فوج کی موجودہ اتھارٹی

 Ayaz Amirجب آصف زرداری نے فوج کے بارے میں ناروا باتیں کیں تو وزیرِ ا عظم نے فوراً ہی فون اٹھایا اور ماسکو کے دورے پر گئے ہوئے آرمی چیف کو باور کرایا کہ وہ اُن کے ساتھ ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتِ حال کی اس سے بہتر عکاسی شاید ہی کوئی اور منظر کرتا ہو۔ جب آرمی چیف ماسکو سے واپس آتے ہیں تووہ سیاسی خوشامد پسندوں کے ساتھ فوٹو شیشن کرانے کی بجائے سیدھے خیبر ایجنسی میں جاکر اپریشن میں مصروف جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ آرمی چیف، جنرل راحیل شریف کو یونہی مقبولیت حاصل نہیں۔ آپ کسی فوجی جوان یا افسر سے پوچھیں تو آپ کو فوراً ہی اس بات کا احساس ہوجائے گا۔
موجودہ وزیرِ اعظم وہی ہیں جو گزشتہ سال تنہاپرواز کی کوشش میں تھے۔ جنرل مشرف کے ٹرائل اور میڈیا کے درمیان ہونے والی چپلقش میں وہ فوج کی مخالف صف میں کھڑے دکھائی دیے، لیکن اب تک پی ایم ایل (ن) کے اہم ترین وزرا کی تقاریر اور ررویے مناسب یو ٹرن لیتے ہوئے نہایت ’’ذمہ دار‘‘ ہوچکے ہیں۔ یہاں کسی کے زخموں پر نمک پاشی مقصو د نہیں، لیکن احساس دلانے میں کیا حرج کہ گزشتہ سال سے لے کر اب تک ہم نے بہت سا فاصلہ طے کرلیاہے۔ اور کسی کا تو ذکر ہی کیا، محبی پرویز رشید بھی اپنی نصف کے قریب قوتِ گویائی سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوچکے ہیں۔ خواجہ آصف ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے وہ کاکول سے گریجوئیٹ ہوں جبکہ طالبان کے سب سے بڑے حمایتی اور حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت پر رورو کر آنسووں کے دریابہادینے والے چوہدری نثار علی خان اب فوج کے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔ کون کہتا ہے کہ معجزات کا دور گزرچکا؟
یہ تبدیلی کیسے رونما ہوئی؟ اس کی وجہ ٹرپل ون بریگیڈ کی حرکت کا خوف نہیں تھا اور نہ ہی فوج نے کسی کے سرپر بندوق تان لی تھی۔ دراصل فوج نے تمام تر تحفظات اور خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دھشت گردوں کے خلاف بھرپور جنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایسا کرتے ہوئے یہ سیاست دانوں کی خواہشات اور حکمران جماعت کے ڈراؤنے خواب کو بھی خاطرمیں نہ لائی۔ اگر آپ 2013ء میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کو یاد کریں تو فضا میں مایوسی ،طالبان کے ساتھ معذر ت خواہانہ رویے اوراُ نہیں ہر صورت میں خوش رکھنے کا جادوسرچڑھ کر بول رہا تھا۔ جنرل راحیل اور ان کے کمانڈروں نے چھے ماہ مزید ریت چھاننے کی اس لاحاصل کارروائی کو برداشت کیا۔ اس دوران طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ڈرامہ جاری رہا، لیکن آخر کار فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور سیاست دانوں کو نہایت آسان زبان میں بتادیا گیا کہ’’بس، بہت ہوچکی‘‘۔
اُس وقت شمالی وزیرستان میں کاررائی کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت اورسیاست دانوں کو موقع دیا گیا کہ وہ جوبھی کرسکتے ہیں کرلیں۔ یہ پشاور سکول پر حملے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ وہ حملہ دراصل طالبان کی طرف سے اپریشن ضربِ عصب کا ردِ عمل تھا۔ اُس حملے کا طالبان کو توکوئی فائدہ نہ ہو ا لیکن اس کے نتیجے میں پوری قوم دھشت گردی کے خلاف متحد ہوکر فوج اور پی اے ایف کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ اُس وقت سیاست دانوں کو بھی احساس ہوگیا کہ بہانے بازی کا دور لد چکا ۔ اس سے پہلے وہ بادلِ ناخواستہ اپریشن کی حمایت کررہے تھے، لیکن پشاور سکول حملے کے بعد ان کے پاس ضربِ عصب کی بھرپور حمایت کے علاوہ کوئی چوائس نہ تھی۔پھر اُن کے دل میں یہ خواہش بھی ابھرتی دکھائی دی کہ انہیں اس جنگ کا کپتان سمجھا جائے۔
یہ وہی فوج ہے ، وہی رجنٹس، وہی بٹالینز اور وہی ڈویژنزجنہیں ضیا، مشرف اور پھر کیانی لیڈ کرچکے ہیں، لیکن اُن کے ادوار میں فوج کے پاس ہتھیار تو تھے لیکن اخلاقی اتھارٹی نہ تھی۔ آج ان کے پاس اخلاقی اتھارٹی بھی ہے اور اس کی کارروائیوں کو آئین اور قانون کا تحفظ بھی حاصل ، لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے جوان اور افسران اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ آتش و آہن کے کارزار میں خون دینے والوں کے والدین یقیناًغمزدہ ہوں گے اور یہ فطری بات ہے لیکن وہ اپنے شیر دل بچوں کی قربانیوں پر نازاں بھی ہیں۔ دنیا کے مشکل ترین علاقے میں، شدید سردی اور جھلسا دینے والی گرمی میں فوج ایک سخت جان دشمن سے لڑرہی ہے۔ ہم طالبان کے بارے میں جو بھی رائے رکھتے ہوں، ایک بات طے ہے کہ وہ آسان ہدف نہیں۔ تاہم فوج ، جسے نہایت کاری فضائیہ کا بیک اپ حاصل ہے، نے طالبان کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اُن علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے جو کبھی طالبان کے محفوظ ٹھکانے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ دھشت گردی کے اکا دکا واقعات کہیں نہ کہیں پیش آئیں لیکن کوئی گنوار ہی ہوگا جو کہے گا کہ دھشت گردوں کی کمر نہیں توڑدی گئی۔
فوج ہمیشہ سے ہی ہتھیاروں طاقت رکھتی ہے، لیکن مارشل لا کے دوران اس کے پاس اخلاقی اتھارٹی کمی تھی، چنانچہ اس کی عسکری قوت موثر نہ تھی۔ یاد ہوگا کہ مشرف کے دور میں ایک ایسابھی مرحلہ آیا تھا جب فوجی جوان یونیفارم میں عوامی مقامات پر جانے سے گریزاں تھے۔ آج اس صورتِ حال میں ڈرامائی تبدیلی آچکی ہے کیونکہ فوج کے پاس ہتھیاروں، ٹینکوں، بندوقوں اور جٹ طیاروں کے علاوہ اخلاقی قوت کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ فوج جو کچھ کراچی میں کررہی ہے، اس کے پیچھے یہی اخلاقی قوت کارفرما ہے ورجہ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔یہ رینجرز کے ذریعے لیاری کے جرائم پیشہ گروہوں، ایم کیوایم کی صفوں میں موجود مجرموں، سنی تحریک کے رہنماؤں، مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے کے بعد پی پی پی کی قیادت پر بھی ہاتھ ڈال رہی ہے۔ اس کے باوجود کراچی میں کوئی ہڑتال نہیں ہوئی ۔ کسی نے فوج کی اتھارٹی کو چیلنج کیا اور نہ ہی کسی نے اس کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما، خدا اُن کی عمردراز کرے، اب دانائی کوبہترین دلیری مان کر صورتِ حال کو دیکھ رہے ہیں، لیکن آصف زرداری نے جوشیلی تقریر کرتے ہوئے خود اپنے عدم تحفظ کے احساس کو اجاگر کردیا ہے۔ کھوکھلی چیزیں ہی زیادہ گھونج دار آواز پیدا کرتی ہیں، اور پھر طاقت ور لوگ اس طرح کی دھمکیاں نہیں دیا کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کی جس پارٹی کو جنرل ضیا تباہ نہیں کرسکا، اُسے زرداری صاحب قومی سطح سے گراتے ہوئے ایک صوبے کے ایک حصے تک محدود کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ فوج کے خلاف جارحانہ تقریر کرتے ہوئے وہ اسی طرح کی مزید ’’کامیابی ‘‘سے سرفراز ہوں گے۔ یونانی ڈرامہ نگار یوری پیڈیس کا کہنا ہے...’’دیوتا جس کی تباہی کافیصلہ کر لیں، اُسے عقل سے محروم کردیتے ہیں۔ ‘‘
اس سے پہلے کراچی میں کیا جانے والا ہر فوجی اپریشن ناکامی سے دوچار ہوااور اس سے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوسکے، لیکن آج کل جو کچھ رینجرز کرتے ہوئے مسائل کی جڑ اکھاڑنے کی کوشش کررہے ہیں، ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ اس وقت جہاں بھی خرابی ہے، چاہے یہ ایم کیو ایم ، لیاری ، مذہبی جہادی گروہ ہوں یا بلاول ہاؤس کے مکین، کوئی بھی گرفت سے باہرنہیں ۔ فوجی قیادت کی طاقت کا ایک اظہار یہ بھی ہے کہ یہ کہتی کم اور کرتی زیادہ ہے۔ جنرل راحیل شریف پشاور سے لے کر کراچی تک، ہر جگہ مصروف ہوتے ہیں۔ فاٹا کی جنگ میں وہ اگلے مورچوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس ملک میں ، جہاں قیادت کا بحران دکھائی دیتا تھا، وہ طاقت اور عزم سرچشمہ بن کر امیدوں کے چراغ روشن کررہے ہیں۔ یہ میری طرف سے کی جانے والی خصوصی تعریف نہیں بلکہ عمومی طورپر ملک میں پایا جانے والے قوی تاثر ہے۔ آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ آپ ملک میں کس پر اعتماد کرتے ہیں جو دوسری مرتبہ سوچے بغیر کسی بھی شخص کا ایک ہی جواب ہوگا۔
ہمارے سیاست دان ابھی تک یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک سابق وزیرِ اعظم ترکی کے کسی ہار کے معاملے میں ملوث ، اور جہاں تک موجودہ وزیرِ اعظم کا تعلق ، تو جس دوران فوج ہر جگہ مصروف ہے، ان کے پاس کیا فکری رہنمائی ہے؟شاید یہی کہ اسلام آباد میں ایگری کلچرل ریسرچ کونسل کے 1200 ایکڑکس پرائیویٹ پارٹی کو دیے جائیں۔ اوپر سے ملنے والی ہدایات کے مطابق سی ڈی اے نے اس کی سمری تیارکرلی ہے۔ سیاست دان اور سیاسی مبصرین ایک اور بات فراموش کررہے ہیں.... پاکستان میں جمہوریت ایک بے کیف موضو ع بن چکی ہے۔ اس کے نعرے مارشل لادور میں اچھے لگتے تھے، لیکن جب سے جمہوریت بحال ہوئی ہے، اس نے قومی دولت لوٹنے کے سوااور کیا کیا ہے؟اگر ملک میں بجلی نہیں ہوگی تو کیا لوگ جمہوریت سے پنکھا چلائیں گے؟یقیناًگرمی کے ستائے ہوئے لوگ جمہوریت کی خوبیوں پر لیکچر سننے کے لیے تیار نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *