الیکٹرونک میڈیا‘ چشم بددور

Intizarکہتے ہیں کہ یہ الیکٹرونک میڈیا کا زمانہ ہے۔ ٹی وی چینل پر کہی ہوئی بات کو پر لگ جاتے ہیں۔ ہونٹوں سے نکلی کوٹھوں چڑھی قریب و دُور اس طرح پھیلتی چلی جاتی ہے جیسے افواہ پھیلتی ہے۔ اور مختلف چینلوں پر جو سیاسی دنگل ہوتے ہیں ان کی مقبولیت کے بارے میں آپ کیا پوچھتے ہیں۔ زندہ ناچ گانے کی مقبولیت تو بس اب محاورے کی حد تک رہ گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر مقبولیت اب ان سیاسی دنگلوں کی ہے جن میں بحث کرنے والے بحث کرتے کرتے بہت جلدی اتنے گرم ہو جاتے ہیں کہ پھر کوئی کسی کی نہیں سنتا۔ پھر ایک ہی وقت میں سب اپنی اپنی بولیاں بولتے نظر آتے ہیں۔ اینکر سوچتا ہے کہ میں کیوں پیچھے رہوں۔ وہ بھی اسی شان سے بحث میں کود پڑتا ہے۔

ان پروگراموں کی مقبولیت اور ان کے واسطے سے الیکٹرونک میڈیا کی مقبولیت اپنی جگہ مگر ہم نے یہ دیکھا ہے کہ علمی و ادبی حلقے اس نو آمدہ ذریعہ ابلاغ کی اس روش سے بہت بد دل ہیں۔ انھیں اعتراض یہ ہے کہ ان چینلوں پر کوئی سنجیدہ علمی مباحثہ یا ادبی مکالمہ تو مشکل ہی سے سننے میں آتا ہے۔ سیاسی سُوجھ بوُجھ سے خالی سیاسی بحثیں اور اسلامی بصیرت سے محروم مذہبی و عظ و پند یہی کچھ یہاں سننے میں آتا ہے۔

اس پر ہمیں پی ٹی وی کا زمانہ یاد آ گیا۔ ایک لمبا زمانہ ایسا گزرا ہے جب آج کی طرح ٹی وی چینلوں کی گھڑ دوڑ نہیں تھی۔ بس اکیلے پی ٹی وی کا راج تھا۔ ویسے تو اس زمانے میں بھی علمی و ادبی حلقوں کو پی ٹی وی سے ایسی ہی شکایت تھی جیسی آج کل کے چینلوں سے ہے۔ مگر ہم سے پوچھو تو وہ زمانہ پھر بھی غنیمت تھا۔ اسی پی ٹی وی پر بھولے بسرے ایسا پروگرام ہو جاتا تھا جو علمی و ادبی حلقوں میں بھی شوق سے دیکھا جاتا تھا اور جس کی علمی و ادبی حیثیت کے ساتھ قومی اہمیت بھی ہوتی تھی۔ ہمیں یاد آیا کہ اس وقت ہمارے علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث بہت گرم تھی کہ پاکستانی کلچر کیا ہے یا یہ کہ ہماری قومی و تہذیبی شناخت کیا ہے۔ پی ٹی وی میں کوئی بھلے مانس بیٹھا تھا کہ وہ اس بحث کو ٹی وی چینل پر لے آیا۔ اس موضوع پر لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں فیضؔ صاحب‘ پروفیسر کرار حسین‘ ڈاکٹر اجمل پیش پیش تھے۔ سنجیدہ حلقوں میں یہ لیکچر بہت دلچسپی سے سنے گئے۔ پھر اس بحث کو اس طرح سمیٹا گیا کہ یہی ہماری ادبی اور علمی شخصیتیں ایک پروگرام میں اکٹھی ہوئیں اور ایک مباحثہ کا اہتمام ہوا۔

ہاں اسی ذیل میں اکا دکا ایسا پروگرام بھی ہو جاتا تھا جیسے ایک لمبے عرصے کے بعد ن م راشد قریب و دور کے ممالک میں وقت گزارنے کے بعد وطن واپس آئے تو لاہور ٹی وی نے انھیں ایک لیکچر کے لیے مدعو کیا اور مختلف ادیبوں کو بلایا کہ آئیے راشد صاحب کا لیکچر سنئے اور ان سے سوال کیجیے۔

ہم ایسوں نے تو ایسے پروگراموں کو بہت سراہا۔ مگر خود ٹی وی والوں کو اپنا یہ تجربہ زیادہ کامیاب نظر نہیں آیا اور وہ اپنی جگہ پر سچے تھے ففٹی ففٹی جیسے مقبول پروگرام کے مقابلہ میں فیضؔ‘ کرار حسین اور ڈاکٹر اجمل کے بحث مباحثہ کو کتنی مقبولیت حاصل ہو سکتی تھی۔ سو یہ ہوا کہ جب آغا ناصر پاکستان ٹی وی کی تاریخ لکھنے بیٹھے تو انھوں نے ٹی وی پر ہونے والے اچھے برے سارے پروگراموں کا تذکرہ کیا۔ بس جو اکا دکا ایسا پروگرام ہوا تھا اسے فراموش کر گئے۔ ہم نے آغا صاحب سے کہا کہ آپ نے بڑی محنت سے یہ تاریخ مرتب کی ہے اور ایک ایک پروگرام کا ذکر کیا ہے مگر وہ جو پاکستانی کلچر پر فیضؔ صاحب‘ کرار صاحب اور اجمل صاحب کے لیکچر ہوئے تھے اس کا بھی ذکر ہو جاتا تو کیا مضائقہ تھا۔ انھوں نے معذرت کی کہا کہ میں بھول گیا۔ صحیح بھولے۔ پاکستان ٹی وی نے ففٹی ففٹی‘ نیلام گھر اور الف نون جیسے مقبول عام پروگرام پیش کیے تھے۔ ان پروگراموں کے ہوتے ہوئے ایسا پروگرام انھیں کہاں یاد رہا تھا۔

پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ پی ٹی وی کا زمانہ غنیمت تھا۔ یہی دیکھ لو کہ ڈرامہ ہمارے یہاں کسی صورت پنپتا ہی نظر نہیں آ رہا تھا۔ پی ٹی وی کے واسطے سے وہ کس آب و تاب سے چمکا کہ سرحد پار کر کے ہندوستان میں جہاں تھیٹر کی مستحکم روایت موجود تھی اس ڈرامے نے ان سے داد حاصل کی۔

اچھا اس کی بھی ایک کہانی ہے وہ بھی سن لیجیے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ابھی لاہور آرٹ کونسل کی عمارت بن کر تیار ہوئی تھی۔ ضیاء الحق کے ہوتے ہوئے آرٹ کونسل پر اتنی توجہ کیسے ہو گئی۔ بس اس زمانے میں پنجاب کا جو فوجی گورنر تھا جنرل جیلانی۔ وہ اس پر تل گیا کہ آرٹ کونسل کی مجوزہ تعمیر کو مکمل کرنا ہے اور فنون کی سرگرمی کو یہاں فروغ دینا ہے۔ اس کے خاص مشیر اس سلسلہ میں جاوید قریشی تھے۔ ان کے ساتھ نعیم طاہر۔ ہال نمبر3 خاص اس مقصد سے تعمیر ہوا تھا کہ یہاں مقبول ڈرامہ تو بڑے ہال میں ہو سکتا ہے لیکن سنجیدہ ڈرامے کا فروغ بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک چھوٹے ہال کی ضرورت ہے۔ ابھی پچھلے سالوں میں ایک مرتبہ پھر یہاں ڈرامے کی سرگرمی نے کسی قدر زور پکڑا تھا۔ سب سے بڑھ کر بانو قدسیہ کے ڈراموں نے یہاں مقبولیت حاصل کی۔

مگر عمارت کے تعمیر ہوتے ہوتے آرٹ کونسل کا انتظام ہی بدل گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے طے یہ کیا کہ آرٹ کونسل کا انتظام بھی سرکاری افسروں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ سو کلکٹر صاحب اس کے چیئرمین ہوں۔ اور پنجاب سیکریٹرٹ سے چھوٹے گریڈ کا کوئی افسر برآمد کیا جائے جو ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے۔ سو ایسا ایک افسر آرٹ کونسل کا ڈائریکٹر بننے کے لیے برآمد کیا گیا۔ اس کی بلا جانے ڈرامہ کیا ہوتا ہے۔ اس نے چونی والے تھیٹر کو خوب بڑھاوا دیا۔ باقی جو ڈرامہ نگار آرٹ کونسل سے لو لگائے بیٹھے تھے وہ مایوس ہو کر ٹی وی کی طرف نکل گئے۔ اچھے بھلے ڈرامہ نگار جو آرٹ کونسل کے چکر میں خراب ہو رہے تھے پکے پھلوں کی طرح ٹی وی کی گود میں جا پڑے۔ وہاں ان کا ہنر خوب چمکا۔ پی ٹی وی کے وارے نیارے ہو گئے۔ پھر ٹی وی ڈرامے نے بہت فروغ پایا۔ اسٹیج ڈرامہ پر اوس پڑ گئی۔

بہر حال یاروں کو آم کھانے سے مطلب ہے نہ کہ پیڑ گننے سے۔ اسٹیج ڈرامہ کیا ہوتا ہے۔ ٹی وی ڈرامہ کا اس کے مقابلہ میں کیا مقام ہے وہ اس چکر میں کیوں پڑیں۔ ٹی وی پر اچھے اسکرپٹ‘ اچھے اداکار‘ اچھے ڈائریکٹر میسر تھے۔ سو یہاں ڈرامہ نے خوب رنگ جمایا اور خوب مقبولیت حاصل کی۔ مگر آج کے ٹی وی چینلوں کی دلچسپیاں اور ہیں۔ سو اب ان کے پروگراموں کا رنگ اور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *