وزیراعلیٰ سندھ کراچی میں گرمی سے ہلاکتوں کے بارے میں امدادی کام سے بے خبر

Qaim Ali Shah 22-06-2015کراچی میں شدید گرمی سے 600سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد بالآخر وزیراعلیٰ سندھ نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ کہیں نہ کہیں غفلت برتی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں دو دن سے لاڑکانہ میں تھے۔ گزشتہ شب کراچی پہنچنے کے بعد آج پانچویں روز ان کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔ منگل کو سندھ اسمبلی میں اظہارِخیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے زیادہ اموات کا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ڈال دیا۔ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کی صورتحال اور امدادی کاموں سے لاعلمی بھی ظاہر ہوئی۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سندھ میں ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا ادارہ موجود ہے جو کہ نہ صرف بارشوں اور طوفان میں کام کرتا ہے بلکہ ایسی صورتحال سے نمٹنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا 'ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نمبر جو کہ پہلے بھی اخباروں میں آ چکا ہے اور اگر ممبران کو پتا نہیں ہے تو آج پھر یہ نمبر دیں گے تاکہ لوگ ان تک جا سکیں۔'
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یقیناً ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے اپنا کام کیا ہو گا مگر وہ دو دن سے شہر میں نہیں تھے اس لیے اب پی ڈی ایم اے سے اس حوالے سے پوچھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجود این جی اوز نے بھی یقیناً اپنا کام کیا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے سبب ہوئیں مگر بجلی کا محکمہ آئین کے تحت مرکزی حکومت کے دائرے میں آتا ہے جبکہ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کا معاہدہ بھی سندھ حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے ساتھ ہے۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دبئی میں موجود کے الیکٹرک کے مالکان کو کئی مرتبہ فون کیا، جنھوں نے یقین دلایا کہ کراچی میں سرمایہ کاری کریں گے لیکن آج حالات بتاتے ہیں کہ انھوں نے کچھ خرچ نہیں کیا بلکہ لوڈ شیڈنگ سے بھی بزنس مین کی طرح فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی تاریخ میں بہت کم ایسے واقعات ہوئے ہوں گے کہ بجلی یا کسی اور وجہ سے ایک دن میں اتنی ہلاکتیں ہوئی ہوں۔
قائم علی شاہ نے کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے سندھ میں بے شمار ہلاکتوں پر انہیں افسوس ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی مختلف حکومتوں کے ادوار میں قحط آتے رہے ہیں لیکن اموات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ 'ہم سے جوسہولت ممکن ہوئی دیں گے لیکن زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ انھوں نے چیف سیکریٹری سندھ کو شدید گرمی کے باعث صوبے میں تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کو فوری طور پر چھٹی دینے کے احکامات جاری کیے ہیں، تاہم ایمرجنسی اداروں کے ملازمین کام کرتے رہیں گے۔’ہم کراچی سمیت سندھ بھر میں اسکول، کالج اور دفاتر بند کر رہے ہیں‘۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت نے تمام مارکیٹیں رات نو بجے بند کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے جبکہ شہر کے سائن بورڈز کی لائٹیں بھی بند رہیں گی۔
ہسپتال اور ریسکیو اداروں سے موصول تازہ اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں شددید گرمی سے ہلاک ہو نے والوں کی تعداد 520 سے تجاوز کر گئی ہے۔ منگل تک جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی ہے جبکہ عباسی شہید ہسپتال اور سول ہسپتال میں مجموعی طور پر 160 لاشیں لائی گئیں۔ اسی طرح لیاری جنرل ہسپتال میں 17 افراد ہلاک ہوئے جبکہ نجی ہسپتال میں بھی ہلاکتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جہاں صرف لیاقت نیشنل میں اب تک 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی ہسپتال میں ہیٹ اسٹروک کا شکار سینکڑوں مریضوں کا علاج جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *