ترکی اور سری لنکا میں جمہوری احتساب

Irfan Hussainعرفان حسین

 

وہ لوگ جو جمہوریت کو بے عملی کے طعنے دیتے ہیں، کو ترکی کی طرف دیکھنا چاہیے کہ وہاں جس طرح عوام نے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے کل انتہائی پرکشش اورطاقت ورسیاست دان اور جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال کو گھر کی راہ دکھائی تھی ، اسی طرح آج طیب اردوان، جو 2002ء سے اقتدار میںتھے ، کے طاقت ور صدربننے کے خواب کو بھی عوام نے ووٹ کی طاقت سے ہی چکنا چُور کیا ہے۔ ترکی سے ہزاروں میل دور، سری لنکا میں ایک اور طاقت ور حکمران، مہندا راجا پاکسی، کی مطلق العنانی کو بھی ووٹروںنے ہی زمین بوس کیا تھا۔ انتخابات میں شکست سے پہلے مہنداراجاپاکسی نے اپنی صدارت کے دور میں حکومت کو اپنی مٹھی میں اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ سری لنکن حکومت ایک خاندان کی حد تک سمٹ چکی تھی۔ تاہم اُنھوں نے یہ امید کرتے ہوئے قبل ازوقت انتخابات کااعلان کردیاکہ وہ اپوزیشن کو اچانک جالیں گے، اس وقت اپوزیشن انتخابات کے لیے تیار نہیں ہوگی، چنانچہ وہ ایک مرتبہ پھر فاتحانہ طریقے سے ایوان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم ہوا یوں کہ اچانک اپوزیشن پارٹیوںکا اتحادایک دیوار بن کر اُن کے راستے کھڑا دکھائی دیا۔ اُس نے ایک خاندان کو حکومت سازی اور اپنی من مانی کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
ایک مرتبہ سرونسٹن چرچل نے کہا تھا۔۔۔''جمہوریت ، سوائے اُن کے جنہیں ابھی تک آزمایا نہیں گیا ہوتا، بدترین نظام ہی تشکیل دیتا ہے‘‘۔ بے شک ترکی میں فوجی حکمرانی کوئی نئی بات نہیں۔ اس ملک نے بارہا براہِ راست یا پس ِپردہ فوجی جنرلوں کو حکومت چلاتے دیکھا ہے۔ اس کا کریڈٹ بہرحال طیب اردوان کو جاتا ہے کہ اُنھوں نے جنرلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے واپس بیرکوں میں بھیج دیا۔ مسٹر اردوان کی جماعت، اے کے پارٹی(AK Party)کے دور میں ترکی کی معیشت نے بھی خاطرخواہ ترقی کی، تاہم حال میںیہ انحطاط پذیر ہونا شروع ہوگئی اور اس سے اردوان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ حالیہ انتخابات میں اے کے پارٹی کے حاصل کردہ ووٹ پچاس فیصدسے کم ہوکر اکتالیس فیصد رہ گئے تھے۔ کولیشن حکومت کے قیام کے امکانات سے سٹاک مارکیٹ آٹھ فیصد تک گرچکی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدربھی تیزی سے کم ہوتی دکھائی دی۔
سری لنکا میں بھی یہی صورت ِحال دکھائی دی جہاں روپے کی قدر کئی برسوںکی نچلی ترین سطح پر ہے۔ کولیشن حکومت نے کئی ایک ترقیاتی منصوبے ختم کردیے جبکہ آنے والے عام انتخابات کی وجہ سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام دکھائی دیتا ہے۔ یکے بعد دیگرے نکالے گئے کئی ایک جلوسوں میں راجا پاکسی کے حامیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے رہنما وزیر ِ اعظم کے عہدے کے لیے میدان میں آئیں۔ایسا لگتا ہے کہ راجاپاکسی اپنے حامیوں کے اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بن کر سامنے آئیں گے۔گزشتہ جنوری کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں راجاپاکسی کو غیرمتوقع طور پر شکست سے دوچار ہوتا دیکھ کر میرے سری لنکن دوست بہت خوش ہوئے تھے ، لیکن وہ بھول گئے کہ شکست خوردہ سابق صدر بہرکیف 47 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ آج بھی دیہی علاقوں میں موجود سنہالی آبادی کے مقبول ترین رہنما ہیں۔
ترکی میں اے کے پارٹی ڈالے گئے ووٹوں کا41 فیصد لینے میں کامیاب رہی، اور اس طرح یہ 258 نشستوںکے ساتھ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ تاہم حکومت سازی کے لیے اسے اٹھارہ ووٹ مزید درکار ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسی اور جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ اس کی قریب ترین نظریاتی جماعت نیشنل ایکشن پارٹی ہے۔ یہ جماعت پی کے کے، جو علیحدگی پسند کردوں کی جماعت ہے اور انقرہ کے خلاف کئی عشروںسے جاری جدوجہد کو لیڈ کررہی ہے ، کے ساتھ اے کے پارٹی کے مذاکرات کی سختی سے مخالفت کررہی ہے۔ ترکی میں ہونے والے انتخابات کا سب سے حیران کن پہلوپیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کا ابھرکر سامنے آناہے۔ یہ بھی کردپارٹی ہے جس نے بائیں بازو کے سیکولر سوچ رکھنے والے ترکوں کو متاثر کیا ہے۔ انتخابات میںیہ جماعت 13 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب رہی۔ ترکی کے انتخابی قوانین کے مطابق ایک جماعت کو پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے کم از کم دس فیصد ووٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ ایسا نہ کرسکے تو اس کی نشستیں سب سے بڑی جماعت کو مل جاتی ہیں۔اس سے پہلے بہت سے کرد شہری اے کے پارٹی کی حمایت کرتے تھے ، چنانچہ اسے حکومت سازی کے لیے کسی کولیشن پارٹنر کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ چونکہ اب اسے کسی کولیشن پارٹنر کی ضرورت ہے تو ہم ترکی میں افہام و تفہیم کو فروغ پاتے دیکھیں گے۔
تاہم اس وقت بہت سے کردشہری حکومت سے ناراض ہیں کیونکہ اس نے عراق اور شام میں ان کے کرد رشتہ داروں کی مدد کرنے سے انکار کردیا۔ درحقیقت ترک حکومت کے بارے میں تاثر ہے کہ شام میں لڑنے والے انتہا پسند گروہوں، بشمول داعش، کی حمایت کررہی ہے۔ ہمسایہ ممالک میں ہونے والی خانہ جنگی میں غیر ضروری مداخلت کے نتیجے میں ترکی میں پناہ گزینوں کی بھاری تعداد بھی آباد ہوچکی ہے۔ اس سے خارجہ امور اور معیشت کے حوالے سے طیب اردوان کی شہرت کو یقینی طور پر نقصان پہنچا لیکن سب سے بڑھ کراُنہیں ایک غیر لچک دار رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگاتھا۔ دو سال پہلے استنبول کے غازی پارک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اردوان انتظامیہ نے بہت سختی سے کام لیا۔ ان کے سیاسی مخالف ان پر سی آئی اے، موساد اور کردعلیحدگی پسندوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کئی برسوں سے بننے والے عظیم الشان منصوبے دراصل اردوان کی انا کا اظہار تھے۔ حتی کہ وہ یروشلم کو آزاد کرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے دور ِ جدید کے ''صلاح الدین‘‘ کہلانے کے لیے تیار تھے۔ ان کے انقرہ میں بننے والے نئے صدارتی محل کے ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور اس پر تقریباً650 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس نئی عظیم الشان عمارت کی تعمیر کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پرانی عمارت میں کاکروچ بہت تھے۔
ترکی اور سری لنکا میں پیش آنے والے حالیہ سیاسی واقعات میں ایک اور مشابہت یہ ہے کہ دونوں ممالک میں دبی ہوئی اقلیتوں، کرد اور تامل، کے لیے کچھ امکانات پیدا ہوتے دکھائی دیئے۔ ترکی میں پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کا ابھر کر سامنے آنا خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ اس سے کردوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اسی طرح سری لنکا میں متھرائی پالا سری سینا اپنے پیش رو مہنداراجاپاکسی کی نسبت تامل آبادی کے مطالبات پر کان دھرنے کے لیے زیادہ تیار ہیں۔ سری سینا نے تامل اکثریت والے علاقوں میں فوجی کیمپوں کی تعداد بھی کم کرتے ہوئے خوف اور جبر کی جگہ ہم آہنگی اور برداشت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ترکی میں نئی پارلیمنٹ کی حلف برداری کے پینتالیس دن کے اندراندر کولیشن (اگر حکومت سازی کے لیے ضروری ہو) کا بننا لازمی ہوتا ہے۔ اس طرح اے کے پارٹی کو جلد ہی کسی سے اتحاد بناناہوگا۔ اس طرح ترکی اور سری لنکا آنے والے دنوں میں دلچسپ سیاسی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ عوام دوست فیصلے کیے جائیں گے۔ دوسری طرف غیر جمہوری ملک جنگ و جدل کے ذریعے اپنے معاملات طے کرنے کے درپے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *