قرآن حفظ کریں،ایک کنیز مفت حاصل کریں: داعش کا اعلان

ISISرمضان کے مقدس مہینے کے احترام میں انتہا پسند جہادی تنظیم داعش نے قرآن حفظ کرنے کے مقابلے کا علان کیا ہے جس میں انعامات کے طور پر باندیاں دی جائیں گی۔
روایتی طور پر رمضان میں قرآن حفظ کرنے کے مقابلے دنیا بھر میں منعقد کئے جاتے ہیں۔
؂داعش نے شام کے صوبے البرکہ میں اس مقابلے کے انعقاد کا اعلان حسبِ ذیل نوٹس کے ذریعے کیا ہے۔ اعلان میں اس مقابلے کیلئے منتخب کی گئی قرآن کی سورتوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ داعش نے ان سورتوں کا انتخاب کیا ہے جن میں جنگ و جدل سے متعلق آیات ملتی ہیں۔ جہادی رمضان کو جہاد کیلئے بھی بہترین مہینہ سمجھتے ہیں۔ داعش نے گزشتہ برس،یکم رمضان کو خلافت کا اعلان کیا تھا۔
صوبہ البرکہ
دولت اسلامیہ عراق وشام
اعلان
صوبہ البرکہ کے تمام شعبوں میں موجود دولت اسلامیہ کے سپاہیوں کیلئے:
ہم آپ کو رمضان کے رحمتوں بھرے مہینے کی مبارکباد دیتے ہیں۔ خداہم سب کے روزے قبول کرے!
خدا ہم سب کو آگ کے عذاب سے بچائے!
شعبہ دعوہ،مساجد میں اللہ کی کتاب سے کچھ سورتیں یاد کرنے کے ایک مقابلے کے آغاز کا اعلان کرتا ہے۔
یہ سورتیں حسبِ ذیل ہیں:
1۔ سورہ الانفعال 2۔ سورہ التوبہ
3۔ سورہ محمد 4۔ سورہ الفاتحہ
یہ مقابلہ یکم رمضان1436ھ سے 20رمضان تک جاری رہے گا۔
جو کوئی اس مقابلے میں شرکت کرنا چاہتا ہے، اسے خود کو حسبِ ذیل مساجد کے آئمہ کے پاس رجسٹر کروانا ہوگا:
1۔ مسجد ابوبکر صدیق 2۔ مسجد اسامہ بن لادن
3۔ مسجد ابو مصعب الزرقاوی 4۔ مسجد التقویٰ

انشااللہ، مقابلہ کرنے والوں کا 21 رمضان سے 27 رمضان کی تاریخوں کے درمیان امتحان لیا جائے گا۔ انشااللہ، عیدالفطرکے روز انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔
اس مقابلے کے انعامات یہ ہیں:
پہلا انعام: 1 کنیز دوسراانعام: 1 کنیز
تیسراانعام: 1کنیز چوتھا انعام: 100000 شامی لِرا (462ڈالر)
پانچواں انعام: 90000شامی لِرا چھٹا انعام: 80000شامی لِرا
ساتواں انعام: 70000 شامی لِرا آٹھواں انعام: 60000شامی لِرا
نواں انعام: 50000شامی لِرا دسواں انعام: 50000 شامی لِرا

یاد رہے کہ داعش نے ہزاروں خواتین کو اغوا کرنے کے بعد منڈیوں میں فروخت کرکے جنسی غلامی پر مجبور کیا۔ داعش سے بچ جانے والوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا ہے کہ وہ کم از کم 150 ایسی یزیدی لڑکیوں کو جانتی ہے جنہوں نے داشتہ کی قبیح زندگی کو برداشت کرنے پر خودکشی کرنے کو ترجیح دی۔ایک نرس نے بتایا، ’’خودکشی کرنے والی کچھ لڑکیوں کی لاشیں کتوں کے آگے ڈال دی گئی تھیں۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *