے
اور اس گھر پہ جو اِک عمر سے آباد نہیں
۔۔۔
اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیا
خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے
۔۔۔
یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہے جناب من
کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے
۔۔۔
بجھ گئی رونق بدن، اڑ گیا رنگ پیرہن
جان امید وار من، وقت بہت گزر گیا
۔۔۔
لالہ و گل بھی اک تسلی ہے
کون آتا ہے جا کے اتنی دور

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *