روح کے زخم

(سجاد میر)sajjad mir

سچ پوچھئے تو ان موضوعات پر لکھتے ہوئے میرے پیر جلتے ہیں۔ کیا کیا زور دار مضامین باندھے گئے ہیں، ان پر۔ میں نے بڑے بڑے کافروں کو مسلمان اور بڑے بڑے آفاقیت پسندوں کو پاکستانی ہوتے دیکھا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ یہ توجہ طلب موضوع نہیں ہیں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ میں اس پر لکھنے کی ہمت ایک تو اس لئے نہیں رکھتا کہ سینہ منہ کو آتا ہے، دوسرا میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں اسے سماجی سے زیادہ روح کا دکھ سمجھتا ہوں۔ ایک بچی سے جو زیادتی ہوئی، اس پر اپنے معاشرے کو گالیاں دینے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی روح میں اتر کر تلاش کریں کہ خرابی کہاں پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح کراچی میں کسی شاہ زیب کے قتل کے معاملے میں قصاص و دیت کے نام پر جو شور مچ رہا ہے اور ہمارے منصف اعلیٰ تک کو اس پر تشویش پیدا ہوئی کہ ہم قرآن کے احکامات کا کیسے مذاق اڑا رہے ہیں۔ دونوں معاملات پر میں پہروں تڑپتا رہا ہوں، مگر اس بات کی کھوج لگانے کی ہمت پھر بھی نہیں ہو رہی ہے جو ا ن معاملات کے باطن میں چھپی ہوئی ہے۔
بات در اصل یہ ہے کہ انسان اندر سے درندہ ہے۔ اس کی یہ درندگی کسی صورت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اس کی یہ درندگی تشدد اور دہشت گردی کے واقعات ہی میں نہیں جنسی تشدد اور جنسی دہشت گردی کے واقعات میں بھی ابھر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ دنیا کا رویہ اس بارے میں نرا منافقانہ ہے۔ اپنے اندر کی خباثتوں کو انسان قابو نہیں کر پایا۔ مغرب کے معاشرے میں جانے کیا کیا گندگیاں چھپی ہوتی ہیں۔ ہم مشرق کے لوگ اس غلط فہمی میں تھے کہ ہمارا اندر پاک و صاف ہے۔ ایسا ہے نہیں۔ تو کیا انسان ایسا ہی رہے گا۔ اب تو پیغمبروں کا آنا بھی بند ہوگیا ہے۔
وہ شخص جس نے تھوڑا بہت ادب پڑھ رکھا ہو، وہ گاہے گاہے ایسے کرداروں اور ایسی حرکات کے مکروہ چہروں کے باطن میں جھانکتا رہتا ہے۔ یہ ایک بہت تکلیف دہ عمل ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ ادھر ادھر سے کچھ نقل کر دوں، مگر عرض کیا کہ یہ بڑا مشکل کام ہوگا۔ معاشرے کی بعض برائیاں چھپی رہتی ہیں۔ برطانیہ کی ایک ملکہ وکٹوریہ نے ایک لمبے عرصے حکومت کی غالباً1837ءسے1901ءتک وہ ملکہ برطانیہ رہیں۔ اسی دور میں ہندوستان میں بغاوت ہوئی اور برصغیر باقاعدہ ان کی کالونی بنا۔ اس زمانے کا انگریزوضعداری اور نفاست کا اعلیٰ نمونہ سمجھا جاتا تھا۔ سلطنت برطانیہ میں اسی دور میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ دولت کی فراوانی تھی۔ انگریز قوم کو اپنی تہذیب پر ناز تھا۔ بعد میں راز کھلا کہ اس وضعداری اور نفاست کے پردے میں انتہائی منافقانہ زندگی تھی۔ جنسی طور پر ایسے ایسے خبط اور عارضے تھے کہ انسان بیان نہیں کر سکتا۔ کون کون سی جنسی قباحتیں ہوں گی جو اس دور میں نہ تھیں۔ ذرا ڈھکن اٹھا اور لکھنے والوں نے قلم اٹھایا تو معلوم ہوا کہ اس نفاست کے پردے میں انسان کی ذلتیں اپنے عروج پر تھیں۔ اس عہد کے خاتمے کے بعد گمنام لکھنے والوں کی کتابوں کی بھرمار ہوگئی۔ لکھنے والے اپنا نام ظاہر کرنے سے کتراتے تھے، مگر اس سے پتا چلا کہ معاشرے کے اندر کیا کچھ تھا۔ ایک آدھ گمنام کتاب کے بارے میں تو یہ تک کہا گیا کہ یہ انگریزی کے فلاں نامور ادیب کی لکھی ہوئی تھی۔ بظاہر مہذب، شستہ و شائستہ انسانوں کے باطن خراب تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسی قباحتوں کی کمی نہ تھی، مگر یہ تو نوابوں، راجوں، مہاراجوں کے دربار سے موسوم تھیں۔ یہ تو کھلی عیاشیاں تھیں۔ میں اس معاشرے کا ذکر کر رہا ہوں جو اوپر سے مہذب بنتا تھا، اندر سے شیطان کا پروردہ تھا۔ وہ لوگ اپنے آپ کو خود سے اتنا چھپاتے تھے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں تو انہوں نے ڈی ایچ لارنس جیسے لازوال لکھنے والے کے ناول ”لیڈی چیکنز لیڈ لور“پر پابندی لگا دی۔ ہم سے منٹو کی کتابوں پر مقدمات چلانے کی باتیں لوگ بہت چبا چبا کر کرتے ہیں، ہم تو تھے ہی اور طرح کا معاشرہ، میں اس مہذب معاشرے کی بات کر رہا ہوں جو اپنے گناہ چھپانا چاہتا تھا۔ اس میں نا محرمات(Incest)سے جنسی تعلقات سے لے کر جانے کیا کچھ تھا۔
ہم نے اپنے معاشرے کا کبھی اس طرح جائزہ لینے کی اجازت ہی نہیں دی۔ اسے مذہب پر تبّرا کرنے کا وسیلہ بنایا یا سیاسی تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں سے اسے نتھی کرکے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہا۔ یہ شور مچانے کا محل نہیں، اپنے باطن میں جھانکنے کا سوال ہے۔ جب آپ کسی معاشرے کو سطحی طور پر دیکھتے ہیں تو آپ کی نظر اور ہوتی ہے، مگر سطح کے اندر اتر کر گہرائی میں جا کر دیکھنا ایک تہذیبی عمل ہے۔ یہاں آپ اصل انسان سے ملتے ہیں۔ یہی عمل آپ باطن میں اتر کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تہذیب اور روح کا ملاپ ہوتا ہے۔ ہم نے مسائل کو معاشرتی اور سماجی سمجھا۔ تہذیبی ، روحانی اور انسانی رخ سے سمجھ کر اسے حل کرنے کا نہیں سوچا۔ یہ مغرب کا مسئلہ نہیں، انہیں اگر اس مسئلے کا شعور حاصل ہو جائے تو وہ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ البتہ ضرور ہے کہ ہم انسان کو انسان کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، اسے حیوان سمجھ کر مطمئن نہیں ہو سکتے کہ ہم نے معاملے کی کلید پالی ہے۔
پتا نہیں، میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ہمارے مصلحین، مبلغین کے لئے سوچنے کا محل ہے۔
رہا ویت و قصاص کا معاملہ تو اس نے بھی بہت سے سوال اٹھائے ہیں۔ سب سے بڑا سوال تو لوگوں نے دیت و قصاص کے حوالے سے اٹھا ڈالا ہے۔ کیا اسلام میں قتل صرف ذاتی معاملہ ہے، ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ جو رعایت اس غرض سے دی گئی تھی کہ صدیوں سے اسی قبائلی معاشرے میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم تھا، اس کا تدارک کیا جائے، اس کو اس سرمایہ دارانہ معاشرے میں کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمارے منصف اعلیٰ تک چیخ اٹھے ہیں کہ تم قرآن کو مذاق بنا رہے ہو۔ بنیادی سوال پیدا ہوا کیا اہل خانہ کے معاف کر دینے سے ریاست کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ قتل جیسے گھناﺅنے جرم میں اور وہ بھی سرعام کھلی دہشت گردی کے ساتھ کسی واقعے کے بعد قاتل اس لئے چھوٹ جائے کہ وہ صاحب ثروت ہے۔ اور ریاست اور عدالت اس پر دم سادھے بیٹھی رہےں۔ جس دین میں یہ بتایا گیا کہ تم سے پہلے کی قومیں اس لئے ہلاک ہوئیں کہ ان کے بااثر افراد جرم کرکے چھوٹ جاتے تھے، اس میں اس قانون کا ایسا استعمال کئی سوال پیدا کر گیا ہے۔ خلیفة الرسول اللہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے پہلے ہی خطبے میں فرمایا تھا: تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں اور تمہارا قوی آدمی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس کے ذمے جو حق ہے وہ اس سے لے نہ لوں۔ یہ وہ بصیرت تھی جو انہوں نے دین کے اصولوں اور ہادی¿ برحق اور اپنے مربّی و رہنما سے حاصل کی تھی۔ اگر فاطمہؓ بنت محمد بھی خطا کرے تو اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ جانے حضور نے یہ فقرہ کس دل سے ادا کیا ہوگا۔ مگر دین کے ایک زریں اصول کو سمجھانا مقصود تھا۔
میں کبھی کبھی ایسے مواقع پر سوچتا ہوں کہ اگر شبنم کیس کے مجرموں کو سزا ہو جاتی، تو ہمارے ملک میں امیروں کے بیٹے اس طرح منہ زور نہ ہوتے۔ شبنم کیس بھول گیا ہوگا۔ ہماری بنگالی نژاد اداکارہ کے ساتھ زیادتی کرنے والے لونڈوں کو عدالت نے موت کی سزا سنا دی تھی۔ وہ سب بااثر لوگوں کی اولاد تھے۔ ان میں ایک اس وقت کے اہل بااثر وفاقی سیکرٹری بندیال کا بھتیجا تھا۔ ضیاءالحق پر بڑا دباﺅ تھا۔ وہ بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد، ان چار گواہوں کو معاف کرنا چاہتا تھا جنہیں عدالت نے پھانسی کی سزا سنا رکھی تھی۔ مگر یہ مصلحت کے خلاف تھا، اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ان سے وعدہ کرکے گواہی دلائی گئی تھی۔ انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ صدر نے رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد صدر ضیاءاخلاقی طور پر موت کی سزا کے خلاف رحم کی اپیلیں مانتے ہی نہ تھے۔ کہا جاتا تھایہ اپیل بھی انہیں مسترد کرنا پڑے گی۔
مگر وہ ”مرد مومن“ بااثر افراد کے اس ٹولے کے ہاتھوں جھک گیا۔ شبنم نے معافی دے دی اور ضیاءالحق نے بھی معاف کر دیا۔ تاریخ شاید معاف نہ کرے۔ ان سزاﺅں پر عمل ہوگیا ہوتا تو آج کسی کو قانون اس طرح ہاتھ میں لینے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔
میں نہ ان والدین کی محبت پر شک کرتا ہوں، جنہوں نے اپنے بےٹے کا خون خدا کے نام پر معاف کرنے کا اعلان کیا نہ مجھے اس میں دلچسپی ہے کہ انہوں نے کتنے پیسے وصول کئے۔ میر امسئلہ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کا کیا بنے گا جہاں انصاف بکتا ہو۔
یہ انصاف کا بکنا ہی ہوا۔ جہاں بولی لگتی ہے ،پیسہ خرچ ہوتا ہے، چاہے یہ کسی کو ملے۔ وہاں انصاف کا خون تو ہوتا ہے نا۔ عادت ہم نے خود ڈالی ہے۔ یہ ویت و قصاص کا جدید رستہ بھی ہمیں نے اٹھایا ہے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں۔ قوانین معاشرے کی اصلاح کے لئے ہوتے ہیں، معاشرے کے بگاڑکے لئے نہیں۔ یہی معاملہ اسلامی اور شرعی قوانین کا ہے۔
معاف کیجئے گا، میں کھل کر نہیں لکھ پایا۔ دونوں موضوعات پر۔ اسے میری بزدلی کہئے یا احتیاط۔ معاشرے کے اندر بہت کچھ ہے جو بے نقاب ہونا باقی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *