میگنا کارٹا " کس نے لکھا ؟"

magna karta 1سائنسدان ان مصنفین کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جنھوں نے آٹھ صدیاں قبل برطانیہ کی اساسی دستاویز ’میگنا کارٹا‘ کی پہلی چار نقول میں سے دو تحریر کی تھیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لنکن اور سالسبری کے گرجا گھروں میں موجود نقول وہاں کے پادریوں کی تحریر کردہ ہیں اور انھیں اس وقت کے بادشاہ کے کسی ملازم نے نہیں لکھا تھا۔یہ انکشاف اس تاریخی معاہدے کی آٹھ سوویں سالگرہ کے موقع پر سامنے آیا ہے جو اس وقت کے بادشاہ کے اختیارات میں کمی لانے کے لیے طے پایا تھا۔محققین کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر نکولس ونسنٹ کا کہنا ہے کہ مصنفین کی نشاندہی ایک ’قابلِ ذکر کامیابی‘ ہے۔انھوں نے کہا کہ ’آٹھ سو برس بعد تو یہ یقیناً بھوسے کے ایک بہت بڑے ڈھیر میں سے سوئیاں ڈھونڈ لینے جیسا ہے۔محققین کو پتہ چلا کہ میگنا کارٹا ایک ایسے شخص نے لکھا تھا جس نے بشپ آف لنکن کے لیے کئی دیگر دستاویزات بھی تحریر کی تھیں جبکہ سالسبری میں موجود نقل اس گرجا گھر کے سربراہ کے لیے کام کرنے والے کسی شخص کی تحریر کردہ تھی۔اس نئی دریافت سے میگنا کارٹا کی تخلیق اور ترویج میں چرچ کے کردار پر بھی مزید روشنی پڑ سکتی ہے۔پروفیسر ونسنٹ نے کہا کہ ’اس معاہدے کی اشاعت اور اسے محفوظ رکھنے کے معاملات میں چرچ آف انگلینڈ کے پادریوں کا کردار انتہائی اہم تھا۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ کنگ جان اس معاہدے کو شائع کرنے یا اس پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور یہ پادری ہی تھے جنھوں نے اس کی ملک میں کھلے عام تقسیم پر زور دیا اور اسے اپنے گرجا گھروں میں محفوظ رکھا۔میگنا کارٹا 15 جون 1215 کو اس وقت کے برطانوی بادشاہ جان اور باغی جاگیرداروں کے درمیان طے پایا تھا
’میگنا کارٹا‘ کا عظیم معاہدہ 15 جون 1215 ء کو اس وقت کے برطانوی بادشاہ جان اور باغی جاگیرداروں کے درمیان طے پایا تھا۔ابتدائی معاہدے میں چرچ کے حقوق کے تحفظ، باغی جاگیرداروں کو غیرقانونی قید سے تحفظ دینے، فوری اور تیز تر انصاف تک رسائی اور بادشاہ کو جاگیرداروں کی جانب سے دی جانے والی رقم کی حد مقرر کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔تاہم یہ ابتدائی معاہدہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکا تھا اور 1215 میں طے پانے کے باوجود اسے 82 برس بعد یعنی سنہ 1297 میں ایڈورڈ اوّل کے دور میں برطانوی قانون کا حصہ بنایا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *