سکندر لاکھوں ، پورس ایک بھی نہیں؟

جمیل خان 

47625_717330231619526_75980958_nکنکر پتھر جوڑ کے مسجد لئی بنائی

تا چڑھ کے ملّا بانگ دے، بہرہ ہوا خدائی

یہ بھگت کبیر کا دوہا ہے، جن کے بارے میں بعض مؤرخوں کا خیال تھا کہ وہ مسلمان والدین کی اولاد تھے، اور ان کی پرورش ہندو گھرانے میں ہوئی تھی۔ جبکہ کچھ محققین یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ وہ ہندو والدین کی اولاد تھے اور پرورش مسلمانوں میں پائی تھی۔
انہوں نے انسانی رواداری اور بنیادپرستی سے آزاد فطرت پر مبنی فکر کا پرچار کیا۔ اپنے دوہوں میں انہوں نے ایسے نکتے پیش کیے کہ انسانی عقل تفکر پر مجبور ہوجائے۔ مثلاً?
رنگی کو نارنگی کہیں، تنت مال کو کھویا
چلتی کو کہیں گاڑی ، دیکھ کبیرا رویا
یعنی جو چیز رنگین ہے، اس کو کہیں گے کہ اس میں تو رنگ ہی نہیں ہے، اور دودھ سے پانی الگ کرکے اس کا اصل مال حاصل کرلیا جائے تو اس کو کہتے ہیں کہ کھودیا ہے، مزید یہ کہ چلتی چیز کو کہیں گے کہ گاڑدی ہے۔
اسی طرح انہوں نے ہندو مذہب کی چھوت چھات اور ذات پات کے رویوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی تعلیمات کو اس علاقے میں پذیرائی نہیں ملی، جہاں انہوں نے جنم لیا تھا۔ بلکہ ان کی فکر کو فروغ ان کے علاقے سے سینکڑوں میل دور پنجاب کی سرزمین پر ملا۔ عجیب بات یہ ہے کہ بنارس میں پیدا ہونے والے بھگت کبیر کی تعلیمات کو زیادہ مقبولیت پنجاب میں حا صل ہوئی۔شاید شمالی ہندوستان مذہبی بنیاد پرستی کا منبع تھا اور آج بھی ہے۔ قدیم زمانے سے پانچ بلکہ سات دریاؤں کی یہ سرزمین مختلف ثقافتوں کے ملاپ کا مرکز رہی تھی۔ جبکہ اترپردیش کے بالائی اور متوسط طبقہ ہی نہیں بلکہ نچلے طبقہ بھی مجموعی طور پر بھگت کبیر کی تعلیمات سے کافی حد تک بے نیاز ہی رہا۔ لیکن جب یہ بھگتی تحریک پنجاب پہنچی تو یہاں اس نے ایک توانا صورت عوامی تحریک کی سی حیثیت اختیار کرلی۔
تقسیم ہندوستان پر جب شمالی ہندوستان کے مسلمان نقل مکانی کرکے پاکستان میں آباد ہوئے تو وہ اپنے ساتھ خواتین کے پردے سمیت مذہب پرستی کی بہت سی روایات بھی ساتھ لیتے آئے۔ گوکہ اس خطے کے بعض اشرافیہ اپنی خواتین کو پردے میں رکھنا پسند کرتے تھے، لیکن زرعی معاشرہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں میں اس کا تصور بھی نہیں تھا۔ یہاں اس روایات کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد پڑی۔
مزید یہ کہ نقل مکانی کرنے والے محمد بن قاسم،ٹیپوسلطان، احمدشاہ ابدالی، مجدد الف ثانی، اورنگزیب عالمگیر اور احمد شاہ ابدالی کے بت بھی اپنے ہمراہ لیتے آئے۔ اور ان کی پرستش کو یہاں بھی عام کرنے کی کوشش کی، تاہم پنجاب ہی نہیں باقی صوبوں کے عام افراد اس روش سے بے نیاز اپنی ثقافتی روایات سے وابستہ رہے۔
تاہم آج جب پنجاب کی دھرتی کو میں بنیاد پرستی، انتہاء4 پسندی، شدت پسندی، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری اور دہشت گردی سے خون آلود دیکھتا ہوں تو دل کو نہایت صدمہ پہنچتا ہے، اس لیے کہ یہ دھرتی ہمیشہ سے ثقافتی تنوع سے مالا مال رہی۔
یہ وہی دھرتی ہے، جہاں داراشکوہ نے میاں میر کی بیعت کی۔ میاں میر نے جہاں سکھوں کے گرودوارے کا سنگِ بنیاد رکھا۔ جہاں داتا صاحب? نے بنیاد پرستی کو للکارتے ہوئے موسیقی پسند نہ کرنے والے کو چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا۔ جہاں بلھے شاہ? کے کلام نے مولوی کو حجروں میں دبکنے پر مجبور کر دیا۔
آج یہی پنجاب ہے، جہاں دہشت گرد تنظیموں کے مضبوط گڑھ موجود ہیں۔ جہاں دانشوروں، استادوں اور اعلیٰ دماغ و روشن خیال لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے جبکہ قاتلوں کے منہ چومنے اور ان کیگلے میں پھولوں کے ہار پہنانے والے جاں نثاروں کی قطار ختم ہونے میں نہیں آتی۔
پنجاب کی موجودہ سماجی صورتحال کو دیکھ کر کون یقین کرے گا کہ بابا بلھے شاہ? نے اسی دھرتی پر جنم لیا تھا۔ آج کسی پنجابی کے سامنے بابا بلھے شاہ ? کا یہ کلام سنادیا جائے تو وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجائے گا، کہ ?
راتیں جاگیں کریں عبادت
راتیں جاگیں کتےتیتوں اْتّے
پنجاب کا المیہ یہی نہیں ہے کہ مذہبی انتہاپسندی نے اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، بلکہ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پنجابی قوم پرست بھی اس دھرتی کے سپوتوں کا نام لینے کے بجائے وسط ایشیا کے حملہ آوروں کے گن گاتے ہیں یا پھر عرب پرستی میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے کتنے ہیں جو سندھی قوم پرستوں کی طرح محمد بن قاسم کو حملہ آور قرار دیتے ہیں یا ان کی طرح اپنی دھرتی کے سپوت رنجیت سنگھ کا احترام کرتے ہیں، جس طرح سندھ میں راجہ داہر کا احترام کیا جاتا ہے۔
اسی پنجاب کی مٹی سے بھگت سنگھ نے جنم لیا، لیکن آج پنجاب میں نوجوان نسل کی بھگت سنگھ سے واقفیت ہندی فلموں کی مرہونِ منت ہے اور ان کی اکثریت اسے بھارتی مجاہدِ آزادی ہی خیال کرتی ہے۔ بہت بڑی تعداد کو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ بھگت سنگھ لائل پور یعنی فیصل آباد کے موضع بنگہ میں پیدا ہوا تھا۔
پنجاب کا تو یہ حال ہے کہ ایک حملہ آور سکندر یونانی کی یادگاروں کو برقرار رکھنے کے لیے سنا ہے کہ یونان سے امداد لی جاتی ہے، جبکہ پنجاب کی دھرتی کے بہادر بیٹے پورس کا کہیں تذکرہ بھی سننے میں نہیں آتا۔ پنجاب میں آپ کو آج لاکھوں سکندر مل جائیں گے، لیکن ایک پورس ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *