سندھ کی صورتحال

ayeshaکہا جاتا ہے کہ 1843ء میں سندھی ا میروں کے خلاف حیدرآباد کے نزدیک لڑی جانے والی جنگ جیتنے کے بعد برطانوی جنرل سر چارلس جیمز نیپئر نے اپنے بیس میں لاطینی زبان کے ایک لفظ پر مشتمل پیغام بھیجا۔۔۔''Peccavi‘‘۔ اس کا انگریزی ترجمہ ہے:
''I have sinned‘‘۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ ایک برطانوی مزاحیہ میگزین ''Punch‘‘ نے لفظ سندھ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے جنرل نیپئر کی فتح کا اعلان کیا تھا۔ چاہے حقیقت ہو یا مذاق، یہ کہانی پاکستان کے جنوبی صوبے کے اتھارٹی کے مرکز، وہ دہلی ہو یا لندن یا اسلام آباد، کے ساتھ تعلق کو بیان کرتی ہے۔
بلوچستان کی طرح سندھ بھی نوآبادیاتی حکمرانوں کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث نہ تھا۔ 1857ء کی جنگ ِ آزادی یا ''بغاوت ِ ہند ‘‘ کے بعد یہ علاقے برطانوی افواج کے لیے افرادی قوت حاصل کرنے کا متبادل نہیں تھے؛ چنانچہ ان کی اہمیت کم تھی۔ مرکز، مقامی پیروں اور میروں کے ذریعے ان پر حکمرانی کرتا تھا۔ سندھ پر حکومت کرنے والے برٹش آئی سی ایس افسروں میں سے کچھ نے اپنے تجربات کو قلم بند کرتے ہوئے لکھا کہ سندھ کا نظم و نسق بمبئی پریزیڈ نسی سے بھی ، جس کا سندھ کبھی ایک حصہ تھا، بہتر تھا۔ کچھ سرکاری افسروں نے بشمول سندھ ، بر ِ صغیر کے مختلف علاقوں میں فعال جرگہ سسٹم کے موثر ہونے کی بھی تعریف کی۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ علاقے نئے برطانوی نظام ، جیسے مجسٹریسی اور عدلیہ کے تحت کام کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں ان کے پرانے روایتی جرگہ نظام کے تحت ہی چلایا جائے۔
اُس وقت سے اب تک، ان علاقوں کو جدید زندگی کے دائرے میں لانے کے لیے کسی نے ان کے عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حکمران سوچتے ہیں کہ ان علاقوں میں جدت لانے کے لیے ان پر پیسہ بلکہ زیادہ مناسب لفظوں میں''وقت اور توانائی‘‘
کیوں خرچ کی جائے۔ نوآبادیاتی دور میں ان علاقوں کو مقامی سیاسی طاقتوں کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا، بعد میں ریاست نے بھی یہی راہ اپنالی۔ برطانوی دور کے سندھ کی تاریخ کے دامن میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ کس طرح یہاں کے مقامی پیروں اور میروں نے مرکز کی اتھارٹی سے تعاون کیا۔ یہ مثال بھی ملتی ہے کہ پیر آف جھنڈا شریف جیسے پیروں نے علمائے دیوبند کی مزاحمتی تحریک، ریشمی رومال کاحصہ بننے کی کوشش کی، اُنہیں راج کی طرف سے سخت سزا دی گئی۔ اس کے برعکس تعاون کرنے والے پیروں، جیسا کہ پیرآف کنگری اور دیگر کو نوازا گیا۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی اس علاقے کی قسمت میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ پیر اور میر جنہوں نے راج کے ساتھ تعاون کیا تھا، اب وہ تحریک ِ پاکستان اور ریفرنڈم کی حمایت کے لیے بانی ِ پاکستان کے ساتھ ایک نئے معاہدے میں شریک ہوگئے تاکہ ان کی اتھارٹی قائم رہے اور ریاست اُن کی سرپرستی کرتی رہے۔ سچی بات یہ ہے کہ محمد علی جناح نے ایسا ہی معاہدہ پنجاب کے پیروں کے ساتھ بھی کیا تھا۔ چونکہ کراچی اور پنجاب کو پاکستان کے تصور میں مرکزی حیثیت حاصل تھی، اس لیے یہ علاقے اہمیت اختیار کرتے گئے۔ اس انتظام میں صرف وسائل کی تقسیم ہی شامل نہ تھی بلکہ مادی اور ثقافتی طور پر جدید بنانے کے عمل میں علاقوں کے درمیان امتیاز برتا گیا تھا۔
حکمران اشرافیہ کے نزدیک سندھ کی کم اہمیت اس علاقے کے سیاسی معروضات کو نظر انداز کردینے سے عیاں ہوتی ہے۔ حتّی کہ نئی جماعت، پاکستان تحریک ِ انصاف ، جو اپنے سیاسی پیغام کو پنجاب، خیبرپختونخوا اور کراچی میں پھیلارہی ہے، اندرون سندھ کم متحرک ہے۔مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم بھی جنوبی صوبے کا دورہ کرنے سے کتراتے ہیں۔ درحقیقت ہر جماعت اس بات پر ہی اکتفا کرتی ہے کہ وہ یہاں کے سیاسی امیروں یا پیروں کے ذریعے نظم و نسق چلائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام سندھی کے پاس ملک کے دیگر شہریوں کی نسبت کم مواقع میسر ہوتے ہیں۔
آج کل ایک عام کہانی زبان زد ہے کہ پیپلز پارٹی جسے ملک کے دیگر حصوں میں شدید جھٹکا لگا، سندھ میں اس لیے اپنا بچائوکرنے میں کامیاب رہی کیونکہ یہاں عوام کے سامنے کوئی اور متبادل نہیں تھا۔ یقیناً یہ سندھ کے سیاسی ماحول پر ایک افسوس ناک تبصر ہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کو سیاسی افق سے غائب ہوجانا چاہیے، لیکن کسی نہ کسی جماعت کو اس کے آبائی حلقوں میں جاکر اسے چیلنج کرنا چاہیے، شاید اسی طرح یہ پارٹی اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ پیپلز پارٹی کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مالیاتی وسائل کی تقسیم میں خامیوں کو تلاش کرے کیونکہ اس کی حکومت میں عوام تک بہت کم وسائل پہنچ پاتے ہیں، زیادہ تر بالا ہی بالا تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ پارٹی کے چند اعلیٰ عہدیداروں کے ہاتھوں میں طاقت اور اقتدار کا ارتکاز عام آدمی تک وسائل کی منتقلی مشکل بنا دیتا ہے۔ سیاسی چیلنج کے بغیر من پسند نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اپنے دور اقتدار میں انفراسٹرکچر کوترقی نہیں دیتے تو بھی آپ کو کسی سیاسی رد ِعمل یا مسابقت کا خدشہ نہیں رہتا، ا س لیے لازمی طور پر آپ کچھ نہیں کریں گے۔ مجھے یاد ہے،میں نے 2013ء میں لاڑکانہ سے موئن جودڑو تک سفر کیا تھا۔ یہ سڑک نہ ہونے کے برابر تھی حالانکہ اس کی تعمیر کے لیے سیاسی توجہ اور وسائل کی فراہمی کاکوئی مسئلہ نہ تھا۔ سندھ حکومت میں ہونے والی نسبتاً بہت زیادہ بدعنوانی ایک کھلا راز ہے۔ عوامی فنڈز کا سند ھ میں زیاں بہت زیادہ ہے اور یہ چیز عام آدمی کے زندگی کودشوار بنا دیتی ہے۔ افسوس کہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ تمام حکومتوں کے دور میں یہی کچھ ہوتا ہے۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سسٹم کو جسے ہم جاگیردارنہ نظام کہتے ہیں، کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ درحقیقت اسے مشرف دور میں تقویت دی گئی تاکہ وہاں کی اشرافیہ کی حمایت سے وہ اپنے اقتدار کے لیے درکار حمایت حاصل کر سکیں۔ سیاسی اور غیر سیاسی دونوں کھلاڑیوں نے وسائل کو جی بھر کے لوٹا ؛ تاہم دفاعی اداروں کو 9,000 ایکڑ فارسٹ لینڈ دینے کی کارروائی یقیناً قانون کے مطابق ہوگی اور پھر اس کا سیاسی جواز بھی نکلتا ہوگا۔ 1843ء میں بھی زیادہ تر سندھی میر اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ اگر وہ جنرل نیپئر کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے انحراف کریں تو شمالی سندھ کے بہت سے حصے بہاولپور میں شامل کردیے جائیں۔
سندھ میں گورننس صرف کسی کو مورد ِ الزام ٹھہرا کر بہتر نہیں ہوگی۔ اگرچہ سیاسی حکومت انتہائی غفلت کا ارتکاب کررہی ہے لیکن اسے جواز بنا کر کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ غیر سیاسی قوتوں کو وقتی فائدے کے لیے خوش آمدید کہنے کا ہمیشہ نقصان ہوا ہے۔ ان کی وجہ سے دیگر افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں ملتا۔ سندھ کے حالات تبدیل کرنے کے لیے ملک کی سیاسی قوتوںکو ذمہ داریاں نبھانا پڑیں گی۔ دراصل اس صوبے کے ریاست کے ساتھ تعلق اور اپنی سمت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ یقیناً ترقی کی منازل طے کرے گا، لیکن اس کے لیے نظام کی بجائے گورننس کے تصور کو تبدیل کرنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *