پاکستان میں ا نٹر نیٹ کے کسی صارف کاڈیٹا محفوظ نہیں!!

Scienceپاکستان میں انٹر نیٹ صارفین کے لیے ایک بری خبر ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے منکشف کی جانے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں انٹر نیٹ کے تقریباً تمام صارفین کا ذاتی ڈیٹا برطانوی خفیہ اداروں کی دسترس میں ہے۔ برطانوی آن لائن انٹیلی جنس ایجنسی نہ صرف ان معلومات تک رسائی کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ وہ اس قابل بھی ہے کہ وہ انٹرنیٹ ٹریفک کو اپنی مرضی سے موڑ سکے۔ آن لائن پلیٹ فارم ’’انٹر سیپٹ‘‘ میں اینڈریو فش مین اور گراہم گرین والڈ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایڈورڈ سنو ڈن کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز جو انتہائی خفیہ تھی اور اسے برطانوی حکومت کے کمیونی کیشن ہیڈ کوارٹر جی سی ایچ کیو نے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا تک رسائی کے لیے کیسے کوششیں کی گئیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ملکی انٹر نیٹ ایکسچینج میں ایسے امکانات کو یقینی بنایا گیا جن کی مدد سے تقریباً ہر پاکستانی صارف اوراس کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گئی۔ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے اس سارے عمل کو ’’ہیکنگ کا اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اسے انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کی شدید خلاف ورزی قرار دیا۔ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق اور آن لائن حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور ملکی پارلیمان کے اراکین نے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ حکومت شہریوں کے آن لائن ڈیٹا اور ان کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *