اسلامی نظریاتی کونسل نے حقوق نسواں ایکٹ 2006مسترد کردیا

51a8ceb3d59b1اسلامی نظریاتی کونسل نے حقوق نسواں ایکٹ 2006 کو مسترد کرتے ہوئے اس کادوبارہ جائزہ لینے کی سفارش کردی ہے جبکہ کونسل کے ارکان نے کہاہے کہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ میں شامل کئی دفعات قرآن و سنت کے منافی ہیں،یہ متنازع قانون ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں مولانا محمد خان شیرانی کی زیر صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں تحفظ حقوق نسواں ایکٹ2006 کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کونسل ارکان نے کہاکہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ میں شامل کئی دفعات قرآن و سنت کے منافی ہیں اور یہ متنازع قانون ہے۔ کونسل نے کہا کہ عام معاملات میں جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج پر سزا کاقانون پہلے سے موجود ہے، اس کا اطلاق ناموس رسالت کے معاملے پر بھی کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ناموس رسالت قانون میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں، تاہم علما چاہتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے بزرگ اور ضعیف افراد کیلئے شیلٹر ہومز تعمیر کرنے کی بھی مخالفت کی ہے۔ کونسل کے مطابق اس طرح خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *